اوسلو میں بھٹو کی موت پر کامیاب تھیٹر پیشکش
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- جمعرات 16 / اکتوبر / 2025
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے قبل آخری چند گھنٹوں سے متعلق اوسلو میں ایک مونولوگ ’سزائے موت‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا۔ ڈرامہ نگار اور ہدایت کار ٹونی عثمان تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کا کردار نارویجن اداکار تھورگنی اوندےرَو نے ادا کیا۔
مونولوگ شروع اس طرح ہوا کہ اسٹیج پر روشنی مدھم تھی ۔ ایک کرسی، ایک شخص، اور اس کی گونجتی ہوئی آواز — جیسے وقت خود ٹھہر گیا ہو۔ یہ آواز ذوالفقار علی بھٹو کی تھی، مگر اسٹیج پر بولنے والا کوئی دوسرا تھا: ایک فنکار، تھورگنی اَوندے رَو ، جو تاریخ کے زخموں کو اپنی زبان دے رہا تھا۔ یہ مونولوگ اُس لمحے کی عکاسی تھا جب بھٹو کی زندگی کے چند گھنٹے باقی تھے —
وہ لمحہ جس میں موت قریب تھی مگر شکست نہیں۔ تَھورگنی نے بھٹو کی پوری سیاسی زندگی کو اپنے مکالموں کے تسلسل میں سمودیا۔ ایک طرف سیاست میں ان کی آمد اور عوامی جوش کا منظرنامہ، دوسری طرف اقتدار کی راہداریوں سے گزرنے والی اُن کی جدوجہد — ہر منظر الفاظ سے نہیں، احساس سے تراشا گیا۔ مکالموں کے درمیان موسیقی کی نرم لہریں ابھرتیں، کبھی احتجاج کی صدا بن جاتیں، کبھی یادوں کی دھیمی سرگم۔ یہ موسیقی کسی ساز کی نہیں، تاریخ کے دل کی دھڑکن لگتی تھی۔
مونولوگ آگے بڑھتا ہے تو عدالت کا ذکر آتا ہے — وہ عدالت جہاں انصاف کا لباس پہنے فیصلہ لکھا جا چکا تھا۔ فنکار کے چہرے پر ایک لمحے کو مسکراہٹ آتی ہے، جو طنز اور تلخی کے بیچ کہیں گم ہو جاتی ہے۔ پھر وہ لمحہ آتا ہے جب قید خانے کا دروازہ بند ہوتا ہے اور خاموشی اپنا راج قائم کرتی ہے۔ یہ مونولوگ محض اداکاری نہیں، ایک عہد کا نوحہ ہے۔ اسٹیج پر کھڑا اداکار دراصل تاریخ کا گواہ ہے جو بھٹو کے لہجے میں، وہ سب کہہ رہا ہے جو کتابوں کے حاشیوں میں دب گیا۔
مونولوگ کے اختتام پر موسیقی ایک بار پھر ابھرتی ہے — مگر اس بار وہ ماتم نہیں، عزم کی دھن ہے۔ جیسے تاریخ خود کہہ رہی ہو کہ جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی، وہ صرف نئے روپ میں جنم لیتی ہے۔ یہ مونولوگ صرف ایک کہانی نہیں، ایک تاریخ ہے جو جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ ایک شخص کی موت نہیں بلکہ ایک خواب کی پائیداری کا اعلان ہے۔ آخر میں پھانسی کے وقت بھٹو صاحب لال میری پت رکھیو بلا جھولے لالن کی دُھن پہ رقص کر رہے ہوتے ہیں جو اس بات کی علامت تھی کہ بھٹو نے ہنس کے موت کوگلے لگایا۔
اس یادگار پیشکش کا سب سے نمایاں پہلو تھورگنی اَوندےرَو تھا جس نے ذوالفقار علی بھٹو کا کردار اس شدت، وقار اور احساس کے ساتھ نبھایا کہ لمحہ بھر کو یوں محسوس ہوا جیسے بھٹو خود قید خانے کی کوٹھری سے بول رہے ہوں۔ نارویجن ہونے کے باوجود اُنہوں نے موضوع کی اہمیت اور حساسیت پہ پوری توجہ دی بلکہ اُن میں وہ درد اور فخر بھی بھر دیا جو بھٹو کی شخصیت کی پہچان ہے۔ میک اپ بھی کمال کا تھا۔ بالوں کا انداز بھی بھٹو جیساتھا۔ تھورگنی کی اس شاندار پرفارمنس کا سبب یقیناً ٹونی عثمان کی رہنمائی اور محنت ہے ۔ انہوں نے اسٹیج کی سادگی کو علامت میں بدلا — ایک کرسی، ایک شخص اور اس کی گونجتی آواز — مگر ہر منظر اپنے اندر پورا عہد سمیٹے ہوئے تھا۔
روشنیوں، خاموشی اور موسیقی کے امتزاج سے انہوں نے وقت کو گویا ایک کردار کی حیثیت دے دی۔ ٹونی عثمان نے تاریخی واقعات کو محض بیانیہ نہیں بنایا، بلکہ اُن میں ایک داخلی مکالمہ سمو دیا — وہ مکالمہ جو طاقت، ضمیر اور خواب کے درمیان جاری رہتا ہے۔ ان کے قلم نے تاریخ کو ایک انسانی تجربے میں ڈھال دیا۔ یوں یہ مونولوگ صرف فن کا مظہر نہیں بلکہ احساس، تاریخ اور انسان کے عزم کا ایسا اظہار ہے جو دیر تک ذہنوں میں گونجتا رہتا ہے۔
مونولوگ کے بعد بھٹو صاحب کی سیاست کے بارے میں ایک مذاکرہ ہوا جس میں راقم کے علاوہ نارویجن پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی سپیکر اختر چودہری ، محقق اور ادیبہ ایلزبتھ آئیدے اور تھیٹر کی نگران اوسنے سِنیس نے شرکت کی۔ مذاکرے میں بھٹو صاحب کی سیاسی کمزوریوں اور خُوبیوں پہ گفتگو ہوئی۔ مذاکرے کا لُبِ لباب یہ تھا کہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود بھٹو صاحب ایک وژنری سیاستدان تھے جن کی آج بھی ضرورت ہے۔
ٹونی عثمان نے اس مونولوگ اور مذاکرے کے ذریعے مقامی لوگوں کو پاکستانی تاریخ کے اس باب سے بھی روشناس کروایا جس کا نام ذوالفقار علی بھٹو ہے۔ ان کا یہ اقدام لائق تحسین ہے اور ہمیں اَمید ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح کے تھیٹر ڈرامے لکھتے رہیں گے۔