خیبرپختونخوا میں مفاہمت کی ضرورت

خیبرپختونخوا میں اقتدار کی تبدیلی کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ یوں لگتا تھا کہ اس موقع پر کوئی بڑا بحران پیدا ہو جائے گا، کیونکہ گورنر نے استعفے کی ذاتی تحقیق کے بغیر حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں گورنر فیصل کریم کنڈی کو حلف لینے کا حکم دیا اور اُن کی غیر موجودگی کی صورت میں سپیکر خیبرپختونخوا  اسمبلی کو حلف اٹھوانے کا حکم جاری کیا۔

بہرحال اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے اہم کردار ادا کیا اور گورنر خیبرپختونخوا کو فوراً کراچی سے پشاور پہنچنے کی ہدایت کی۔صوبائی اسمبلی کی اکثریت نے جب اپنا نیا قائد ایوان چن لیا تھا تو پھر اگر مگر کے ذریعے اس فیصلے کو نہ ماننے کی باتیں ایک خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتی تھیں۔وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں جو تقریر  کی وہ کوئی ایسی تقریر نہیں تھی،جس کے بارے میں کہا جائے کہ صوبے کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔وہ معمول کی ایک تقریر تھی جس میں ظاہر ہے جوش میں کہی گئی باتیں بھی تھیں اور اپنی جماعت کے کارکنوں کو حوصلہ دینے کی کاوشیں بھی۔میں سمجھتا ہوں خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے سے  ایسا کچھ نہیں ہو گا جس کے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے چہ میگوئیاں کی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ  کا عہدہ ایک نظام کے تحت چلتا ہے۔ اس کے اردگرد بھی ایک حصار ہوتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ  کے کئی کردار اُس کے اردگرد ہوتے ہیں جو رولز اور نزاکتیں سمجھاتے ہیں۔ پاکستان ایک وفاق ہے اور صوبوں کی حدود و قیود کا آئین میں تعین کر دیا گیا۔سہیل آفریدی اور خود تحریک انصاف کو کسی محاذ آرائی میں پڑنے کی بجائے صوبے میں گڈ گورننس کے لئے کام کرنا چاہئے۔ایک نو عمر ترین وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سہیل آفریدی کے بارے میں مختلف تحفظات بھی ہیں اور اُن سے امیدیں بھی وابستہ ہیں۔ خیبرپختونخوا کوئی عام صوبہ نہیں،یہ قبائلی علاقوں پر بھی مشتمل ہے اور افغانستان کے ساتھ اس کی سرحدیں ملنے کے باعث سکیورٹی کے بھی شدید مسائل موجود ہیں۔ حالیہ دِنوں میں جو کچھ ہوا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ ہمارے سینئر فوجی افسروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا،جس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے اور انہیں تباہ کر دیا۔ اب ایسے معاملات ظاہر ہے کسی بھی ملک میں ہوں تو ملک کا صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف فیصلے کرتے ہیں کہ جواب کیسے دینا ہے،جس طرح امریکہ میں کسی ریاست کا گورنر خارجہ پالیسی یا دفاعی معاملات میں امریکی صدر کے اختیار کو چیلنج نہیں کر سکتا،بھارت کسی جارحیت کا شکار ہو تو کوئی صوبہ جواب دینے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن پاتا،اسی طرح پاکستان اگر بیرون ملک جارحیت کا شکار ہوتا ہے تو اُس کے جواب میں ردعمل کا فیصلہ بھی ملکی قیادت نے کرنا ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ جارحیت کا جواب دینے یا نہ دینے کے معاملے میں آزاد ہے۔

اس سلسلے میں ہونا تو یہ چاہئے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر کسی بھی حکمت عملی کو طے کریں ۔ صوبائی حکومت کو آن بورڈ لے کر فیصلے کئے جائیں گے تو قبائلی علاقوں کے عوام میں جو اشتعال پھیلتا ہے،پھر نہیں پھیلے گا۔نئے وزیراعلیٰ چونکہ ایک بڑے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں،اس پر انہیں بتایا جانا چاہئے کہ کہاں کہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ضروری ہوتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کے امن اور افواجِ پاکستان کے افسروں نیز جوانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ایسی کوئی صورت پیدا نہیں ہونی چاہئے جس سے ہمارا دشمن بھارت اپنے ان ایجنٹوں کے ذریعے ہمارا اَمن تباہ کرے جو اُس نے افغانستان میں بٹھا رکھے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  اگر قبائلی عوام میں یہ شعور بیدار کرنے میں کامیاب رہتے ہیں کہ اپنی صفوں میں ہم نے کسی ملک دشمن کو جگہ نہیں دینی اور اُس کے ٹھکانوں یا سرگرمیوں کے بارے میں خود اطلاع دینی ہے تو یہ خطے میں امن لانے کے لئے ایک بڑی پیشرفت ثابت ہو گی۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ڈرون حملے میں معصوم پاکستانی شہری اور بچے جاں بحق ہو گئے جبکہ حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہاں دہشت گردوں کے ٹھکانے تھے، جنہیں نشانہ بنایا گیا۔پاک افغان جنگ میں اڑتالیس گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی ہوئی ہے۔پاکستان کا مطالبہ بالکل واضح ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردوں اور خوارجیوں کی در اندازی روکے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں بے بس ہے یا جان بوجھ کر بھارت کی وجہ سے ایسا نہیں کرنا چاہتی تو پھر افغانستان کو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔یہ ایک ایسا اصولی موقف ہے جس کی تمام سیاسی جماعتوں بشمول خیبرپختونخوا  کی حکومت کو حمایت کرنی چاہئے۔ہمیشہ یہ بات کی جاتی ہے کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے دور کیا جائے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ افغان حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ اُس کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی  ہے۔وہ تو اس حقیقت کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں جس کے باعث معاملات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ پاکستان کو خود افغانستان میں گھس کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی پر اس لئے بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں ملک کے سب سے زیادہ پیچیدہ صورتحال میں گھر ہوئے صوبے کے وزیراعلیٰ بنے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت تحریک انصاف کا سب سے بڑا ہدف عمران خان کی رہائی ہے اور وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ لیکن ملکی حالات کو بھی دیکھنا ہے اور بھارت کی اُن دھمکیوں کو بھی پیش ِ نظر رکھنا ہے جو وہ اپنی حالیہ  ہزیمت کے بعد زخمی سانپ کی طرح دے رہا ہے۔ان حالات میں افغان وزیر خارجہ کا دورہ  بھارت بے معنی نہیں۔افغانستان اور بھارت میں ایسے تعلقات کی پینگیں تو پہلے کبھی نہیں بڑھیں۔ اس کا مطلب ہے کوئی ایسا ایجنڈا ضرور ہے،جس کا مقصد پاکستان میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا اور اُس کے امن کو تہ و بالا کرنا ہے۔

 یہ کہنا بہت بڑی سادگی ہو گی کہ پاکستان نے افغانستان پر حملہ امریکہ کی خواہش پر کیا ہے۔ کیا امریکہ نے افغانستان کو کہہ رکھا ہے کہ سرحدی علاقے خوارجیوں اور پاکستانی طالبان کے حوالے کر دو تاکہ وہ پاکستان میں ہماری افواج کو نشانہ بنا سکیں۔گیم بہت آگے کی ہے اور اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی یکجہتی کو برقرار رکھ کر فیصلے کئے جائیں۔اس سلسلے میں جس حد تک بھی لچک دکھائی جا سکتی ہے، دکھائی جانی چاہئے، کسی بھی قسم کا ڈیڈ لاک قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)