پاک افغان مذاکرات: امن یا جنگ ، فیصلہ مشکل ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 17 / اکتوبر / 2025
پاکستان اور افغانستان دوحہ میں مذاکرات پر راضی ہوگئے ہیں اور دونوں ملکوں کے وفود ہفتہ کو قطر روانہ ہوں گے۔ تاہم اسلام آباد اور کابل سے جاری ہونے والے بیانات کے علاوہ آج ’ایکس‘ پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیغام کے بین السطور سمجھا جاسکتا ہے کہ ان مذاکرات میں کامیابی کا امکان کم ہے۔ البتہ طرفین داخلی معاملات طے کرنے کے لیے کچھ مزید وقت لینے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ قیاس کرنا بھی مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ اس وقت جنگ سے وقفے اور معاملات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت افغانستان کو ہے ۔ کابل حکومت دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک گروہ پاکستان کے ساتھ ’روس اور امریکہ جیسا سلوک‘ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے طویل جنگ میں الجھا کر کمزور کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی دلیل دی جارہی ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ کو براہ راست ’امن پسند‘ یا پاکستان نواز کہا جاسکتا ہے۔ ان دو دھڑوں میں فی الوقت قندھار گروپ کا پلڑا بھاری ہے۔ ملا ہیبت اللہ کی قیادت میں یہ گروہ ایک طرف افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم ناممکن بنانے اور انٹر نیٹ جیسی سہولتوں کو ’غیر اسلامی‘ قرار دینے کے احکامات پر عمل کرانا چاہتا ہے تو دوسری طرف وہ کسی ایسے عسکری گروہ سے جان چھڑانے پر راضی نہیں ہے جو عین انہی کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان میں بھی شرعی نظام حکومت نافذ کرنے کے لیے جد و جہد کررہا ہے۔
افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کا یہ اتحاد محض وقتی ضرورت یا اسٹریٹیجک مفادات پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں نظریاتی تفہیم اور اشتراک عمل میں پیوست ہیں۔ اس سوچ میں دراڑ ڈالنے کا مقصد یہ ہوگا کہ افغان طالبان خود اپنی نظریاتی اساس سے منحرف ہوجائیں۔ ملا بیبت اللہ اسی عذر کو اپنی طاقت بنا کر پاکستان کے خلاف جنگ کو جائز سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ یہ جنگ پاکستان کو بھی افغانستان کی طرح اسلامی امارت بنانے کے لیے کی جارہی ہے۔ دوسری طرف ٹی ٹی پی نے افغان طالبان و حکومت کی سرپرستی میں گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ کیا ہے اور براہ راست سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔ اس غیر ملکی مداخلت کی وجہ سے پاکستان کے دو صوبے خیبر پختون خوا اور بلوچستان مسلسل دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ پاکستان اس صورت حال سے تنگ آچکا ہے۔ اور اب کسی بھی قیمت پر اس کا خاتمہ چاہتا ہے۔
11 اکتوبر کو پاکستان کے خلاف شروع کی گئی جنگ بھی درحقیقت اسی تنازعہ کے نتیجہ میں شروع ہوئی ہے۔ پاکستان نے دو روز پہلے کابل میں تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانے پر حملہ کرکے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ افغانستان اسے اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے نہ تو کابل حکومت کو نشانہ بنایا ہے اور نہ ہی افغانستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے۔ بلکہ اس خود مختاری کی جنگ میں تو اس نے ہمیشہ طالبان کی جد و جہد کا ساتھ دیا ہے۔ اس کے نزدیک یہ حملہ ان عناصر کے خلاف کیا گیا تھا جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ کابل حکومت اس عذر خواہی کو تسلیم نہیں کرتی۔ اسی لیے پاکستان پر وسیع حملہ کرکے اس فضائی حملے کا جواب لینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم طالبان کے جنگجو پاکستان کی تربیت یافتہ مضبوط فوج کا مقابلہ نہیں کرسکے اور افغان وزیر دفاع کو فوری جنگ بند کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔
پاکستان نے اس اعلان کو قبول نہیں کیا تاہم سرحدوں پر حملے روک لیے لیکن دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی۔ ان حملوں کی سرکاری طور سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں لیکن میڈیا میں جو خبریں سامنے آئی ہیں ، ان کے مطابق پورے افغانستان میں ایسے عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں سے پاکستان کے خلاف حملے کرنے کی منصوبہ بندی کا شبہ تھا۔ اسی لیے دو روز پہلے افغان فورسز نے پھر سے کے پی اور بلوچستان میں محاذ کھولنے کی کوشش کی اور منہ کی کھائی۔ اسی لیے کابل نے عارضی جنگ بندی کی درخواست کی اور پاکستان 48 گھنٹے تک جنگ روکنے پر راضی ہوگیا۔ آج اس جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب تک دوحہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔
البتہ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے دونوں ملکوں نے یہ دعویٰ کرنا ضروری سمجھا کہ اسے فریق مخالف کی درخواست پر مانا گیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے تاکہ دوحہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ سامنے آجائے۔ دوسری طرف کابل میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی اردو کے نمائیندے سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے ۔ یہ اقدام پاکستان کی درخواست پر کیا گیا‘۔ دو روز پہلے بھی 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ’عسکری کمانڈروں سے کہا گیا کہ اگر ان کے خلاف جارحیت نہ ہو تو وہ جنگ بند کردیں‘۔ امن کی خواہش میں جنگ جویانہ لب و لہجہ میں بات چیت کے اس طریقے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اس پر مستزاد یہ کہ بھارتی حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر طالبان حکومت کی حوصلہ افزائی کررہی ہے، جس سے افغان طالبان کو امید ہوچلی ہے کہ بھارت جیسے پاکستان دشمن اور بڑے ملک کی مدد مل جائے تو وہ طویل عرصے تک پاکستان کو انگیج رکھ کر اسے عسکری طور سے کمزور کرسکتے ہیں یا اس کی معیشت پر کاری ضرب لگاسکیں گے۔ البتہ بھارتی امداد کے بارے میں طالبان کے قیاسات نقش بر آب ثابت ہوسکتے ہیں۔ بھارت نے پاک افغان جنگ کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا اور نہ ہی افغانستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ درپردہ وہ ضرور افغان طالبان کو کچھ مدد فراہم کرے گا لیکن عالمی سطح پر شدید سفارتی تنہائی کا شکار مودی حکومت براہ راست افغانستان کی عسکری امداد نہیں کرسکے گی۔ تاہم طالبان ان سفارتی باریکیوں پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ اسی لیے پاکستان پر پہلے حملہ کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نئی دہلی کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ اس سے پاکستان کو یہ یقین کرنے میں مدد ملی کہ بھارت ، افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف محاذ گرم کرنا چاہتا ہے ۔ اگرچہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کی تردید کی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا تازہ ترین بیان اس حوالے سے پاکستانی سوچ اور طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’ ہماری کوششوں اور قربانیوں کے باوجود کابل سے مثبت ردعمل نہیں آیا۔ اب افغانستان، بھارت کی پراکسی بن گیا ہے۔ یہ دہشتگردی کی جنگ بھارت، افغانستان اور کالعدم ٹی ٹی پی نے مل کر پاکستان پہ مسلط کی ہوئی ہے‘۔ وزیر دفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دوحہ مذاکرات کا آغاز ہونے والا ہے اور اس کے ذریعے جنگ بند کرنے اور باہمی مسائل کا حل تلاش کرنے کی امید کی جارہی ہے۔ ایسے موقع پر کابل اور اسلام آباد کو یکساں طور سے نرم طرز گفتگواختیار کرنے کی ضرورت تھی لیکن طرفین اس سے متضاد رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک ٹھوس وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے امن اور جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط واضح کردی ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ کابل حکومت غیر مشروط طور پر ٹی ٹی پی کی سرپرستی سے باز آجائے اور ان عناصر کی سرکوبی کی جائے ورنہ یہ کام پاکستان خود کرلے گا۔ اسی لیے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’ اب امن کی اپیلیں نہیں ہوں گی، وفد کابل نہیں جائیں گے۔ دہشت گردی کا منبع جہاں بھی ہوگا ،اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی‘۔ یہ تحریک طالبان کے خلاف کارروائی کو افغانستان کے اندر لے جانے کا اعلان ہے۔ افغان طالبان اگر اسے اپنے ملک کی خود مختاری پر حملہ سمجھیں گے توپاکستان کسی بھی جنگی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔
خواجہ آصف نے پاک افغان تعلقات کے بارے میں بعض دلچسپ معلومات بھی شئیر کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے 2021میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان نے امن قائم کرنے اور افغانستان سے دراندازی روکنے کے لیے حکومت نے متعدد کوششیں کیں۔وزیرِخارجہ نے کابل کے 4 دورے کیے، وزیرِ دفاع اور آئی ایس آئی کے 2 دورے ہوئے۔نمائندہ خصوصی اور سیکریٹری نے کابل کے 5، 5 دورے کیے۔نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ایک مرتبہ کابل گئے۔جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے 8 اجلاس ہوئے، 225 بارڈر فلیگ میٹنگز اور 836 احتجاجی مراسلے اور 13 ڈیمارش کیے گئے۔2021سے لے کر اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے 10 ہزار 347 واقعات میں 3 ہزار 844 افراد شہید ہوئے۔ شہدا میں سول، فوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔ ہماری کوششوں اور قربانیوں کے باوجود کابل سے مثبت ردِعمل نہیں آیا۔
وزیر دفاع نے پاکستان کی پوزیشن واضح کرنے کے علاوہ افغان پناہ گزینوں کی مسلسل واپسی کو ضروری قرار دیا۔ آج وفاقی کابینہ نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ جس افغان شہری کے پاس پاکستان کا باقاعدہ ویزا نہیں ہوگا، اسے واپس بھیجا جائے گا۔ دباؤ کے ان ہتھکنڈوں سے اسلام آباد درحقیقت چاہتا ہے کہ دوحہ بات چیت میں افغانستان، پاکستان کی تمام شرائط مان کر اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے۔ البتہ کابل سے دوحہ جانے والے وفد کے پاس یہ مطالبات مان لینے کا مینڈیٹ نہیں ہوگا۔ اس پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان فوری طور سے جنگی حالات ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔