وزیر دفاع کی قیادت میں پاکستانی وفد افغان طالبان سے مذاکرات کرے گا: دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد آج دوحہ میں افغان طالبان کے نمائندوں سے مذاکرات کرے گا جس کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر بات چیت کرنا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر بات چیت کرنا اور پاک-افغان سرحد پر امن و استحکام کی بحالی ہے۔ پاکستان کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا تاہم وہ افغان طالبان حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کریں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ افغان طالبان پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے تصدیق شدہ کارروائی کریں۔ خاص طور پر فتنۃ الخوارج یعنی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنۃ الہندوستان یعنی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف کارروائیاں کریں۔ پاکستان قطر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ وزیرِ دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد کی قیادت میں افغان حکومت کا ایک وفد پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قطر روانہ ہو گیا ہے۔