غزہ امن معاہدہ

شرم الشیخ میں بائیس عرب اسلامک اور یورپین ممالک کی موجودگی میں امریکی پریذیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں اس امن معاہدے کی تحسین کی جارہی ہے۔ اسے امن کی نئی صبح سے تعبیر کیاجارہا ہے۔

اس معاہدے کی برکت سے نہ صرف دو برسوں سے جاری غزہ وار رک گئی ہے بلکہ اسرائیل کے 20یرغمالی اور بدلے میں رہا ہونے والے 1966 فلسطینی قیدی اپنے گھروں میں پہنچ چکے ہیں۔ 28اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں بھی ان کے پیاروں تک پہنچ رہی ہیں۔ اس تاریخی موقع پر شرم الشیخ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے نام لے لے کر تمام شریک ممالک کا شکریہ ادا کیا، بالخصوص عرب جمہوریہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کا جنہوں نے اس عالمی اجلاس کی ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ میزبانی کی۔ ٹرمپ نے قطر یونائیٹڈ عرب امارات، ترکیہ کے ساتھ جارڈن اور سعودی عرب کے کراؤن پرنس کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ غزہ جنگ ختم ہوچکی ہے۔ اس وقت انسانی امداد کے سینکڑوں ٹرک خوراک ادویات اور دیگر سامان لیے غزہ میں داخل ہورہے ہیں۔ آج ہم نے تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کےساتھ نیا خوبصورت دن طلوع ہورہا ہے۔ اب تعمیر نو کا عمل شروع ہوگا۔ ہم ایسے خطے کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو مضبوط مستحکم خوشحال اور دہشت گردی کی راہوں کو ابدی طور پر مسترد کرنے والا ہوگا۔ ہم نے وہ کام کیا ہے جو ناقابلِ یقین سمجھا جارہا تھا۔ کہاجارہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز مڈل ایسٹ سے ہوگا۔ آج ہم نے اس سوچ کو غلط ثابت کردیا ہے، جو یہ سمجھتے تھے کہ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں۔

شرم الشیخ معاہدے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں اصل متحارب دونوں فریق اسرائیل اور حماس موجود نہیں تھے۔ معاہدے کی دستاویز پر دستخط کرنے یا ذمہ داری لینے والوں میں امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ کے ساتھ ترک پریذیڈنٹ طیب اردوان، مصری صدر جنرل السیسی اور قطری امیر شیخ تمیم تینوں قائدین تھے۔ واضح طور پر ملاحظہ کیا جاسکتا تھا کہ اسرائیل کو اگر کوئی اس معاہدے کی شرائط ماننے پر مجبور کرسکتا ہے تو وہ خود امریکی پریذیڈنٹ ہے۔ اسی طرح غزہ میں حماس کو اگر کوئی نکیل ڈال سکتے ہیں تو وہ خود عرب ممالک ہیں۔ یہی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مصری صدر السیسی ، قطر کے امیر شیخ تمیم اور ترکیہ کے پریذیڈنٹ اردوان نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکا کے عالمی اتحادیوں کی موجودگی میں کیا جارہا تھا ۔ مدعا واضح تھا کہ اب اگر حماس نے چوں چرا کی تو عرب اسلامک ممالک امریکی ویسٹرن الائیز کی معاونت سے انہیں کنٹرول کریں گے۔ اس حوالے سے زیادہ رول خود امریکی پریذیڈنٹ کے ہاتھوں میں ہوگا۔ دستخط کیے گئے معاہدے کی شق نمبر 9 کے مطابق یہ امر واضح ہے کہ ’غزہ کو ایک عبوری ٹیکنیکل فلسطینی کمیٹی کے تحت چلایا جائے گا جو غیر سیاسی ہوگی۔ اس کمیٹی میں فلسطینی اور بین الاقوامی ماہرین شامل ہوں گے جس کی نگرانی ایک نیا عالمی ادارہ بورڈ آف پیس کرے گا جس کے سربراہ خود امریکی پریذیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔ جبکہ وہ اپنی سہولت کی خاطر دیگر عالمی رہنماؤں جیسے کہ ٹونی بلیئر یا جسے وہ بہتر سمجھیں اس کا تعاون لے سکیں گے۔ یہ “بورڈ آف پیس” غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک اور فنڈنگ فراہم کرے گا جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی اصلاحات مکمل کرکے اس کا کنٹرول نہ سنبھال لے‘۔

آگے شق نمبر10 اور گیارہ میں وہ تفصیلات ہیں جن کے مطابق ٹرمپ ایک اقتصادی ترقیاتی منصوبہ متعارف کروائیں گے جس کی تفصیل یہ ہے کہ مڈل ایسٹ کے جدید شہروں کی طرز پر غزہ کی تعمیر نو کرتے ہوئے عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیداکیے جائیں گے۔ آرٹیکل چھ کے مطابق حماس کو پوری طرح غیر مسلح ہونا پڑے گا۔ درویش کی نظروں میں اصل پھڈا اسی ایشو پر پڑے گا۔ حماس والے جونہی اس حوالے سے مزاحمت کریں گے تو معاہدے کی عین مطابق ان کے خلاف ٹرمپ کی نگرانی میں عسکری کارروائی کی جائے گی، بشمول ترکیہ عرب اسلامک ممالک اس مرحلے پر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

اس سلسلے میں شرم الشیخ کے عالمی اجلاس میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی تقریر بڑی اہمیت کی حامل ہے جنہوں نے اپنی اس تمام تر عرب کاوش کا کریڈٹ سابق مصری صدر انورالسادات کو دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہید صدر نے 1977 میں اس حوالے سے کاوشیں شروع کردیں تھیں۔ پھر کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی مطابقت میں انہوں نے 1979 میں خود یروشلم پہنچ کر اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کی بنیادیں رکھیں۔ اور ہم مصری تب سے لے کر آج کے دن تک اپنے مرحوم صدر انور السادات کی پالیسی کے مطابق پرامن ہمسائیگی کے ساتھ معاملات آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہماری موجودہ امن کاوش اسی اپروچ کا تسلسل ہے۔ ہم اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں اور کسی نوع کی دہشت گردی یا خون خرابے کی قطعی حمایت نہیں کرتے۔ آج امریکی صدر مڈل ایسٹ میں قیام امن کے لیے جو جدوجہد کررہے ہیں، ہم پوری دلجمعی کے ساتھ ان کی معاونت کررہے ہیں اور امن کے لیے صدر ٹرمپ کی خدمات پر ان کے شکرگزار ہیں۔

اسی 13اکتوبر کے روز شرم الشیخ کانفرنس میں آنے سے پہلے پریذیڈنٹ ٹرمپ نے اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ میں جو تاریخی خطاب کیا، مڈل ایسٹ کی تازہ صورتحال کو سمجھنے اور آنے والے ماہ و سال میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا ادراک کرنے کے لیے ٹرمپ کے اسرائیلی کینسٹ سے خطاب میں پنہاں پوائنٹس سے بہت کچھ سمجھا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو بار بار یونہی نہیں کہہ رہے کہ وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے بڑا اسرائیل کا دوست کوئی نہیں آیا۔ انہوں نے ہمارے لیے جدوجہد کا حق ادا کردیا ہے۔ ہم پریذیڈنٹ ٹرمپ پر لاکھ تنقید کریں، ایک سو ایک اختلاف کریں، مگر ان کی اس صلاحیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ وہ جس طرح پیہم اسرائیل کے اعتماد پر پورے اترے ہیں، اسی طرح اپنے عرب اتحادیوں کو مطمئن کرتے ہوئے انہیں بھی پوری طرح ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ جہاں نیتن یاہو سے معافی منگوانی پڑتی ہے، اس سے بھی گریز نہیں کرتے۔

اس موقع پر بھی ان کی منشا یہ تھی کہ وہ نیتن یاہو کو اپنے ساتھ بٹھا کر شرم الشیخ  لے آتے، اپنے عرب اتحادیوں سے ان کی ملاقات یا بات چیت کا موقع پیدا کرتے۔ مگر اپنے ترک اتحادی اور فرینڈ اردوان کی خوشنودی کا خیال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اس اقدام کو مؤخر کردیا۔
اس تاریخی موقع پر امریکی پریذیڈنٹ نے پاکستان اور اس کے “پرائم منسٹر شریف” اور جنرل کو جو اہمیت دی وہ بھی بلاشبہ تاریخی تھی۔ جو شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ انہوں نے جس طرح پاکستانی پرائم منسٹر کو خطاب کی دعوت دی اور پھر ہمارے بلند پرواز نے جو کچھ بولا وہ زبردست اور اخیر تھا، جس کی توقع شاید ٹرمپ خود بھی نہیں کررہے تھے۔ اسی لیے ٹرمپ نے کہا کہ اب تو بات ہی ختم ہوگئی ہے۔۔ کہنے کو پیچھے کچھ بچا ہی نہیں ہے آؤ ہم اپنے گھروں کو چلتے ہیں، گڈبائی۔

ٹرمپ کی خوشی دیدنی تھی۔ البتہ اپنے دوست انڈیا کا ذکر کرتے ہوۓ یہ ضرور کہا کہ میں آپ دونوں ممالک کے اچھے تعلقات چاہتا ہوں۔ بلند پرواز  نے آنکھ مارتے ہوۓ اس کی تائید کی۔ شہبازشریف کے اس فی البدیہی خطاب پر جلے دل والے جیسے چاہیں اور جتنے چاہیں پھپھولے پھوڑتے رہیں، مگر سچائی یہی ہے کہ شہباز  نے پورا بھرا میلا لوٹ لیا۔ ایسے کہ ویسٹرن طاقتور ممالک کے سربراہان بھی انہیں رشک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اگرچہ ہمارے کئی لوگ تنقید بھی کر رہے ہیں۔ بہرحال اس خطاب کا تفصیلی جائزہ اگلے کالم میں۔