ڈی این اے میں پوشیدہ راز

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں بہاول پور کے گورنمنٹ صادق ڈین ہائی سکول میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ نذیرصاحب ہمیں بائیولوجی پڑھایا کرتے تھے۔ انسانی جسم کی ساخت اور سیلز کے بارے میں پڑھاتے ہوئے انہوں نے ہم طالب علموں کو ڈی این اے اور کرو موسومز کے بارے میں بتایا۔

ان ابتدائی اور بنیادی معلومات کی وجہ سے ڈی این اے میرے لئے ایک دلچسپ سائنسی حوالہ بن گیا اور اس سلسلے میں ہونے والی ہر سائنسی تحقیق میرے لئے تجسس کا باعث بن گئی۔ گزر نے والے تیس چالیس برسوں میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے ریسرچ کر کے اس بارے میں ایسے ایسے انکشافات کئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ڈی این اے یعنی ڈی آکسی رائبویوکلیک ایسڈ یا ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کا لفظ اور نام اب اکثر لوگوں کے لئے اجنبی اور ناموس نہیں رہا۔ مجرموں کی سرکوبی سے لے کر بیماریوں کے علاج اور شجرہ نسب کا پتہ لگانے تک کیلئے ڈی این اے اور اس سے متعلق معلومات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

ویسے تو گزشتہ ایک صدی کے دوران ڈی این اے کے بارے میں دنیا بھر کے سائنسدانوں نے تحقیق کرکے میڈیکل سائنس کو جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کرنے میں بے مثال کام کیاہے۔ لیکن اس سلسلے میں برطانوی سائنسدان سر ایلک جان جیفریز نے جنیٹیک فنگر پرنٹنگ اور ڈی این اے پروفائلنگ پر جدید تحقیق کرکے جوٹیکنیک متعارف کروائی ہے آج اُسے پوری دنیا میں فورنک سائنس کے بنیادی حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جینیٹکس کے پرو فیسر ایلک جیفریز آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں اور انہیں ڈی این اے پر جدید تحقیق کی وجہ سے دنیا بھر کے معتبر سائنسی اداروں اور درسگاہوں کی طرف سے درجنوں ایوارڈز اور اعزازات مل چکے ہیں۔ بچوں میں وراثتی بیماریوں کا پتہ لگانے اور ان امراض کی اگلی نسلوں میں منتقلی کو روکنے کے لئے بھی ڈی این اے پر تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ انسان کی شخصیت، عادات، خاندانی پس منظر اور ممکنہ بیماریوں کے ان گنت راز ڈی این اے میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک میں ایسی تحقیقاتی لیبارٹریز موجود ہیں جو انسانی تھوک اور خون کے نمونوں سے ڈی این اے حاصل کر کے وراثتی پس منظر اور حقیقی خونی رشتوں کی صداقت سے آگاہ کرتی ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال ہزاروں لوگ معمولی رقم ادا کر کے ان لیبارٹریز سے اپنے خاندان اور حقیقی رشتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ بہت سے انگریز یہ معلوم کرنے کے لئے کہ اُن کے آبا و اجداد کون تھے، اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرواتے ہیں تو انہیں پتا چلتا ہے کہ ان کے دادا پڑدادا آئرش، رومن یا جرمن تھے۔ بہت سے گورے اور گوریاں یہ جاننے کے لئے بھی ڈین اے ٹیسٹ کرواتے ہیں کہ اُن کا حقیقی باپ کون ہے۔ بہت سے لوگوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اپنے گم شدہ بہن بھائیوں اور رشتے داروں کا سراغ بھی مل جاتا ہے۔

جب برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور ٹوری پارٹی کے سربراہ بورس جانسن کا ڈی این اے کے ذریعے شجرہ نسب معلوم کیا گیا تو پتا چلا کہ ان کے پڑدادا علی کمال کا تعلق ترکی سے تھا۔ اسی طرح کئی تاریخ دانوں کا دعوی ہے کہ آنجہانی ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم کی43ویں پشت کا تعلق عرب کے مسلمان قبیلے بنو ہاشم سے جاملتا ہے۔ اس اٹل حقیقت کو دنیا کے تقریباً تمام مذاہب تسلیم کرتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر پہلے انسان حضرت آدم اور حوا تھے۔ حضرت آدم کو خالق کائنات نے پیغمبر کا منصب سونپ کر اس زمین پر اتارا تھا اور بلاشبہ ہم سب آدم و حوا کی اولاد ہیں اسی حوالے سے میری ایک غزل کا مقطع ہے:
ابن آدم ہوں اس لئے فیضانؔ
مجھ کو پیغمبروں سے نسبت ہے

مجرموں کا سراغ لگانے کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ نے جو انقلاب برپا کیا ہے، اس کی وجہ سے اب تک پوری دنیا میں لاکھوں بلکہ کروڑوں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لندن میں میرے ایک دوست کے بزنس پارٹنر جو خود کو نجیب الطرفین سید قرار دیتے تھے، جب انہوں نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ (مائی ہیریٹیج) کروایا تو انکشاف ہوا کہ اُن کے پڑداد ہندوؤں کے براہمن خاندان سے تھے۔ اس انکشاف کے بعد میرے دوست اپنے بزنس پارٹنر کو چھیڑنے کے لئے علامہ اقبال کایہ مصرع ضرور پڑھتے تھے کہ یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جس طرح لوگ اپنی ذات پات کی وجہ سے خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے اور اپنے آپ کو اعلی و ارفع قرار دیتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں تو معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کون تھے اور ان کا وراثتی پس منظر کیا تھا۔

انسانی ڈی این اے میں کئی بار ایسی تبدیلی (میوٹیشن) پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کئی طرح کی بیماریوں اور امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور اس کے رویے یکسر تبدیل ہونا شروع ہو جاتے۔ مجھے یاد ہے کہ چند برس پہلے لندن میں کیمسٹری کے ایک پاکستانی پروفیسر نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ پاکستانی قوم کے ڈی این اے میں خرابی (تبدیلی) پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ مجموعی طور پر کرپشن، بے ایمانی، ہیرا پھیری، چکر بازی، دو نمبری، ملاوٹ اور منافقت کی بیماریوں اور خود فریبی کے امراض میں مبتلا ہوگئی ہے۔ ڈی این اے کی یہ خرابی کس طرح دور ہو سکتی ہے؟ یہ تو پاکستانی قوم کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں یا پھر وہ لوگ اس بارے میں کوئی بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں جو ڈی این اے کی اس خرابی کے ذمہ دار ہیں۔

برطانوی سائنس دانوں نے گزشتہ صدی کے آغاز سے ہی ڈی این اے میں پوشیدہ رازوں کا بھید جاننے کے لئے تحقیق اور جستجو کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اس ضمن میں فرانسس کرک، روز النڈفرینکلن، موریس وکنز اورولیم ایسٹ بری کی ریسرچ اور کوششوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ سائنس دان تھے جنہوں نے ڈی این اے کے بارے میں بنیادی تحقیق کر کے اپنے بعد آنے والوں کے لئے مزید انکشافات کی راہیں ہمو ار کیں۔ ایک زمانہ تھا کہ معمولی بیماریوں اور وباؤں کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے تھے۔ لیکن سائنسی تحقیق کی وجہ سے نہ صرف امراض کی تشخیص ممکن ہوئی بلکہ ان کہ علاج معالجے کے لئے موثر طریقے دریافت کئے گئے۔

جدید سائنسی تحقیق اب ڈی این اے سے وابستہ انسانی صحت، امراض اور وراثتی خصوصیات کے راز جانے کے لئے اپنی ترجیحات متعین کر چکی ہے۔ ڈی این اے کی اہمیت و افادیت اور ضرورت کا اس حقیقت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صرف چند گرام انسانی ڈی این اے میں پوری دنیا کا ڈیٹا سٹور کیا جا سکتا ہے۔ ہر زندہ چیز کے ڈی این اے میں کرومو سومز کی ایک مخصوص تعداد ہوتی ہے اور یہ کرو موسومز جوڑوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ انسان کے ڈی این اے میں 46 کروموسومز  23 جوڑوں کی شکل میں موجود ہوتے ہیں جبکہ بندروں کے ڈی این اے میں کر موسومز کی تعداد48 یعنی 24جوڑے ہوتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کروموسومز کی تعداد میں ذرا سا فرق انسان اور جانور میں تفریق کرتا ہے۔

میڈیکل سائنس اپنی تمام تر تحقیق کے باوجود انسانی جسم کی ساخت اور کیمسٹری کو بہت معمولی حد تک سمجھ پائی ہے۔ انسانی جسم کا ایک سیل اور اس میں موجود ڈی این اے اور کرو موسومز کا راز ہی ابھی تک سائنس دانوں کو پوری طرح سمجھ نہیں آیا۔ پورا انسان اور اس کی کیفیات اور روحانی معاملات تو اس کے علاوہ ہیں۔ انسان اور خاص طور پر ذہین اور غور کرنے والے انسان خالق کائنات کے کرشموں اور معجزوں کی حقیقت اور بھید کو جاننے کے لئے ازل سے برسر پیکار ہیں۔ انسان جتنا جتنا اپنے پروردگار کی تخلیق کردہ اشیا (جاندار و بے جان) پر غور کرتا ہے اس پر نئے نئے انکشافات ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی لئے رب تعالی نے قرآن پاک میں باربار اپنے بندوں کو غور کرنے کی تلقین کی ہے اور غور کرنے والوں کو نشانیوں کی نوید دی ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ آج ہماری دنیا میں جو قومیں غور و فکر کر کے قدرت کی نشانیوں تک رسائی حاصل کررہی ہیں، اُن کے لئے ترقی اور خوشحالی کے رستے ہموار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور یہی اقوام نئی نئی دریافتوں اور ایجادات سے بنی نوع انسان کو حیران اور مستفید کر رہی ہیں۔

بد قسمتی سے ہم مسلمان اپنی کتاب ہدایت کو صرف پڑھنے تک محدود رکھتے ہیں اس کے مندرجات کی حقیقت کو سمجھنے اور غور کر نے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ ہم میٹھے اور ٹھنڈے چشمے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے بھی پیاسے ہیں۔ جبکہ دیگر اقوام اس کا ئنات کی حقیقتوں کے راز جاننے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ خالق کائنات ہمارے حال پر اپنا کرم فرمائے۔