وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی

  • جمعرات 23 / اکتوبر / 2025

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان( ٹی ایل پی ) پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ٹی ایل پی پر انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی لگانے کی منظوری دی گئی۔

وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے ایجنڈے میں ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی سمری شامل تھی۔ وفاقی کابینہ نے سمری کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ٹی ایل پی پر انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی۔

پنجاب حکومت نےٹی ایل پی پر پابندی لگانےکی سفارش وفاقی حکومت کو بھجوا رکھی تھی۔ خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 2021 بھی ٹی ایل پی پابندی لگائی گئی تھی۔ بعدازاں 7 ماہ کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے غزہ کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 10 اکتوبر کو لاہور سے احتجاجی مارچ شروع کیا تھا اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹی ایل پی کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے ٹی ایل پی کے کارکنان نے مریدکے اور سادھوکے میں دھرنا دے دیا تھا۔ اس دوران پولیس کے کریک ڈاؤن میں ٹی ایل پی کے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔

اس بارے میں وزیر مملکت  طلال چوہدری نے کہا تھا کہ جن احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا، ان سے پولیس پر حملہ کرنے کے لیے شیشے کی گولیاں، نمک، نقصان دہ کیمیکل، ڈنڈے، فیس ماسک، آنسو گیس کے گولے اور گنز برآمد ہوئی ہیں۔ کیا یہ پرامن احتجاج ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کے پرتشدد احتجاج کے پیش نظر 17 اکتوبر کو پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دیتے ہوئے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کردی تھی، جس پر آج وزیراعظم کے زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی گئی۔