تحریک لبیک پر پابندی اور مذہبی جنونیت
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 25 / اکتوبر / 2025
وفاقی کابینہ نے دہشت گردی اور پرتشدد کاروائیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر مذہبی و سیاسی جماعت تحریکِ لبیک (ٹی ایل پی) کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دینے کی منظوری دی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 2016 سے قائم اس تنظیم نے پورے ملک میں شرانگیزی کو ہوا دی، پرتشدد احتجاجی جلسوں اور ریلیوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کو مارا گیا، تاہم حتمی فیصلے کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا جہاں تنظیم کو اپنےدفاع کا پورا حق ملے گا۔ حکومتِ پاکستان کا یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی جانب سے 17اکتوبر کو بھیجی گئی سمری کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 13اکتوبر کو مریدکے میں علی الصبح ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹی ایل پی کا احتجاجی دھرنا ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا تھا جس میں بہت سے پولیس والوں سمیت خاصی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اور کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں چالیس کے قریب سرکاری و نجی گاڑیاں اور کچھ دکانیں بھی جلائی گئیں۔ تب پنجاب کی چیف منسٹر مریم بی بی کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں پر زمین تنگ کردی جائے گی اور انتہا پسندی کو کچل دیا جائے گا۔ لاؤڈ سپیکرز کا بے مہابا استعمال بھی روکا جائے گا۔
پنجاب کی خاتون منسٹر عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ ٹی ایل پی کے امیر کی مسروقہ و غیر مسروقہ جائیدادیں اور 95بنک اکاؤنٹس سیل کر دیے گئے ہیں۔ منافرت پھیلانے والی ٹی ایل پی کی مساجد محکمۂ اوقاف کی تحویل میں دے دی گئی ہیں اور ان کے 223 مدارس کی جیوٹیگنگ کرلی گئی ہے۔ کسی مسجد یا مزار کومسمار نہیں کیاجارہا۔ البتہ ان کے کئی مدارس سرکاری زمینوں پر بنائے گئے ہیں جن کا ان کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ۔ ٹی ایل پی کی قیادت اپنے کارکنان کو پولیس پر حملوں کے لیے اکساتی رہی اور اسلحہ کے زور پر پولیس کی گاڑیاں چھینی گئیں۔ ان کے احتجاج میں جھوٹی لاشوں کے جعلی پروپیگنڈے کیے گئے تاکہ خون خرابہ ہو۔ ہمارے ایک سو اٹھارہ پولیس والوں کو گولیاں لگیں بہت سے زندگی بھر کے لیے اپاہج ہوگئے، ٹی ایل پی کی مالی معاونت کرنے والوں کی فہرستیں بھی تیار کر لی گئی ہیں۔
پچھلے دنوں ڈیفنس منسٹر نے بھی یہ کہا تھا کہ یہاں ہمارے ملک پاکستان میں مذہب کے نام پر مسلح جتھے تیار کیے جاتے رہے ہیں جو اب ریاست کو قبول نہیں اب ملک قانون اور آئین کے مطابق چلے گا۔ اس سوال پر کہ یہ جتھے کون تیار کرتا رہا ؟ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب جانتے ہیں‘۔ کوئی بھی مذہبی انتہا پسند جماعت جو لوگوں کو مارے، املاک کو نقصان پہنچائے، اسے قبول نہیں کیاجائے گا۔ یہ بھی واضح رہے کہ مریدکے میں اس مسلح تنظیم کے خلاف کریک ڈاؤن سے پہلے مذاکرات کی طویل کاوشیں ہوئیں تاکہ احتجاج کو پرامن طور پر ختم کروایا جاسکے مگر ٹی ایل پی کا پیہم یہ اصرار رہا کہ حکومت ان کے تمام گرفتار شدگان کو رہا کرے جن میں بہت سے دہشت گردی کی دفعات کے تحت زیر حراست کارکنان بھی تھے جو سرکاری املاک جلانے اور پولیس اہل کاروں پر حملے کرنے، انہیں مارنے اور زخمی کرنے میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ ان کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ ٹی ایل پی کے امیر کے گھر سے جو ملکی و غیر ملکی کرنسی اور سونا برآمد ہوا ہے وہ سب کچھ بلا تفتیش پچیس کروڑ کی صورت انہیں لوٹایا جائے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے 2021 میں بھی اس متشدد تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا اعلان ہوا تھا مگر نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر بعد ازاں وہ پابندی واپس لے لی گئی۔ 2017 میں جب ان لوگوں نے فیض آباد میں طویل دھرنا دیا تھا جس نے اس علاقے میں رہنے والوں کی زندگیاں اجیرن بناڈالی تھیں اس دھرنے کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ یہ تبھی کی بات ہے جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس حوالے سے اپنا ایک تاریخ ساز تفصیلی فیصلہ صادر کیا تھا جس میں ٹی ایل پی کے پرتشدد احتجاج کو پاکستان میں آئین قانون، جمہوریت، مذہبی رواداری، انسانی حقوق اور آزادیوں کے خلاف ایک سازش قراردیا گیا۔ اصولاً اسی وقت تشدد اور منافرت پر ایمان رکھنے والی اس تنظیم کو باضابطہ طور پر کالعدم قراردیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن درویش عرض گزار ہے کہ تشدد اور مار دھاڑ پر یقین رکھنے والی تنظیموں کو محض کالعدم قراردینے سے سماج کو ان کے ٹیرر سے چھٹکارا نہیں دلایاجاسکتا تاوقتیکہ نظریاتی طور پر ان کی پھیلائی ہوئی شرانگیز اور منافرت بھری جنونی مذہبی اپروچ کو پبلیکلی دلائل کے ساتھ غلط ثابت کرتے ہوئے اپنی نئی نسلوں کے اذہان کی صفائی و دھلائی نہیں کی جاتی۔
کالعدم تو پہلے بھی کئی جماعتوں کو کیاجاتا رہا ہے لیکن وہ نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ اپنا دھندہ چلانے کے لیے سوسائٹی میں اسی طرح براجمان ہوجاتی رہیں مثال کے طورپر یہاں لشکرطیبہ کو کالعدم قراردیا گیا تو انہوں نے اپنے نئے نام جماعۃ الدعوۃ سے کام شروع کردیا، اسے ختم کیا گیا تو انہوں نے اپنا نام فلاح انسانیت فاؤنڈیشن رکھ لیا، اس پر کارروائی ہوئی تو وہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نام سے سامنے آگئے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال سپاہ صحابہ، سپاہِ محمد اور جیش محمد کے حوالوں سے بھی ہوئی۔
اس انتہا پسند مذہبی تنظیم کی 2016 سے لے کر اب تک کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو واضح ہو گا کہ اس سے بھی پہلے جب گورنر تاثیر کو قتل کیا گیا اس سانحہ کی حمایت میں جو نفرت انگیز مذہبی تصور پوری ڈھٹائی سے پھیلایا گیا، اندھوں کو بھی دکھائی دے رہا تھا کہ اس اپروچ کے بڑھنے سے ہمارا سماج خوفناک حد تک برباد ہوجائے گا۔ درویش کو ایک مرتبہ جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب نے اپنے سالانہ منعقد ہونے والےپروگرام میں بلایا، وہاں تقریر کرتے ہوئے علمائے اہلِ سنت کی خدمت میں یہ سوال رکھا کہ آپ لوگ تو صوفیائے کرام کو ماننے والے اور ان کی انسان نواز تعلیمات کے پرچارک رہے ہیں، آپ درود والے بارود والے کیوں بن گئے ہیں؟ بعدازاں کئی علما نے بڑی محبت کےساتھ وضاحتیں فرمائیں کہ ہم لوگ تو وہی ہیں لیکن ہمارے اندر سے ایک الگ گروہ مفاداتی چکروں میں اس دہشت کی لائن پر چل نکلا ہے۔ ہم بھی ان سے اتنے ہی دکھی ہیں جتنے آپ۔
اس متشدد گروہ نے نہ صرف پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کا جینا حرام کردیا بلکہ کلمہ گو مسلمانوں کو بات بات پر توہین اور سر تن سے جدا کی دھمکیاں شروع کردیں۔ نہ صرف دھمکیاں بلکہ جہاں ممکن ہوا بالفعل انسانی جانوں کی حرمت کو جو ہمارے عقیدےمیں کعبے سے بڑھ کر بیان کی گئی ہے، ان کی پامالی کی۔ درویش اس تنظیم کے قیام یا ظہور کو حسن بن الصباح کے حشیشین کی مانند دیکھتا چلا آرہا ہے جس نے قلعہ حضرالموت میں جو گل کھلائے اور اپنے دو رکے سماج کی جو بربادی کی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
آج بھی اگر ہم اپنے سماج کو واقعی ایک مہذب انسانی سوسائٹی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اختلافِ رائے کے حق کو ہیومن رائٹس کا حصہ مانتے ہوئے باہمی مکالمے کی اپروچ کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ چاہے عقائد کا جتنا بھی ٹکراؤ ہو انسانی جان سے بڑھ کر اس کائنات میں کوئی نظریہ کوئی سوچ یا اپروچ نہیں۔ ہر عقیدے کا توڑ ہوسکتا ہے مگر کسی کو مار کر کبھی کوئی زندہ نہیں کرسکتا۔ بابا بلھے شاہ سرکار نے کیا خوب فرمارکھا ہے کہ چاہے آپ دنیا کی مقدس سے مقدس عبادت گاہ کو توڑ دیں مگر کسی انسان کے دل کو نہ توڑیں۔ لیکن بابا بلھے شاہ جی کو کیسے بتاؤں کہ یہاں دل کیا، دماغ، شعور اور انسانیت سب کا قتلِ عام روا رکھا جارہا ہے۔
بلاشبہ حکومتی فیصلہ قابلِ تحسین ہے مگر سوسائٹی کے لیے اس کے ثمرات تب تک برآمد نہیں ہوسکتے جب تک آپ لوگ حریتِ فکر اور آزادئ اظہار کے دریچے نہیں کھلنے دیتے ہو اور مذہب کے سیاسی و مفاداتی استعمال کو نہیں روکتے ہو۔