پابندی لگانے سے تشدد اور انتہاپسندی ختم نہیں ہوگی!

اس ماہ کے شروع میں مریدکے میں رونما ہونے والے سانحہ کے بعد  حکومت نے تحریک  لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا نوٹی فیکیشن جاری کردیا ہے۔ اس جماعت  کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے  علاوہ  اس کے دفاتر و مساجد  کو سیل کرکے  سرکاری انتظام میں لے لیا گیا ہے۔ ٹی ایل پی کے  قائد سعد رضوی اپنے بھائی اور دیگر متعدد لیڈروں سمیت روپوش ہیں جبکہ  سینکڑوں  کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔

مریدکے سانحہ میں پولیس والوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ سانحہ ٹی ایل پی کی ضد اور ریاست سے تصادم کا راستہ اختیار کرنے  کی وجہ سے رونما ہؤا تھا۔ اس میں  کوئی شبہ  نہیں ہے کہ سعد رضوی اور ان کے ساتھیوں نے اپنی  ناعاقبت  اندیشی کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو اشتعال پر اکسایا اور گمراہ کن نعروں کی بنیاد پر انہیں ایک ایسے مقصد کے لیے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ  پر آمادہ کیا  جسے حل کرانے میں نہ تو حکومت پاکستان کوئی کردار ادا کرنے کی  پوزیشن میں تھی اور نہ ہی پاکستان میں غزہ یا فلسطین کے سوال پر کوئی بڑا اختلاف رائے موجود ہے۔ حکومت سمیت  ہر کس و ناکس غزہ پر اسرائیلی چڑھائی اور دو سال کے دوران ہزاروں معصوم شہریوں کی زندگیاں تلف کرنے کے جارحانہ اور انسانیت سوز رویہ  کو مسترد کرتا ہے۔   اس ساری مدت میں مختلف تنظیمیں احتجاج و مذمت کا راستہ بھی اختیار کرتی رہی ہیں۔

تاہم ٹی ایل  پی  نے غزہ کے فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے ایک ایسے موقع پر اسلام آباد  میں امریکی سفارت خانے کی طرف جانے کا  ارادہ ظاہر کیا جب حماس سمیت  تمام مسلمان ممالک ٹرمپ کے امن معاہدہ کو تسلیم کرچکے تھے ۔اور اس کے تحت یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوچکا تھا۔ دو سال کی طویل مدت  کے بعد غزہ پر اسرائیلی بمباری بند ہوگئی تھی اور امداد کی ترسیل بھی شروع کردی گئی تھی۔ گویا غزہ کے شہریوں کو طویل مدت کے بعد سکھ کا سانس لینے اور اپنی زندگیوں کو  ایک بار پھر ترتیب دینے کا موقع ملا تھا۔ اس موقع پر  اہل غزہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اگر تحریک لبیک پاکستان  اسرائیل کی مذمت یا امریکی منصوبے سے اختلاف رائے کرنا چاہتی تھی تو یہ کسی بیان یا جلسے کی صورت میں بھی کیاجاسکتا تھا۔  البتہ یہ راستہ اختیار کرنے کی بجائے ٹی ایل پی نے  اپنے شدت پسند کارکنوں کو اکٹھا کیا اور انہیں مختلف قسم کے  ہتھیاروں سے لیس کرکے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کردیا۔ اس پرتشدد اور اشتعال انگیز احتجاج  کو آزادی رائے اور مظاہرے کے حق کے نام پر جائز قرار دینے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

احتجاج میں توڑ پھوڑ ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر حملے کرنے کے  طریقے اختیار کرنے والے سارے گروہ  احتجاج کو جمہوری حق قرار دیتے ہوئے یہ فراموش کرتے رہے ہیں کہ یہ حق اس حقیقت سے مشروط ہوتا ہے  کہ احتجاج کرنے والا کوئی گروہ یا تنظیم پر امن رہے گا اور اس کے کارکن نہ تو مسلح ہوں گے اور نہ ہی سرکاری املاک یا ملازمین کو نشانہ بنایا جائے گا۔  لیکن بدقسمتی سے  تحریک لبیک اور متعدد دیگر گروہ ان شرائط کو تو فراموش کردیتے ہیں لیکن جمہوریت کے نام پر احتجاج کرنے کے حق  کی یاددہانی کرانا یاد رکھتے ہیں۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ ایسے طرز عمل اور قانون شکنی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک لبیک کو  پر امن طریقے سے منتشر ہونے کی  درخواست مسترد کرنے پر ریاستی قوت  کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بارے میں کوئی بھی رائے  دی جاسکتی ہے کہ پولیس نے ضرورت سے زیادہ یا کم طاقت استعمال کی لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ٹی ایل پی اپنا بے بنیاد  احتجاج غیر قانونی ہتھکنڈوں سے جاری رکھنا چاہتی تھی۔

اس قیاس آرائی کا کوئی  نتیجہ نہیں نکل سکتا تھا کہ ٹی ایل پی نے آخر ایک ایسے موقع پر کیوں فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی  کے لیے لانگ مارچ کا ارادہ کیا جب معاملات طے ہورہے تھے۔ دوسرے پاکستان ایک طویل عرصہ کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کامیاب ہؤا تھا اور ٹرمپ انتظامیہ پاکستانی حکومت کے ساتھ اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر تعاون پر آمادہ  ہورہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت اور اس حوالے سے امریکہ کے ماضی میں کردار پر بھی  نا ختم ہونے والی بحث کی جاسکتی ہے لیکن اس سچائی سے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ اور آج بھی اہم عالمی و علاقائی معاملات میں اس کے اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس تناظر میں امریکہ کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خیر سگالی کا رشتہ پاکستان کے وسیع  تر اسٹریٹیجک مفاد میں ہے۔ ٹی ایل پی اپنے احتجاج کے ذریعے   پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس  پر تشدد ہجوم کو اگر اسلام آباد جانے اور نام نہاد آزادی اظہار کے نام پر امریکی سفارت خانے کے باہر ہنگامہ آرائی کی اجازت دی جاتی تو اس کا سب سے پہلا نشانہ پاک امریکہ تعلقات  بنتے جو  پاکستانی حکومت کے لیے قبول کرنا ممکن نہیں تھا۔

تحریک لبیک  پاکستان  2015 میں اپنے قیام کے بعد   سےمتعدد احتجاج و دھرنوں کا اہتمام کرچکی  تھی۔ ان میں  2017 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف دیا گیا مشہور فیض آباد دھرنا بھی شامل تھا جسے بعد میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں سرکاری اداروں کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد  2021  میں فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے مطالبے پر بھی احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا جسے طاقت کے زور پر روکنا پڑا اور اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے ٹی ایل پی پر پہلی بار پابندی لگائی۔ البتہ یہ پابندی ٹی ایل پی کے ساتھ ’ثالثی‘ کرانے والے بعض علما کے اصرار پر ختم کی گئی تھی  ۔تحریک لبیک نے تحریری  طور پر تشدد کی سیاست سے  رجوع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس وعدے اور ضمانت پر عمل نہیں ہوسکا جس کے نتیجے میں مرید کے کا سانحہ پیش آیا۔ اس  موقع پر  2021 میں ٹی ایل پی کے ضامن بننے والے علما  بھی   سعد رضوی اینڈ کمپنی کو عقل کے ناخن لینے  پر آمادہ نہیں کرسکے۔ اب حکومت نے پابندی  لگانے کا   باقاعدہ  حکم جاری کردیا ہے ۔  آئین کے مطابق حکومت اس بارے میں سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرے گی۔ سپریم کورٹ کا حکم ہی حتمی فیصلہ ہوگا۔

اس قانونی طریقے سے قطع نظر سیاسی و سماجی   پہلو سے دیکھا جائے تو کسی گروہ یا سیاسی جماعت پر پابندی لگانے اور اسے ایک خاص نام  استعمال کرنےسے  منع  کرنے کا کوئی عملی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ متعلقہ گروہ و افراد کسی نئے نام سے  اپنے پرانے ایجنڈے  پر عمل کا آغاز کردیتے ہیں۔ مذہبی شدت پسندی اور عقیدے میں تشدد کا رجحان  روشناس کرانے کا موجودہ مزاج جاری رہا تو   تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا  بھی وہی حشر ہوگا کہ  یہ عناصر کسی نئے نام سے ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے میدان عمل میں سرگرم ہوجائیں گے۔  اس لیے کسی گروہ پر پابندی کی بجائے ملکی قوانین  مؤثر  اور عدالتیں فعال ہونی چاہئیں تاکہ  فوری طور پر  مروجہ قوانین  کے تحت کسی بھی فرد یا تنظیم  کی گرفت ہوسکے اور انہیں اپنے جرم  کی سزا بھگتنا پڑے۔  دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت یہ مشکل اور جائز راستہ اختیار کرنے کی بجائے ایک تنظیم پر پابندی لگا کر  خود سرخرو ہونا چاہتی ہے۔ حالانکہ یہ غیر معمولی  طریقہ خود حکومت کی کمزوری  و ناکامی پر دلالت کرتا ہے۔

ملک میں انتہا پسندی اور مذہب کے نام پر شدت پسندی عام سماجی رویہ کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ٹی ایل پی نے   ایک دہائی کے دوران اس انتہا پسندی میں اضافہ کیا ہے لیکن انتہا پسندی کی سرپرستی کرنے والوں میں دیگر سیاسی و مذہبی گروہوں کے علاوہ خود حکومتی لیڈر  بھی شامل رہے ہیں۔  یہ طریقہ کار  تبدیل  کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی معاملات کو مذہبی نعرے بازی سے علیحدہ کیے بغیر ملک میں مذہبی شدت پسندی اور اس کا پرچار کرنے والے گروہوں و لیڈروں کو کمزور کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے  ملکی سلیبس میں  افہا و تفہیم، قوت برداشت، صبر اور بین المذہبی ہم آہنگی کا درس شا مل کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی 2014 کے قومی ایکشن پلان کے تحت تمام مذہبی مدارس کے سلیبس کی پڑتال کرکے اسے متوازن اور وسیع  المشربی کے اصول  کے مطابق ترتیب دینے کے لیے اقدامات  کیے جائیں۔ جو مذہبی  تنظیمیں و لیڈر اس  راستے میں مشکلیں کھڑی کرنے کی کوشش کریں، ان کے ساتھ ویسے  ہی سختی سے نمٹا جائے جیسے کسی بھی قانون شکن کے ساتھ سلوک کرنا ضروری ہوتا ہے۔

حکومت کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ ٹی ایل پی پر پابندی سے سماج میں اچانک تبدیلی واقع ہوجائے گی۔ بلکہ اس تبدیلی کے لیے  ٹھوس اقدامات کرنے، سیاست کو مذہب سے فاصلے پر رکھنے اور  گروہی یا فرقہ واریت کی بنیاد پر منافرت کا خاتمہ کرنے کی اشد ضرورت ہوگی۔