پاک امریکہ دوستی اور مارکو روبیو کا بیان
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 26 / اکتوبر / 2025
امریکہ کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے مراسم کے بارے میں قومی طور پر بھی مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن عالمی سطح پر بھی انہیں توجہ دی جارہی ہے۔ خاص طور سے یہ تعلقات ایک ایسے موقع پر بہتری کی طرف گامزن ہوئے ہیں جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں دوری دیکھنے میں آرہی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جو ایک زمانے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا عزیز از جان دوست بتانے میں فخر محسوس کرتے تھے اور انڈیا کے علاوہ واشنگٹن میں بھارتی تارکین وطن کے تعاون سے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے عظیم الشان جلسہ منعقد کرچکے تھے، اب ٹرمپ سے ملنے یا فون پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے ملائشیا میں منعقد ہونے والی آسیان سربراہی کانفرنس میں دو دن پہلے شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور اس کی بجائے اس کے اجلاس میں ورچوئیل شریک ہونے کو ترجیح دی ہے۔ بعض تجزیہ نگار اسے امریکی صدر سے براہ راست ملاقات سے بچنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ٹیرف کے سوال پر تنازعہ کی روشنی میں بھارتی وزیر اعظم کے لیے اپنے ’پرانے دوست‘ سے مل کر اس معاملہ میں پیش رفت کا ایک اچھا موقع تھا۔
البتہ امریکی صدر نے گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارت کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا ہے، مودی حکومت اس بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہے۔ ایک طرف ٹرمپ بھارت کو عظیم ملک اور مودی کو اچھا دوست کہتے ہیں تو دوسری طرف بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرکے اسے باور کرانا چاہتے ہیں کہ امریکہ بھارتی کی خارجہ پالیسی سے مطمئن نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک امریکہ اس حد تک بھارت کے زیر اثر تھا کہ ایران پر پابندیوں کے باوجود انڈیا کو وہاں چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی۔ اور یوکرین جنگ کے باوجود اس بھارتی پالیسی کو قبول کیا گیا کہ وہ روس سے تیل خریدتا رہے۔ اب ان دونوں معاملات پر ٹرمپ نے سخت گیر رویہ اختیار کیا ہے۔ انڈیا پر روسی تیل خریدنے کے ’جرم‘ میں 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ ابھی تک باہمی مذاکرات کی سطح پر طے کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔
پالیسی معاملات پر اصولی تنازعہ سے قطع نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تین رویوں سے نریندر مودی اور بھارتی حکومت کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سب سے اہم پہلو مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ اور چوتھے روز ہونے والی سیز فائر کا معاملہ ہے۔ صدر ٹرمپ علی الاعلان اس کا کریڈٹ لیتے ہیں اور پاکستانی حکومت نے بڑھ چڑھ کر اس دعوے کو حقیقت مانا ہے۔ بلکہ حکومت پاکستان نے نارویجئن نوبل کمیٹی کو ایک خط میں 2026 کا نوبل امن انعام امریکی صدر کو دینے کی سفارش کی ہے۔ 13 اکتوبر کو شرم الشیخ میں غزہ امن کے لیے منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر دو ٹوک الفا ظ میں ٹرمپ کو امن کا سب سے بڑا چیمپئن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں پاک بھارت جنگ رکوانے پر نوبل امن انعام ملنا چاہئے ۔ یہ جنگ جاری رہتی تو لاکھوں لوگ ہلاک ہوسکتے تھے۔
اس کے برعکس بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ یا امریکہ کے کسی کردار کو ماننے پر تیار نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی جسے بھارت نے مان لیا تھا ۔ اس میں کسی دوسرے ملک کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ واقعاتی طور سے یہ مؤقف درست ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کے پیچیدہ تعلقات میں جنگ بندی اتنا آسان معاملہ نہیں تھا کہ دونوں ملک اسے آپس میں ہی طے کرلیتے۔ تاہم بھارت چونکہ یہ اصولی مؤقف اختیار کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام معاملات وہ خود دوطرفہ بات چیت کے ذریعے طے کرسکتا ہے، اس لیے جنگ بندی میں ٹرمپ کی مداخلت کو تسلیم کرنے سے اسے یہ ماننا پڑے گا کہ مشکل وقت میں تنازعہ حل کرنے کے لیے بھارتی حکومت کو امریکی صدر کی صورت میں ثالث کی ضرورت پیش آئی تھی۔ اس لیے نئی دہلی کی طرف سے دبے لفظوں میں صدر ٹرمپ کے دعوؤں کی تردید کی جاتی ہے لیکن ٹرمپ نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران تسلسل سے پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ جب جب ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں ، نئی دہلی میں مودی حکومت کو اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صدر ٹرمپ سے بھارت کی مایوسی کی دوسری وجہ صدر ٹرمپ کا تسلسل سے یہ دعویٰ کرنا ہے کہ پاک بھارت جنگ میں چھے سات فائیٹر جیٹ مار گرائے گئے تھے۔ امریکی صدر نے کبھی یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ کس ملک کے طیارے تباہ ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن پاکستان نے جنگ کے پہلے ہی روز دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کے رافیل طیاروں سمیت پانچ فائٹر مارے گئے ہیں۔ بعد میں بھارتی ذرائع اور بین الاقوامی ماہرین نے بھی پاکستانی دعوؤں کی تائد کی۔ البتہ بھارت نے کبھی اپنے فائٹرز کا نقصان تسلیم نہیں کیا۔ اس پس منظر میں ٹرمپ کی طرف سے بار بار فائٹر تباہ کرنےکا ذکر بھارت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتا ہے۔ بھارتی حکومت نہ تو امریکی صدر کے بیان کی تردید کرپاتی ہے اور نہ ہی اس حقیقت کو مان کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ مودی کو یہ خوف بھی لاحق ہوگا کہ منہ پھٹ ٹرمپ دوبدو ملاقات میں کہیں ان دو نوں معاملات کا براہ راست ذکرکرکے انہیں سیاسی طور سے نقصان نہ پہنچادیں۔
بھارتی مایوسی بلکہ پریشانی کی تیسری وجہ پاکستانی لیڈروں کی طرف صدر ٹرمپ کا التفات ہے۔ وہ متعدد مواقع پر پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی توصیف کرچکے ہیں ۔ آج ہی کوالامپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو شاندار لیڈر قرار دیا اور ان پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے شرم الشیخ میں ٹرمپ ، عاصم منیر کو اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کہہ چکے ہیں۔ نئی دہلی کے لیے امریکی صدر کے پاکستان کے بارے میں تحسین آمیز بیانات فطری طور سے تشویش کا سبب ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے امریکہ سے گہرے تعلقات استوار کیے تھے اور یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ بحر چین میں چینی طاقت کا مقابلہ کرنے اور عالمی تجارتی مسابقت میں امریکہ اور مغربی ممالک، بھارت کے ذریعے چین کا سامنا کرسکتے ہیں۔ البتہ صدر ٹرمپ کے پاکستان کی طرف رجحان اور بھارت کے ساتھ سخت سفارتی رویہ کی وجہ سے بھارتی حکومت کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں حقیقی پریشانی لاحق ہوئی ہے۔
اس پس منظر میں امریکی وزیر خاجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اگر پاکستان سے نزدیک ہورہا ہے تو اس سے بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ’دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مضبوط ہوتے تعلقات کا تعلق واشنگٹن کے نئی دلی کے ساتھ تعلقات سے نہیں ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی رہی ہےلیکن میرا خیال ہے کہ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمیں بہت سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے پڑتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم جو کچھ بھی پاکستان کے ساتھ کر رہے ہیں، وہ ہمارے بھارت کے ساتھ تعلقات یا دوستی کی قیمت پر ہے‘۔ اس وضاحت کے بعد یہ تسلیم کرلینا چاہئےکہ بھارت ایک ضروری اور بڑا ملک ہے جو امریکہ کے لیے کئی لحاظ سے اہم ہے۔ وقتی اختلافات کے باوجود دوونوں ملکوں کے بہت سے مشترکہ مفادات ہیں ، اس لیے یہ تعلقات گہرے اور وسیع ہیں۔ البتہ پاکستان کی طرف امریکی توجہ کے بعد اسے برصغیر کی ان دو بڑی طاقتوں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے کسی نوع کا توازن تلاش کرنا پڑے گا۔ چند ماہ پہلے تک یہ توازن موجود نہیں تھا اور امریکی سفارتی توجہ کا سو فیصد مرکز نئی دہلی تھا۔ اب یہ صورت حال تبدیل ہورہی ہے۔
البتہ اس کے ساتھ ہی یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ایک دہائی کی عدم توجہی کے بعد امریکہ یک بیک کیوں پاکستان کی طرف رجوع کررہا ہے۔ پاکستان و امریکہ تعلقات کی تاریخ کے تناظر میں بعض ماہرین امریکہ کو ناقابل اعتماد دوست قرار دیتے ہیں۔ اور اس کی طرف بڑھتے قدموں کو خطرناک سمجھتے ہیں۔ تاہم حکومت کو امریکہ سے دوری اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہ فراموش کردیا جاتا ہے کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے جس کے ساتھ تعلقات کم و بیش دنیا کے ہر ملک کی مجبوری ہیں۔
پاکستان کی طرف امریکی توجہ کی تین وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں۔ 1: پاکستان میں نایاب منرلز کی موجودگی اور ان تک امریکی دسترس کی خواہش۔ 2: چین کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات اور عالمی سطح پر چین کے بڑھتے ہوئےاثر رسوخ کی وجہ سے امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی کی خواہاں ہے تاکہ پاکستان مکمل طور سے چینی بلاک میں نہ چلا جائے۔ 3: صدر ٹرمپ کی افغانستان کے بگرام ائربیس پر تسلط کی خواہش۔ امریکی حکومت جانتی ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر ایسی کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی تناظر میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کے حالیہ تنازعہ کے بارے میں امریکی صدر کی گفتگو بھی قابل غور ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ’جنگ‘ کو بہت جلد بند کراسکتے ہیں۔ یہ بھی پاکستان پر اثر و رسوخ قائم کرنے کی امریکی خواہش کا اظہار ہے۔
مارکو روبیو نے پاکستان کے ساتھ ’اسٹریٹجک شراکت داری‘ کا ذکر کیا ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ کن معاملات پر پاکستان ، امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر ہوسکتا ہے۔ اسلام آباد کے لیے امریکی حکومت کا دوستانہ رویہ اگرچہ خوشگوار ہے لیکن اس کے ساتھ ان تعلقات کو بہت احتیاط کے ساتھ استوار کرنے کی ضرورت ہوگی۔ تاکہ ایک تو پاک چین تعلقات متاثر نہ ہوں ، دوسرے پاکستان کسی نئی امریکی جنگ میں ایک بار پھر ’فرنٹ لائن اسٹیٹ‘ بننے کی غلطی نہ کر بیٹھے۔