اردن غزہ امن فورس میں شامل نہیں ہوگا: شاہ عبداللہ
اردن کے شاہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت غزہ میں امن نافذ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے فوجیوں کو تعینات کیا گیا تو وہ اس فورس میں کردار ادا کرنے سے انکار کر دیں گے۔
اردن کے شاہ عبداللہ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت عرب ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں استحکام کے لیے ایسی فورسز فراہم کریں جو ’غزہ میں فلسطینی پولیس کو تربیت اور مدد دیں گی اور اس سلسلے میں اردن اور مصر سے مشاورت کریں گی جنھیں اس حوالے سے وسیع تجربہ حاصل ہے۔‘
منصوبے کے مطابق حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے اور علاقے پر سیاسی کنٹرول ختم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ شاہ عبداللہ نے سوال کیا کہ سکیورٹی فورسز کا غزہ کے اندر کیا مینڈیٹ ہو گا؟ ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ امن برقرار رکھنے کا ہوگا، کیونکہ اگر یہ امن نافذ کرنے کا ہوا تو کوئی بھی ملک اس میں شامل ہونا نہیں چاہے گا۔‘
بی بی سی پینوراما کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اردن اور مصر فلسطینی سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کے لیے تیار ہیں۔ امن برقرار رکھنے کا مطلب ہے کہ آپ وہاں مقامی پولیس یعنی فلسطینی فورسز کی مدد کر رہے ہیں جنہیں اردن اور مصر بڑی تعداد میں تربیت دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس میں وقت لگتا ہے۔ اگر ہم غزہ میں ہتھیار لے کر گشت کر رہے ہوں تو اس صورتحال میں کوئی ملک شامل نہیں ہونا چاہے گا۔
شاہ عبداللہ کے یہ بیانات امریکہ اور دیگر ممالک کی اُن خدشات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کہیں وہ حماس اور اسرائیل یا حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے درمیان جاری تنازع میں ملوث نہ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اردنی فورسز کو غزہ نہیں بھیجیں گے کیونکہ ان کا ملک اس صورتحال سے ’سیاسی طور پر بہت قریب‘ ہے۔
شاہ عبداللہ نے وضاحت کی کہ اردن کی نصف سے زیادہ آبادی فلسطینی نژاد ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ سابقہ جنگوں سے بھاگ کر آنے والے 23 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کو پناہ دی ہے جو خطے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔