ملتان کا نقشہ بدل رہا ہے
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- سوموار 27 / اکتوبر / 2025
قدیم اور تاریخی اعتبار سے ملتان کی حیثیت کو سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ ملتان کا شمار دنیا کے قدیم زندہ شہروں میں ہوتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ملتان کو دارلخلافہ کا درجہ دیا جاتا تھا۔
کئی حوالوں میں لاہور کو بھی ملتان کے یکے از مضافات میں شمار کیا جاتا تھا مگر جب سے تخت لاہور قائم ہوا، اساں قیدی تخت لاہور کا نعرہ عام ہوا، انعامات و اکرام کی بارشیں ادھر کی بجائے اُدھر برسنے لگیں۔ اور یہ خطہ محرومیوں کا شکار ہونے لگا۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ملتان اب بھی حکومتی اور سیاسی سطح پر مرکزیت کا حامل ہے۔ اس خطے سے صدر وزیراعظم اسپیکر گورنر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے رہے مگر اس خطے کی صورت حال، ہم رہے پیاسے کے پیاسے، لاکھ ساون آ گئے، والی ہی رہی ہے۔ اس کے حصے کی بارشیں بھی کسی اور چھت پر برس گئیں اور گل و ثمر اس صحرائی علاقے کی قسمت کا مقدر نہ بن سکے۔ البتہ گاہے بگاہے کسی مرد سکندر کے ہاتھوں اس شہر کی حالت زار بدلتی رہی اور قدیم و جدید حسن نکھرنے کے آ ثار بھی پیدا ہونے لگے۔
سید یوسف رضا گیلانی کے دور میں ملتان میں فلائی اوور بننے شروع ہوئے۔ ملتان ایئرپورٹ کو انٹر نیشل ایئرپورٹ کا درجہ ملا۔ ڈہٹی کمشنر نسیم صادق کے دور میں سڑکیں کشادہ ہوئیں اور ادب دوست ڈی سی زاید سلیم گوندل کے دور میں ملتان ٹی ہاوس قائم ہوا۔ ڈی سی طارق محمود، سید شوکت علی شاہ، حمید اللہ، شیخ شہزاد قیصر، محمد افسر ساجد اور فیاض تحسین کے دور میں ادبی سرگرمیوں کی بھرپور فضا بنی رہی۔ عوام کے الگ سرائیکی صوبے کے بار بار مطالبے کے باوجود یہ معاملہ قرادداوں سے آ گےنہ بڑھ سکا ۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا لولی پاپ اس علاقے کے عوام کو دیا گیا مگر اختیارات تخت لاہور کے پاس ہی رہے۔ ملتان کا اہم مسئلہ اس وقت سیوریج کا ہے، ناجائز تجاوزات کا مسئلہ حل کرنے کی کاوشیں اگرچہ ہر حکومت کے دور میں کی گئی ہیں مگر یہ وقتی طور پر ٹھیک ہونے کے بعد انتظامیہ کے لئے پھر سے سر درد بن جاتا ہے۔
پنجاب حکومت کی طرف سے صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کے لئے اقدامات البتہ اس مرتبہ پہلے سے زیادہ مربوط اور مثبت حکمت عملی سے سامنے آ ئے ہیں۔
شہروں میں امن وامان کے لئے کئی قابل ذکر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ملک میں بدامنی کے خاتمے اور قبضہ گروپوں کا اثر ختم کرنے کے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ضلع اور شہر کی ترقی اور بہتری کے لئے ضلعی انتظامیہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ملتان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ یہاں کئی ان تھک ادب نواز اور دبنگ ضلعی افسران اس شہر کی خوبصورتی اور حسن میں اضافے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ مشیر اچھے ہوں تو حکمرانوں کو بھی داد ملتی ہے۔
اس وقت ملتان ڈویژن کے کمشنر عامر کریم خان کا شمار بھی ایسے ضلعی افسران میں ہوتا ہے جو انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ پنجاب کے متعدد وزراء اعلی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ جب سے ملتان میں کمشنر بن کے آ ئے ہیں، اپنی کرامتوں کے ذریعے حیران کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ملتان کی ضلع کہچری اور کہچری چوک پر ٹریفک کے اہم اور نہ حل ہونے مسئلے کو گویا جادو کی چھڑی سے حل کر چکے ہیں۔
ضلع کہچری شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ ختم کرنا بہت ضروری تھا جس کے لئے عوامی حلقوں کی طرف سے بارہا آواز بھی اٹھائی گئیں۔ ضلع کہچری کو شہر سے دور منتقل کرنے کے لئے متی تل روڈ پر الگ عمارت میں جوڈیشل کمپلیکس بھی بنایا گیا۔ سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ بھی ہوا مگر بوجوہ اور وکلا کے مطالبے پر اسے وہاں منتقل نہ کیا جا سکا۔ اب کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان نے وکلا نمائندوں سے گفت و شنید کر کے نہ صرف اس مسئلے کا حل تلاش کیا ہے بلکہ ساٹھ کروڑ کی لاگت سے تیار ہونے والے وکلا پارکنگ پلازہ کو فعال بھی کرا دیا ہے۔ سو اب ملتان کے شہریوں کو اس جگہ پر ایک اہم تبدیلی نظر آ رہی ہے اور عوام بھی ملتان شہر کا نقشہ بدلتے دیکھ رہے ہیں۔ اہم شاہراہوں پر ثقافتی اور تاریخی مجسمے نصب کئے جا رہے ہیں۔
ایک گفتگو میں کمشنر ملتان عامر کریم خان نے بتایا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ یہ تبدیلی مستقل بنیادوں پر ہو۔ اس کے لئے وہ خود ڈہٹی کمشنر وسیم سندھو اور انتظامیہ مستقل بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ عامر کریم خان نفاست پسندی کی وجہ سے شہر کو بھی نفاست پسندی کی طرف گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ شہر کے پارکوں کی خوبصورتی اور اس میں کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ریتے ہیں۔ ٹریفک کی روانی کے لئے کئی چوکوں کو کشادہ کرا رہے ہیں۔ ان کی ذاتی توجہ اور پنجاب حکومت کی مہربانی سے ملتان سے وہاڑی تک ڈسٹ فری سڑک اپنے تکمیل کے مراحل طے کر رہی ہے۔
ملتان میں جلال پور پیروالہ شجاع آ باد اور دیگر علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور پھر ان کی بحالی کے لئے کئے جانے انتظامات بھی خاصے مثبت رہے ہیں۔ کم وقت میں ٹوٹی ہوئی موٹر وے کی مرمت اور بحالی کا کام بھی قابل ذکر ہے۔
ان تھک دن رات محنت کرنے پر کمشنر ملتان عامر کریم خان کو پنچاب حکومت کی طرف سے حسن کارکردگی کا سرٹیفیکیٹ ملنا بھی اس وسیب کے لئے ایک اعزاز ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر ملتان کاشف اسلم کے تعاون سے ٹریفک کی بہتری کے کئے مزید اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ ٹریفک کوارڈی نیشن کمیٹی بھی اس حوالے سے فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔
کمشنر عامر کریم خان کا کہنا ہے کہ صحافی برادری، میڈیا پرسن اور سوشل میڈیا انتظامیہ کے اچھے اقدامات کی پذیرائی کرے۔ بہتری کی تجاویز دے اور ان اقدامات پر عملدرآمد کے لئے اپنا عملی تعاون بھی پیش کرے کہ یہ شہر ہم سب کا ہے اور اس کی بہتری کی ذمہ داری دامے درمے اور سخنے ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
سینکڑوں گاڑیوں کے لئے ایک خطیر رقم سے بنائے جانے والے اس پلازے کی افادیت اور اہمیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب یہاں پارکنگ کو فوقیت دی جائے اور کہچری کی پارکنگ کہچری میں دور دراز سے آ نے والے سائلین اور عامتہ الناس کے لئے مختص رکھی جائے۔
ہمارے ادب دوست سابق کمشنر بہاولپور اور صوبائی محتسب کے ایڈوائزر محمود جاوید بھٹی بھی اس پارکنگ پلازہ کے بارے میں اپنا موقف دے چکے ہیں کہ خدا کرے یہ تبدیلی مستقل بنیادوں پر ہو اور اس پارکنگ پلازہ پر لگائے ہوئے فنڈز ضائع نہ ہو پائیں۔ ملتان کے کمشر عامر کریم خان بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ہماری نوجوان نسل سمیت ہر شہری ناجائز تجاوزات اور ٹریفک کی بہتری کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ محض خاموش تماشائی نہ بنا رہے۔
خدا کرے کہ ملتان اپنے قدیم و جدید حسن کے ساتھ مزید نکھرے اور اب اس شہر کا نقشہ بدلے اور یہ شہر بے مثال ہر شعبے میں ترقی کرتا نظر آ ئے کہ:
پیدا کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں