ہمارے معاشرےکی جامد سوچ اور تارکین وطن کے شوق

پاکستان کو بظاہر انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی لیے 78 برس بیت چکے یعنی ایک صدی سے 22 برس کم ہیں۔ اس عرصے میں دنیا کہیں سے کہیں پہنچ چکی ہے، بے شمار نئی ایجادات سامنے آ چکی ہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب برپا ہو چکا ہے۔

بیسیوں ممالک بادشاہتوں سے نکل کر جمہوری اور ترقی یافتہ ممالک بن چکے ہیں۔ درجنوں ممالک اپنے ہاں غربت کا خاتمہ کر چکے اور بیسیوں ممالک غربت ختم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ کئی ایسے ممالک جہاں کچھ پیدا ہوتا تھا نہ ان کی صنعت تھی مگر وہی ممالک آج اربوں ڈالر کی برآمدات کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک نے اگر کسی چیز میں ترقی کی ہے تو وہ آبادی ہے۔ اور سرسبز کھیتوں کی جگہ سیمنٹ، سریا اور اینٹ کی عمارتیں ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے گھر سنسان پڑے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد بے گھر جھگیوں، خیموں اور فٹ پاتھوں پر رہ رہے ہے۔ ایک طرف ہم چینی، آٹے، ٹماٹر، آلو اور دالوں کی کمی اور قیمتوں کے اضافے پر دہائی دیتے رہتے ہیں تو دوسری طرف لاکھوں ایکڑ زمینوں کو غیر آباد رکھ کر کروڑوں لوگ بے روزگار ہیں۔ ہمارا بکھرا ہوا تعلیمی نظام معاشرتی ترقی کی بجائے ترقی میں رکاوٹ ہے۔

مجھے حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ملک کے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں میں جہالت دیکھتا ہوں اور اس سے بھی زیادہ حیرت اپنے تارکین وطن بھائیوں کو دیکھ کر ہوتی ہے کہ وہ ہر طرح کی خوشحالی کے بعد بھی احساس کمتری کے آخری درجے پر موجود ہیں۔ اور ترقی یافتہ ممالک میں دہائیوں سے رہتے ہوئے بھی دنیا سے کچھ نہیں سیکھ سکے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدانوں، صحافیوں، مذہبی راہنماؤں، بیوروکریٹس اور گانے بجانے والوں نے تارکین وطن کو آسان ہدف بنا رکھا ہے۔ کیونکہ ان سب کے خیال میں تارکین وطن شہرت کے بھوکے ہیں اور کسی مشہور شخص کے ساتھ تصاویر بنوا کر خوش ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ تمام لوگ آئے دن یورپ، امریکہ اور عرب ممالک میں پہنچے ہوتے ہیں۔ تارکین وطن کا اپنے آبائی وطن میں بھی ایک دوسرے سے مقابلہ چلتا ہے اور وہ اس مقابلے میں بڑے بڑے مکانات بنواتے ہیں، بڑی بڑی گاڑیاں خرید لیتے ہیں۔ لیکن نہ تو ان گھروں میں انہیں زیادہ رہنا نصیب ہوتا ہے، نہ گاڑیاں لمبے عرصے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

اسی طرح وہ اپنی مشہوری کے لیے کچھ رفاہی کام بھی کرواتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے لوگوں کے ذہنوں سے غلامی، احساس کمتری کی بیماری اور نمود و نمائش کا شوق بڑھتا ہی کیوں جاتا ہے؟ یہ بیماری ذہنوں سے کب نکلے گی؟ جو لوگ یورپ، امریکہ اور کینیڈا وغیرہ میں سیٹ ہیں وہ سب خوشحال ہیں۔ ان کی معقول آمدن ہوتی ہے اور اگر کام نہ بھی کرتے ہوں تو بھی ریاست ان کی بنیادی ضروریات کی ذمہ داری لیتی ہے۔ پھر ان کو لالچ اور خوف کس بات کا ہوتا ہے؟ انہیں اپنی سوچ بدلنی چاہیے تھی، اپنے تجربات اور مشاہدات سے اپنے آبائی وطن میں لوگوں کی تربیت کی ذمہ داری لینا چاہیے تھی۔ اپنے ملک کا نظام بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اپنے ملک کے تعلیمی نظام کو درست کرنے کی سعی کرتے اور اپنے علاقوں سے فرسودہ اور فضول رسومات کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے۔

اگر تارکین وطن اپنا سرمایہ مکانات پر پتھر بنانے کی بجائے اپنے ملک میں چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتے تو اپنے لیے معقول آمدنی کے ساتھ لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کا ذریعہ بن سکتے تھے۔ نہ تارکین وطن نے اس طرف کوئی کوشش کی، نہ پاکستان کی کسی حکومت نے کسی ایسی پالیسی کا اعلان کیا جس سے تارکین وطن متوجہ کیے جا سکتے۔ ہمارے سیاستدان خود تو بیرون ممالک تارکین وطن کے پاس عیاشیاں کرتے ہیں مگر اپنے ملک میں کوئی ایسی پالیسی نہیں بناتے جس سے تارکین وطن اپنے ملک میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ ہمارے معاشرے میں بھیڑ چال چل رہی ہے یا لکیر کے فقیر بن کر ایک مخصوص سوچ ہر جگہ نظر آتی ہے۔ قابلیت ناپنے کا پیمانہ یہ ہے کہ کسی کے پاس کیا عہدہ ہے، کسی کا رتبہ کیا ہے اور کس کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ قابلیت یا اچھے کردار کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ جتنے قومی دن ہیں ان کو سرکاری دن بنا دیا گیا ہے۔ اور انہیں منانے کے لیے سب کچھ حکومتی انتظامیہ کنٹرول کرتی ہے۔ مخصوص مذہبی راہنماؤں کو دربار عالیہ میں رسائی دی جاتی ہے اور وہ پھر سرکاری مولوی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ صحافی یا میڈیا ہاؤسز سرکار کے منظور نظر ہوتے ہیں۔ ان پر نوازشیں ہوتی ہیں اور ان سے خوشامد کروائی جاتی ہے۔

ہمارے معاشرے کی سوچ میں ایک بہت بڑا نقص یہ ہے کہ ہر بندہ اپنی تشہیر، خودنمائی کا خواہاں اور دوسروں کی توجہ کا طلبگار نظر آتا ہے۔ میڈیا میں آنے یا کسی حکومتی عہدے تک پہنچنے کی ساری کارکردگی جھوٹی تعریفیں اور خوشامد ہے یا پھر ’نوٹ وکھا میرا موڈ بنے‘، کا عکاس ہے۔ ہمارے معاشرے کی تمام رسومات فرسودہ اور بھیڑ چال ہوتی ہیں۔ شادی بیاہ سے مرنے اور جنازے سے فاتحہ تک سب رسمی اور خود نمائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور ان فرسودہ رسومات میں ہم اپنے وسائل کا بے جا ضیاع بھی کرتے ہیں۔

اگر ہم اپنے ملک میں کوئی نظام بنانا چاہتے ہیں اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ میرا کہنا یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جتنے مرضی نمائشی اقدامات کریں، جب تک عوام کی سوچ نہیں بدلے گی، کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ کیونکہ عوام کو کسی پر اعتماد نہیں ہے۔ اگر پنجاب حکومت صوبے میں بدمعاشی اور اسلحے کا خاتمہ چاہتی ہے تو پھر اپنے پرائے کی پہچان کیے بغیر سب پر یکساں قانون لاگو کیا جائے۔ لیکن اگر آپ اپنے حمائتیوں اور اپنے ساتھیوں کے لیے نرمی اور مخالفین کے لیے سختی برتیں گے تو کچھ حاصل نہ ہوگا۔

پنجاب حکومت نے ڈیڑھ سال سے لاہور کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے لنگوٹ کسے ہوئے ہیں۔ مگر آج بھی لاہور آلودگی میں پہلے نمبر پر ہے۔ وجہ یہ کہ عوام کے ذہن آلودہ ہیں۔ پنجاب حکومت کے پلاسٹک شاپرز ختم کرنے کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے گئے کیونکہ کسی کو قانون پر اعتبار نہیں۔