جنونی مائنڈسیٹ اور ہمارے طاقتور

ان دنوں پاکستانی حکومت اور رائے عامہ اپنے برادر مسلم ہمسایوں یعنی افغانیوں کے سخت خلاف جا رہی ہے۔ انہیں نمک حرام ، احسان فراموش اور طوطا چشم سمیت نہ جانے کیا کیا کچھ کہا جار ہا ہے۔

یہ سب ملاحظہ کرتے ہوئے درویش کو علامہ اقبال کا وہ مشہور شعر یاد آر ہا ہے جو انہوں نے افغانستان سے سترہ بار ہمارے خطے پر حملہ آور ہونے والے اپنے جنگجو ہیرو کے متعلق کہا تھا:
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی ، نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

جس طرح افغانسان کا محمود غزنوی اپنے خوبصورت محبوب لڑکے ایاز کیلئے ہمہ وقت تڑپتا اور اس کے عشق میں مرتا تھا ، اقبال کہتے ہیں کہ اب اس حسین لونڈے کی شوخ اداؤں میں وہ پہلے جیسی کشش نہیں رہی ہے ۔ ٹھیک ایسی ہی صورتحال اس وقت افغانستان اور اپنے پیارے سٹوڈنٹس یعنی کہ نیک اور اچھے طالبان کے حوالے ہماری ہوچکی ہے۔ ہمارے وزیر دفاع یا ان سے بھی کسی اوپر والے سے  لے کر اخباری قلم گھیٹنے والوں تک سبھی اپنے محبوب سٹوڈنٹس کی بے وفائیوں کے طنزیہ مرثیے پڑھتے اور جلے دل کے پھپولے پھوڑتے دکھتے ہیں۔ اے ہمارے پیارے طالبانو! ہم پاکستانیوں نے تمہارے متعلق کیا سوچا تھا، کیا کیا سپنے دیکھے تھے اور تم کیا نکلے ؟ تم لوگوں کی محبت میں ہم نے اپنا ملک برباد کروالیا، اپنے اسی ہزار لوگ مروالیے، ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر جیسی خوفناک بیماریاں اپنے سماج کو لگوالیں۔ ارے اے بے وفا افغانیو! تمہاری محبت میں ہم لوگ سوویت یونین جیسی سپرپاور سے ٹکرا گئے، اے بے وفا طالبانو! تمہارے عشق میں ہم لوگوں نے دوسری سپرپاور امریکا سے چیٹنگ کرلی۔ یہاں تک کہ پینٹاگان اور وائٹ ہاؤس والے ہمیں دوغلا اور دورخا کہنے لگے۔ ہم نے کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں سے پوری طرح بے وفائی کی۔ باامر مجبوری امریکی ڈالرز وصول کرتے ہوۓ ہم لوگوں نے بظاہر ان کے قائم کردہ سیٹ اپ کی حمایت دکھائی لیکن پیارے طالبانو! تم سے بڑھ کر کون جانتا ہے درپردہ ہم نے ان کے اقتدار کی جڑیں کاٹیں یہ سوچتے ہوئے کہ ہمارے اپنے پیارے اسلامی بھائی جب برسراقتدار آجائیں گے تو ہمارے وارے نیارے ہوجائیں گے۔

ہم کہیں گے کہ اب امریکی غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئی ہیں، ہم سوچتے تھے کہ آپ کے ہزاروں جہادی جذبۂ جہاد سے سرشار ہوکر انڈین کشمیر میں جاگھسیں گے۔ ہمارے ازلی دشمن کی ایسی تیسی کرڈالیں گے۔ اسے ناکوں چنے چباکر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے کیونکہ ہمارا اور آپ کا تو نظریہ و عقیدہ ہی ایک ہے۔ ہمارے اقبال نے کیا خوب فرمارکھا ہے:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمیؐ
ہم تو تمہارے اسلامی جہادی جذبوں کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ کلمے کی برکت سے ہم ایک قوم ہیں:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

کاشغر تو پھر بھی ذرا دور ہے، کابل تو یہ کھڑا ہے۔ ہمارے تو اندر ہی اندر لڈو پھوٹ رہے تھے کہ اب تو گویا افغانستان ہمارا اس طرح پانچواں صوبہ بن جائے گا جس طرح ٹرمپ کینیڈٰا کو اپنی 51 ویں ریاست خیال کرتا ہے۔ لیکن اے ہمارے پیارے طالبانو! تم لوگوں نے تو ہمارا دل ہی توڑ ڈالا ہے۔ یہ کیا ستم ہے کہ تم نے ڈیورنڈ لائن کو بارڈر ماننے سے ہی صاف انکار کردیا ہے۔ ترک اور قطری بھائیوں سے ضد کرکے اپنا یہ مطالبہ منوا رہے ہو کہ یہ کوئی بارڈ نہیں ہے۔ خبردار جو اسے بارڈر لکھا یعنی تم لوگ ڈیورنڈ لائن کو محض انگریز کی کھینچی ہوئی کنٹرول لائن سمجھتے ہو۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر تم لوگوں نے ہمارا سینہ جلادیا ہے۔ بلکہ ہمارے سینے پر مونگ دلی ہے۔ ہمارے ازلی دشمن کی جھولی میں جابیٹھے ہو۔ تمہارا فارن منسٹر جو بظاہر نام کا امیر متقی ہے وہ ہند یاترا پر گیا تو پورا ہفتہ وہیں بھارت میں مودی کے ساتھ محبت کی پینگیں جھولتا رہا۔

وہ دیوبند جس نے ہماری ٹونیشن تھیوری کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھائے نہ رکھی تھی، اس کے مہتمم حسین احمد مدنی نے قومیں اوطان سے بنتی ہیں کا نعرہ لگادیا تھا، اور لیگ کی بجائے کانگرس کا پورا ساتھ دیا۔ یہ آپ کے امیر متقی صاحب اسی دیوبند میں پہنچ کر سکون حاصل کرتے پائے گئے۔ تم لوگ ہمارے دشمن ہندوؤں کے ساتھ گھی شکر بن گئے۔ افسوس ہے تم پر، ہم لوگوں نے تمہیں چوریاں، کیا یہی دن دیکھنے کے لیے کھلائی تھیں؟ کیا اس لیے تمہیں پالا پوسا تھا کہ وہاں ہندوستان میں بیٹھ کر یہ اعلان کرو کہ کشمیر پورے کا پورا بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس ایشو پر ہم نے پاکستان کی کبھی حمایت کی ہے نہ کریں گے۔

اس سب کے باوجود ہم تم لوگوں کی یہ تمام تر زیادتیاں پی جانے کو تیار ہیں۔ اگر تم لوگ یہ فتنۃ الہند کے تحت جو اپنے خارجی ادھر بھیجتے ہو، وہ ہمارے عوام اور جوانوں کو مارتے ہیں۔ بھلا ہم یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں؟ کیا تم لوگوں نے ہمیں روس اور امریکا جیسا نکما جاہل سمجھ رکھا ہے۔ وہ تو دور سے آئے تھے ہم تو تمہارے سر پر بیٹھے ہیں۔ ہم یہ ٹیرر کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ امریکا کے ساتھ ”دوحا معاہدہ“ کرتے ہوئے تم لوگوں نے خود یہ لکھ کر دیا تھا کہ ہم افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف ٹیررازم کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ٹھیک ہے گڈ اور بیڈ طالبان کی اصطلاحات ہم لوگوں نے نکالی تھیں، ہم اپنے والوں کو برے اور تم لوگوں کو گڈ یا اچھے طالبان مانتے تھے۔ اس لیے کہ ٹی ٹی پی والے ہمیں پر حملہ آور ہوتے تھے۔ جبکہ خود تم لوگ امریکیوں کو مارتے تھے اور ہمیں یہ اچھا لگتا تھا کہ تم امریکیوں کو مار رہے ہو۔ کیونکہ ہم اندر سے امریکیوں کو پسند تھوڑا کرتے ہیں۔ بھلا یہود و نصاری ہمارے دوست کیسے ہو سکتے ہیں۔ یہ تو ڈالروں کیلیے ہماری معاشی مجبوریاں ہیں۔ ہمیں اصل شکایت تو ٹی ٹی پی سے ہے، آج وہی بیڈ طالبان جس طرح ہم پر حملہ آور ہورہے ہیں۔ انہیں روکنا اور دبوچنا ہر حوالے سے تم لوگوں یعنی گڈ طالبان کی ذمہ داری تھی جو تم لوگوں نے نہیں نبھائی۔ تم لوگ یہ بات کبھی نہ بھولنا کہ ہم لوگ اگر تمہیں بناسکتے ہیں تو فنا کے گھاٹ بھی اتار سکتے ہیں۔

یہ ہے وہ ابال جو اندر و اندر دینی و ملی حمیت کے حاملین ہمارے تمام پاکستانیوں کے سینوں میں اٹھ رہا ہے۔ ورنہ درویش جیسے لبرل سیکولر اپروچ رکھنے والوں نے تو مدارس کے ان مقدس سٹوڈنٹس کو کبھی منہ نہیں لگایا۔ ہمیشہ ان کی متشدد اور منافرت بھری غیر انسانی سوچ پر تین حروف بھیجے اور اپنے طاقتوروں کی منتیں کیں کہ آپ لوگ بھی اپنے وقتی و ہنگامی مفادات کی خاطر مذہبی کارڈ یا ڈپلومیسی بنانا یا اپنانا چھوڑدیں۔ آپ لوگوں نے جس طرح ملک کے اندر ٹی ایل پی جیسی متششدد تنظیم کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر تشکیل دیا اور پھراستعمال کیا تو وہ آج ہمارے سماج کے لیے نائٹ میئر یا خوفناک ڈراؤنا خواب بن گئی۔ دیگر بھی بہت سارے شاہکار آپ لوگوں نے وقتی مصلحتوں کے تحت تیار کیے۔ جو بالآخر ہمارے سماج کے لیے ناسور ثابت ہوئے۔

اتنے تلخ تجربات کرنے اور نقصانات اٹھانے کے بعد ہی آپ لوگ سمجھ جاؤ کہ یہ لوگ ہمارے اثاثے نہیں، ہماری لایابلیٹیز یا بربادیاں ہیں۔ ہماری سوسائٹی آج گھٹن، عدم برداشت، تشدد، خوف اور ٹیرر کے جن اندھیروں میں ڈوبی پڑی ہے۔۔ صراط مستقیم پر چلنے کی بجائے جنونیت و فرقہ واریت کی جن پگڈنڈیوں پر ٹامکٹوئیاں مار رہی ہے۔ ذرا باریک بینی سے تجزیہ فرمائیں اس سب کا کارن کیا ہماری یہی جنونیت پالنے والی پالیسی نہیں رہی ہے کہ اپنے نام نہاد ازلی دشمن انڈیا کو اور خود اپنی
 آئینی و جمہوری حکومتوں کو نیچا دکھانے کے لیے اپنے لشکر طیبہ جیسےجہادی پالے پوسے گئے۔ جنہیں دنیا نان اسٹیٹ ایکٹرز کہہ کر اپنے غصے کا اظہار کرتی رہی۔ یہاں تک کہ پوری دنیا میں ہمارے پیارے ملک کو ٹیررکی نرسری پکارا جانے لگا۔ مذہب کے مفاداتی استعمال کا اس سے بڑا نقصان کیا ہوسکتا ہے کہ آج جس طرح ٹی ٹی پی والے ہمارے جوانوں کو بے دردی سے ماررہے ہیں، اسی طرح ٹی ایل پی والوں نے سر تن سے جدا کے نعرے لگاتے ہوئے نئی نسلوں کے شعوری تنقیدی دریچے بندکرتے ہوئے انہیں شاہ دولے کے چوہے بنا ڈالا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہمارے ایک حساس ادارے نے نئی بھرتی کے لیے اپنے پڑھے لکھے نوجوانوں کے انٹریوز کیے تو نوے فیصد نے گورنر سلمان تاثیر کے افسوسناک قتل کو جسٹیفائی کرتے ہوئے دلائل دیے اور کہا کہ اس کے باڈی گارڈ نے قانون کو ہاتھ میں لے کر اس کا جو مرڈر کیا وہ بالکل درست عمل تھا۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسلوں کی یہ ذہنی آبیاری کرڈالی ہے تو پھر آگے چل کر ہمارے سماج کی بربادی میں کیا کسر رہ جائے گی؟

اوپر بیٹھے طاقتوروں کو اگر یہ خوفناک صورت حال ملاحظہ کرنے کے بعد ہی کچھ ہوش آئی ہے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ درویش عرض گزار ہے کہ اصل ایشو ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی نہیں ہیں، عدم برداشت کی تنگ نظری والی ذہنیت یا مائنڈ سیٹ کی درستی و مرمت ہے۔ اگر آپ لوگ ایسی تنظیموں کو کالعدم قراردیتے ہوئے یا ڈیورنڈلائن کے آر پار لڑتے ہوئے ختم کرنے میں کامیاب ہوبھی گئے تو کیا گارنٹی ہے کہ دیگر ناموں کے ساتھ یہی پراگندگی نئے پرپرزے نکال کر آگے نہیں آجائے گی؟ لہٰذا اس مائنڈ سیٹ کو توڑنے کے لیے بولڈ اقدامات اٹھائیے، تعلیمی نصاب بدلیے، میڈیا میں مسلط گھٹن دور کیجیے۔ خود اپنے متفقہ طور پر طے کردہ نیشنل ایکشن پلان کو کماحقہ نیک نیتی سے لاگو کیجئے۔