عالمی برادری میں افغانستان کی تین حصوں میں تقسیم کی تجویز کا شور

گزشتہ کالم کے اختتام پر عرض کیا تھا کہ افغان طالبان کو ریجنل کنیکٹویٹی جو وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا تک ہو سے منسلک کر دینا ہی خطے میں پائیدار امن کے حالات کا قیام عمل میں لا سکتا ہے اور افغان طالبان کا اس سبب سے ذکر کیا تھا کہ ان کو اس کے معاشی ثمرات سے بہرہ مند کیا جائے تو سوچ میں تبدیلی کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ افغان طالبان کا اس لئے ذکر کیا تھا کہ پاکستان کی ابتدا سے یہ پالیسی رہی ہے کہ جو کابل پر قابض ہوتا ہے ہم اس کو وہاں کا حاکم سمجھتے ہیں اب چاہے اس کی حکومت بزور شمشیر ہو یا جیسے بھی قائم ہو چکی ہو۔

یہاں اس کا بھی تذکرہ اہم ہو گا کہ عالمی برادری میں اب افغانستان کی تین حصوں میں تقسیم کی تجویز کا شور ہے کہ وہاں پر امن قائم نہیں ہو رہا ہے۔ پاکستان کو اس سوچ کے حوالے سے بہت محتاط انداز میں سوچنا ہو گا کہ ایسی کسی کوشش کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بہر حال یہ تو بر سبیل تذکرہ بات تھی۔ جب گزشتہ کالم میں اس معاشی حکمت عملی کی بات کی تھی تو چند احباب نے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے مابین مسلح تصادم کی کیفیت موجود ہے بھلا ان حالات میں بزنس ماڈل کی بات کرنا کس حد تک مناسب ہے۔

اس تصادم کی کیفیت کو ہی تو تبدیل کرنے کی غرض سے گفتگو کی تھی اور عین دوران جنگ بھی گفتگو چل رہی ہوتی ہے یا چل سکتی ہے۔ افغانستان کی ریجنل کنیکٹویٹی کے حوالے سے اس وقت بھی بہت کچھ ہو رہا ہے اور اس میں انتہائی دل چسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کا اس میں کلیدی کردار ہے۔ ابھی پیپلز کونسل آف ترکمانستان کے چیئر مین نے گزشتہ ہفتے ہی ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا گیس پائپ لائن منصوبہ جو کہ عرف عام میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ کہلاتا ہے کے اگلے فیز کا افتتاح کیا ہے اور افغان طالبان کی جانب سے ان کے نائب وزیر اعظم برائے معاشی امور ملا عبد الغنی برادر نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ یہ منصوبہ عرصے سے حالات کے سبب سے صرف کاغذوں میں موجود تھا اور عملی کام نہ ہونے کے برابر تھا مگر گزشتہ سال ستمبر میں پیپلز کونسل آف ترکمانستان کے چیئر مین نے افغانستان میں اس منصوبے کا عملی طور پر افتتاح کرتے ہوئے دونوں ممالک کی سرحد پر 177 میٹر کا ریلوے سٹیل پل کا افتتاح کیا تھا اس کے ساتھ ساتھ ویئر ہاؤس، ڈرائی پورٹ نورال جہد پاور پلانٹ کا بھی افتتاح کیا تھا کہ جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اور جب اب اس کے اگلے سیکشن جو کہ 153 کلو میٹر سیریٹابیٹ۔ہرات سیکشن ہے پر کام کا افتتاح کیا گیا ہے تو اس کو صرف ان دو ممالک کا باہمی اقدام نہ سمجھا جائے۔ اس کی اس حد تک اہمیت ہے کہ اس کے لئے صدر ٹرمپ نے مبارک باد کا پیغام ارسال کیا ہے اور اپنی اسپورٹ کا اظہار کیا ہے۔ اب اس کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ کوئی صرف افغانستان تک محدود منصوبہ نہیں ہے۔ یہ ہرات، ہلمند اور صوبہ قندھار سے ہوتی ہوئی پاکستان میں داخل ہوگی اور پاکستان سے آگے اس کی منزل انڈیا ہوگی۔ 1800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی یہ پائپ لائن سالانہ کم و بیش 33 ارب کیوبک میٹر گیس سپلائی کرے گی جس میں سے 16 فیصد افغانستان جبکہ 42 فیصد پاکستان اور اس ہی مقدار میں انڈیا کو مہیا کی جائے گی اور افغانستان صرف ریونیو کی مد میں سالانہ ایک ارب ڈالر وصول کرے گا۔

افغانستان کی معیشت کو مد نظر رکھتے ہوئے با آسانی تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایک ارب ڈالر کی رقم ان کے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے۔ یہ منصوبہ صرف ایک مثال ہے کہ اس میں امریکا سے لے کر افغان طالبان تک سب دل چسپی رکھتے ہیں۔ امریکا کی تو کمپنیوں نے اس کی ابتدائی فیزیبلیٹی اسٹڈی تک تیار کی تھی۔ ملا عبد الغنی برادر نے اس منصوبے کو خطے کے ممالک کے درمیان باہمی اعتماد قائم کرنے کے لئے پل کے طور پر اپنے بیان میں ذکر کیا ہے، بس یہ ہی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ پل پاک افغان سرحد پر امن قائم ہوئے بنا تعمیر ہونا ناممکن ہے۔

اور جب میں ریجنل کنیکٹیویٹی کی بات کرتا ہوں تو میری مراد صرف افغانستان یا ہمارے زمینی سرحدی ہمسائے نہیں بلکہ ہماری نظر ہر اس کنیکٹیویٹی پر مرکوز ہونی چاہیے کہ جو ممکن ہے۔ مثال کے طور پر یہ بہت ہی بہتر فیصلہ ہے کہ پاکستان اور ترکی کے مابین ٹرین چلائی جائے گی۔ ترکی سے ہماری دلوں کی دوستی ہے جب کچھ عرصہ قبل لاہور میں ترک قونصل خانہ قائم ہوا تو نیا ہونے کے باوجود بہت جلد بہت متحرک ہو گیا اور یکے بعد دیگرے تعینات دونوں ترک قونصل جنرل صاحبان پاکستانی عوام سے نئے روابط قائم کرنے کی جستجو کرتے رہے اور یہ ہی طریقہ ان کے بعد آنے والے نئے ترک قونصل جنرل نے اپنالیا ہے۔

بنگلا دیش کے حوالے سے بھی یہ بہت مثبت اقدام ہے کہ انہیں کراچی کی بندر گاہ استعمال کرنے کی پیش کش کی گئی ہے جبکہ براہ راست پروازوں کے آغاز پر بھی بات ہوئی ہے۔ اسی طرح سے انڈونیشیا کے حوالے سے بھی پاکستان ائر لائنز کے پاس زبردست موقع ہے کہ وہ وہاں سے عمرہ کی ادائیگی پر جانے والے افراد کو اپنی فضائی سروس مہیا کرے۔ اس وقت یہ کاروبار انڈین فضائی کمپنیوں کے پاس ہے اور وہ اس سے اربوں روپے کما رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں انڈونیشیا کے نائب سفیر رحمت ہندیارتا سنگاپور یونیورسٹی کے انڈونیشین پروفیسر ہدیٰ کے ساتھ لاہور آئے تو مجھ سے ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا سے اس وقت 600 طلبا دینی مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کنیکٹیویٹی کے ہزاروں امکانات موجود ہیں بات صرف ان امکانات کو اقدامات میں تبدیل کرنے کی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)