مواخات اسلامی، وقت کی ضروت
- تحریر زاہد بشیر
- جمعہ 31 / اکتوبر / 2025
انسان کے لئے اپنے انفرادی یا گروہی تشخص کو اجاگر کرنے اور اسے قائم رکھنے کی خواہش اتنی ہی ضروری ہے جتنا اس کے لئے باعزت طریقے سے زندہ رہنا۔ انسانی تشخص کے اجزائے ترکیبی جن عناصرپر مشتمل ہو سکتے ہیں ان کا تعلق نسل، زبان، تہذیب، تاریخ، یا مذہب سے ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک انسانی گروہ کے افراد اپنی سیاسی اور معاشی ترجیحات کے پیش نظر ان اجزا کی غیر موجودگی کے باوجود بھی ایک سیاسی یا جغرافیائی اکائی کے طور پر بخوبی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں بننے والی وحدت نے جغرافیائی قومیت کے تصور کو جنم دیا۔
قومیت ایک مشترکہ زبان، نسل، تاریخ، جغرافیہ یا تہذیب کی بنیاد پر لوگوں کے کسی ایک گروہ کے یکجا ہو کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے اور ایک ساتھ زندگی گزارنے کے تصور سے پیدا ہونے والی ہم آہنگی کا نام ہے۔ قوموں کی علیحدہ شناخت جو انہیں ایک دوسرے سے ممیز کرتی ہے، وہی انہیں دوسری اقوام سے راہ و رسم استوار کرنے اور تعلقات کی نوعیت طے کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
بسا اوقات اس علمی بحث سے واسطہ پڑتا ہے کہ کیا قوم کا تصور صرف رنگ، نسل، تاریخ یا تہذیب کے مشترک ہونے کا ہی مرہون منت ہے یا کہ مذہب کو بھی قوم کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم دین اسلام کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو اسلام تمام دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کا رشتہ قائم کرنے کا درس دیتا ہے۔ اس بنا پر دنیا کے تمام مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے درمیان ایک ایسا لازوال رشتہ قائم ہونا چاہیے جو جغرافیائی، نسلی اور ثقافتی قیود سے مکمل آزاد ہو۔ اس اخوت کی بنیاد پر جو وحدت وجود میں آتی ہے ہم اسے قوم کی بجائے ملت یا امت کا نام دیتے ہیں۔ قوم ایک سیاسی اصطلاح ہے جبکہ ملت ایک دینی تعبیر ہے اور یہ مسلمانوں کے روحانی تشخص کی آئینہ دار بھی ہے۔
اسلام کا نظم اجتماعی اخوت اور بھائی چارے کی اساس پر قائم ہے اور اسلامی تمدن کی خصوصیت اخوت کا نظریہ ہے۔ مواخات اسلامی کی ملکی اور بین الاقوامی دونوں صورتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ اسلام دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک ایسی عالمگیر برادری قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے جہاں تمام مسلمان ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں۔ اس بھائی چارے کا عملی مظاہرہ اتحاد اور یگانگت کے اصولوں کے مطابق خاص طور پر معاشی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کی شکل میں نظر آنا چاہیئے۔ امت مسلمہ کے زوال و انہدام کی ایک بڑی وجہ اس اہم دینی حکم پر عمل میں کوتاہی بھی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح ہم اپنے دینی احکامات کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر نافذ کرنے کے عمل میں ترجیحات کے درست تعین میں ناکام رہے ہیں، اسی طرح ہم نے بہت سے اسلامی احکامات کی صحیح تفہیمات اور تشریحات کرنے میں کہیں نادانستہ اور کہیں دانستہ کوتاہی برتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں غیر مسلموں سے انسانی مساوات کی بنا پر تعلقات استوار کرنے کا درس ملتا ہے۔ ہمارے دین نے ہمیں کہیں بھی بلا وجہ غیر مسلم ریاستوں اور معاشروں سے مخاصمت یا عداوت رکھنے کا درس نہیں دیا۔ بلکہ اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ہر قوم یا ملک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں مکمل آزاد ہیں۔ بشرطیکہ کہ اس کا مقصد کسی دوسری اسلامی ریاست کو نقصان پہنچانا نہ ہو۔
اب ہم "قومیت" کے تناظر میں "امت" کے ایک الگ شناختی تصور کا مغرب کے زاویہ نظر سے تجزیہ کرتے ہیں۔ یعنی کیا مغرب ہماری اس شناحت کو قبول کرتا ہے یا نہیں اور اگر کرتا ہے تو اس بنیاد پر وہ کیا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اگر ہم زیادہ پیچھے نہ جائیں اور صرف لگ بھگ سو سال کی تاریخ کا ہی جائزہ لیں تو غیر اسلامی دنیا خصوصاً مغرب کے عمل سے یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ وہ ہمارے اسلامی تشخص کو مد ںظر رکھتے ہوئے ہم سے متعصبانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اسی بنا پر مغرب کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اجتماعی طور کبھی بھی مستحکم نہ ہوں۔ اپنے اسی مقصد کے حصول کی خاطر مغرب مڈل ایسٹ میں سیاسی اور معاشی ناپائیداری پیدا کرنے کے لئے کئی دہائیوں سے جنگ وجدل میں مصروف ہے۔ اسرائیل کے تخفظ اور فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ پیدا کرنے لئے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی جو دھجیاں اڑای گئی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اسلامی دنیا کے اتحاد کی راہ میں جہاں امیرعرب حکمرانوں کے خاندانی مفادات وابستہ ہیں، وہاں مغرب کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں ضمنی طور پر یہ عرض کرتا چلوں کہ مغرب کے مفادات اگر اسلامی ممالک کے آپس میں نفاق سے وابستہ ہیں تو اصولی طور پر مغرب ایسا کرنے میں حق بجانب ہے۔ یہ قانون ازل سے رائج ہے کہ ہر قوم یا گروہ کے لئے اپنا فائدہ ہی مقدم ہوتا ہے۔
مشرق وسطٰی کی موجودہ صورت حال ہو یا قطر اور ایران پر حالیہ اسرائیلی حملے اوراس معاملے میں مغرب کا جانبدارانہ موقف، بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی پر یورپ کی بےحسی، ترکیہ کو لاکھ کوششوں کے باوجود یورپی یونین میں شمولیت نہ دینا، فرانسیسی صدر کا یہ کہنا کہ "یورپی یونین ایک کرسچن کلب ہے لہذا بوسنیا کو اس کی رکنیت نہیں دی جاسکتی" ۔ اور پاکستان کے ایٹم بم کو مغرب کا "اسلامی بم" کے نام سے منسوب کرنا ، جیسی سادہ مثالیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بیرونی دنیا مسلمانوں کو ایک اکائی یعنی ملت یا امت سے تعبیر کرتی ہوئے مخاصمانہ سلوک روا رکھتی ہے۔ اور مسلمانوں کے اتحاد سے وجود میں آسکنے والی قوت کو اپنے لئے مستقبل میں ایک خطرہ سمجھتی ہے۔ اسی لئے اس اتحاد کو قائم نہ ہونے دینا مغرب کی دور رس دفاعی حکمت عملی کا ایک جز ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر بیرونی دنیا یا آپ کےحریف اسلامی دنیا کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنی سیاسی اور دفاعی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں تو پھر ہم مسلمان اپنے آپ کو ایک امت ماننے میں ہچکچاہٹ کیوں محسوس کرتے ہیں۔ دینی احکامات کی رو سے اور پھر زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمانوں کے پاس اتحاد بین المسلمین کے اصول پر صدق دل سے عمل پیرا ہونے کی حکمت عملی ترتیب دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ جاتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دوام تاریخ کو حاصل ہے اور مغرب کی یہ خوبی ہے اس نے تاریخ کو فراموش نہیں کیا۔ اس کے مقابلے میں ہم اپنی بدحالی میں بھی ایسے مست حال ہیں کہ زمانہ حال میں ہمارے ناگفتہ با حالات بھی ہماری حس بصارت اور بصیرت کو جگانے میں ناکام ہیں۔
"زمیں کیا، آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے"
دشمن ہماری علیحدہ اجتماعی شناخت کی بنیاد پر ہم پر تسلسل سے کاری ضربیں لگا رہا ہے اور ہم اپنے اسلامی تشخص اور نصب العین کو برملا تسلیم کرنے اور اس کا برملا اظہار کرنے میں بھی حجاب محسوس کرتے ہیں۔ یہ حقیقت تسلیم کئے بغیر کہ مسلمانوں کا اتحاد ہی ان کی بقا کی ضمانت ہے اور اس بات کا ادراک حاصل کئے بنا کہ طاقت کی جدوجہد میں زندہ رہنا ہی زندگی کی ضمانت ہے، ہم اس پستی اور زبوں حالی سے کبھی بھی چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں میں "آرزو جہاں بانی" پیدا کیے بغیر ہم دنیا میں اپنی موجودہ بےمائیگی اور بے توقیری سے نہیں نکل سکتے:
یہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گامزن، محبوبِ فطرت ہے
جو قومیں فکر و عمل کی راہ اختیار نہیں کرتیں اقبال نے انہیں کے لئے کہا ہے کہ:
"تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں"
ہمارے زعما اور قائدین اور صاحب علم و اختیار طبقے کا یہ فرض بنتا ہے کہ ان تمام اسباب کا ازالہ کرنے کی تگ و دو میں سر گرم عمل ہو جائیں جن سے امت کے قلوب میں دوری، نفرت اور ان کی صفوں میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔