عمران خان جیل سے کیسے رہا ہو سکتے ہیں؟
- تحریر محمد طارق
- جمعہ 31 / اکتوبر / 2025
پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں اپنے عہدے کے مبینہ ناجائز استعمال (بقولِ استغاثہ و مدعی) کے الزام میں جیل میں ہیں اور 14 سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔
دوسری جانب، تحریکِ انصاف کے عہدیداران اور عمران خان کے حامیوں کے نزدیک عمران خان بےگناہ ہیں۔ ان کے مطابق، انہیں اسٹیبلشمنٹ نے غیر قانونی طور پر جیل میں بند کر رکھا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواہ عمران خان کسی بھی الزام یا وجہ سے قید میں ہیں، انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کرانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
تحریکِ انصاف کے تعینات شدہ عہدیداران، خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت، اور بیرونِ ملک مقیم یوٹیوبر حمایتیوں کی جانب سے حریف سیاسی جماعتوں، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مسلسل نفرت انگیز بیانیے، جلسے اور دھرنوں کے باوجود، پچھلے دو برسوں میں عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی رعایت حاصل نہیں کی جا سکی۔ تحریکِ انصاف اور اس کے حامیوں کے طرزِ عمل سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان کی موجودہ حکمتِ عملی سے عمران خان کو جیل سے کوئی ریلیف نہیں مل سکتا۔ لہٰذا اب ضروری ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامی ووٹرز، سپورٹرز اور عہدیداران اس ناکام حکمتِ عملی کو ترک کر کے کوئی نیا، مؤثر راستہ اختیار کریں۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اور نظامِ حکومت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہے کہ ملک کی کوئی بھی سیاسی جماعت صرف دھرنوں اور نفرت انگیز مہمات کے ذریعے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کر کے کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ ہماری رائے میں، اگر تحریکِ انصاف واقعی عمران خان کی جلد رہائی چاہتی ہے تو اسے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا۔ بالخصوص ان جماعتوں سے جو مرکز یا صوبوں میں برسرِ اقتدار ہیں۔
مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں شاید حکومتی جماعتیں عمران خان کی رہائی کے سلسلے میں کوئی فوری رعایت دینے سے گریز کریں، مگر درمیانی مدت میں سیاسی جماعتوں کے مابین مفاہمانہ بات چیت سے عمران خان کی رہائی کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔ اگر تحریکِ انصاف دوسری سیاسی جماعتوں سے مذاکرات سے گریزاں رہی اور اس زعم میں مبتلا رہی کہ اسے 80 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے، اس لیے وہ محض مزاحمتی سیاست کے ذریعے تبدیلی لا سکتی ہے، تو یہ مفروضہ غلط ثابت ہو چکا ہے۔ کیونکہ اتنی بڑی عوامی حمایت کے باوجود وہ عملی طور پر عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہی۔
لہٰذا اب وقت کا تقاضا ہے کہ تحریکِ انصاف سیاسی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا آغاز کرے۔ یہی راستہ عمران خان کی ممکنہ رہائی کی بنیاد بن سکتا ہے۔