غزہ میں امن کا فوری تقاضا

ہماری پاکستان جیسی تھرڈ ورلڈسوسائٹی میں ایک جینوئن تھنکر یا رائٹر پر دباؤ محض آمرانہ ذہنیت کی حکومتوں کا ہی نہیں ہوتا بلکہ سماج کے استبدادی طبقات بالخصوص متشدد مذہبیت کا جبر بارہا ظالمانہ حکومتوں سے بھی بدتررہا ہے۔

اس ملک بدنصیب تضادستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں ایسے جتنے بھی جنونی جتھے معرض وجود میں آئے ان کی آبیاری ہی نہیں رکھوالی و سرپرستی بھی قریباً ہنڈرڈ پرسنٹ ہمارا طاقتور منظم ادارہ کرتا رہا ہے۔ ایسے ہی جیسے ایران میں اس نوع کے جنونی طبقے کی مائی باپ ولایت فقیہہ ہے۔ حقیقتاً ایران ہی نہیں یہ ولایت فقیہہ کی اپروچ قریباً ہر مسلم سوسائٹی میں پائی جاتی ہے، کہیں باضابطہ آئینی طور پر اور کہیں غیر تحریری نمونوں کی صورت۔

ہمارے جیسے ہائبرڈ سسٹم والے ممالک میں جہاں کی غیر تحریری ولایت فقیہہ کے ایرانیوں جیسے ظاہری ضوابط تو نہیں ہیں البتہ ہماری مقتدرہ خالصتاً اپنے مفاداتی ایجنڈے پر چلتی ہے۔ اس لیے اس میں یہ گنجائش موجود رہتی ہے کہ کب نائنٹی کے زاویے پر پینترا بدلنا ہے، یوں وہ کوئی شرمندگی محسوس کیے بغیر اس نوع کے پینترے بدلنے کے لیے آمادہ و تیار ہوجاتی ہے۔ اب مسئلہ عوامی سطح پر مسلط کی گئی رائے عامہ کا بنتا ہے۔ مثال کے طورپر آپ نے اپنی رائے عامہ فلی و کلی طور پر امریکا انڈیا یا اسرائیل سے شدید منافرت کی بنیاد پر تیار کر رکھی ہے لیکن آپ اپنا مفاد بدلے ہوئے حالات میں انہی کی یا ان میں سے کسی کی اپنائیت و حمایت میں جاتا دیکھتے ہیں۔ اور آپ فوری طور پر سابقہ پینترا بدلنے جارہے ہیں تو عوامی سطح پر اس کی مزاحمت شروع ہوجاتی ہے، جسے کچلنے کے لیے آپ کو اپنی توانائیاں اس قدر صرف کرنی پڑتی ہیں کہ بعض اوقات آپ خود ہی اس کارِ لاحاصل میں خرچ ہوجاتے ہیں۔

لہٰذا درویش کا مشورہ ہے کہ آپ کسی بھی ایکسٹریم یا انتہاپسندانہ اپروچ کو اختیار کرتے وقت اس میں کچھ نہ کچھ لچک رہنے دیا کریں۔ ہر معاملے کو دین ایمان، کفر و اسلام یا زندگی موت کا ایشو بناکرپیش نہ کیا کریں۔ اور یہ چیز تب تک ممکن نہیں ہے جب تک آپ اپنی سوسائٹی میں آزادئ اظہار کو نہ صرف بنیادی انسانی حق بلکہ ایک اعلیٰ انسانی قدر کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنڈر یا سرنگوں نہیں ہوجاتے۔ اس وقت ہماری سوسائٹی میں موجود ہر بڑے خلفشار کی جڑ آپ کی یہی اپروچ ہے کہ ایک وقت میں آپ اپنی ایک بات کو منوانے کے لیے ہر جمہوری حق یا اپروچ کو پھلانگ جاتے ہیں۔ دوسرے وقت میں ایک سو اسی کے زاویے سے قلابازی کھاتے ہیں۔ لیکن آپ کی اپنی تشکیل کردہ رائے عامہ ہنوز وہیں زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کی مصداق آپ کی اپنی پرانی تراشیدہ جگہ پر براجماں ہوتی ہے۔ اور پھر لگاتار آپ کی اس سے مڈبھیڑ ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر کھلاڑی کا بت آپ نے تراشا جسے توڑنے کے لیے آج آپ کو کتنی مشکلات پیش آرہی ہیں؟ طالبانی یاجوج ماجوج کو تشکیل دینے والے انڈین تو نہیں تھے، حضور خود آپ تھے۔ آج آپ نے اس کے خاتمے کو اسی طرح دین ایمان کا مسئلہ بنالیا ہے جس طرح اس کی تشکیل پر درویش جیسے حرف شکایت اٹھانے والوں کی ٹھکائی شروع کردیتے تھے۔ ایم کیو ایم سے لے کر ٹی ایل پی کی تازہ مثال تک ملاحظہ فرمالیں۔

اس وقت درویش کو جس ایشو پر بحث مطلوب ہے، وہ اسرائیل اور فلسطین کا تنازع ہے جسے آپ لوگوں نے ہمیشہ کفر و اسلام یا موت و حیات کی جنگ بناکر اپنی رائے عامہ اس قدر متشدد تشکیل دے رکھی ہے۔ درویش نے آج سے تین دہائیاں قبل جب اس نام نہاد ٹیبو کو توڑنے کی کوشش کی تو منہ کی کھانی پڑی۔ اتنے طویل دورانیے میں کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا اور آج بھی جب آپ اپنے پاسپورٹ کا نیا اجرا کرنے جارہے ہیں، ناچیز نے جب یہ کہنا چاہا کہ خدارا اس پر لکھی گئی فرسودہ تحریر کہ “یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے تمام دنیا کے لیے کارآمدہے“۔ اس لایعنی و منافرت بھری تحریر کو پاسپورٹ سے ہٹا دیں۔ آپ نے اگر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا یا نہیں کرنا چاہتے تو پھر اس کا نام بھی اپنے پاسپورٹ کی پیشانی پر کیوں لکھ رکھا ہے؟ جس پنڈ نہیں جانا اس کا ذکر کیا۔ انڈیا جس سے جنگیں لڑنے کے لیے آپ ہمہ وقت آمادہ و تیار رہتے ہیں، وہاں سے آنے والوں کے لیے تو آپ نے ویزے واہگہ بارڈر کے آس پاس لٹکا رکھے ہیں۔ جبکہ اسرائیل جس سے آپ کا براہِ راست کسی نوع کا کوئی ایک تنازع بھی نہیں، اس سے اتنی مغائرت و منافرت کیوں؟ آپ کو اپنے فلسطینی حماسیوں کا درد کس قدر دن رات بے چین و بے سکون رکھتا ہے؟ کیا سرکاری کیا غیر سرکاری ہمارا میڈیا جن کے خلاف چار حروف لکھنے بولنے کی اجازت نہیں دیتا مگر ایک وقت وہ بھی آیا جب آپ کا قومی مفاد شاہ حسین ابن طلال کے حق میں اس قدر گرمجوش ہوا کہ آپ نے جارڈن میں موجود ان باغی فلسطینیوں یا فلسطینی فدائین کا تورا بورا بنادیا۔ یوں کہ اسرائیلی ہی نہیں آپ کے شاعر مشرق کے الفاظ میں دنیا بھر کے ”شرمائیں یہود“ ان ہلاک شدگان متشدد فلسطینوں کی تعداد پانچ سے پچیس ہزار تک بیان کی جاتی ہے۔

درویش آج بھی آپ کے اس جراتمندانہ اقدام کی پوری تحسین کرتے ہوئے اسے جسٹیفائی کرتا ہے کہ آپ نے اس نازک موقع پر جو جاندار آپریشن کیا وہ ہر حوالے سے درست اور بروقت تھا کیونکہ آپ نے فلسطینیوں میں موجود دہشت گردوں کا قلع قمع کیا تھا بصورتِ دیگر وہ ہاشمی مملکت جارڈن میں شاہ حسین کا تختہ الٹتے تو اس سے بھی زیادہ خون خرابہ ہوتا اور یہ وہی متشدد فلسطینی تھے جنہون نے پوری پلاننگ کرتے ہوئے ماقبل 1951 میں موسس جارڈن یعنی شاہ حسین کے دادا حضور اور شریف مکہ کے فرزند شاہ عبداللہ اول کو عین بیت المقدس میں بے دردی سے قتل کرڈالا تھا۔ خاندانِ پیغمبر کے ساتھ یہ کتنا بڑا ظلم تھا جو ان فلسطینی ٹیررسٹوں نے روا رکھا۔ اگر بریگیڈر ضیا الحق نے ستر میں جارڈن اور کنگ آف جارڈن کا دفاع نہ کیا ہوتا تو نہ صرف پہلے والی شرانگیزی کی تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائی جاتی بلکہ عمان میں بیروت جیسی خانہ جنگی ہوتی اور وہ کھنڈر بن جاتا۔

پھر وقت کے ساتھ،حالات نے پلٹا کھایا عربوں نے اس قدر جنگیں لڑنے اور خون بہانے کے بعد عظیم مصری صدر انورالسادات کی قیادت میں یہ تسلیم کرلیا کہ محض اسرائیل نہیں خود عربوں کی بقا بھی جنگ نہیں امن میں ہے۔ اس معصوم صدر کو اس کی بھاری قیمت اگرچہ اپنی جان قربان کرکے دینی پڑی مگر اپنی قوم پر وہ یہ نیکی کرگیا کہ اس کے بعد آج تک نہ صرف مصر اور اسرائیل میں کوئی خونی جنگ نہیں ہوئی بلکہ جارڈن اور مابعد خود فلسطینی گوریلا لیڈر یاسر عرفات  نے بھی سادات کی راہ چنتے ہوئے اپنے عوامی عرب مفادات کا تحفظ کیا۔ البتہ یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جنونیت و خونخواری کا روگ اگر کسی قوم، گروہ یا فرد کو لگ جائے تو اس کا کیڑا دماغوں سے جلد نہیں نکل پاتا۔ کیونکہ وہ جنونی طبقات کی سرشت کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ عرفات نے سو دھکے کھانے کے بعد جب سادات کی امن پسندی کو اپنایا تو فوری طور پر فلسطینی متشدد اذہان کا لاوا حماس کی صورت پھوٹ پڑا۔ وہ دن اور آج کا دن حماس والوں نے سوائے عام غریب فلسطینیوں کو مروانے کے کیا کوئی ایک چپہ زمین حاصل کی یا کسی نوع کا کوئی ایک مفاد عام فسلطینیوں کو دلوایا؟ البتہ بربادی اتنی کروا دی جیسے کہ اب اگر انہیں غیر مسلح نہ کیاجاسکا تو عین ممکن ہے کہ غزہ کی اس پٹی سے فلسطینی عوام ہمیشہ کے لیے محروم کردیے جائیں۔

یہ ہیں وہ حالات جن میں ٹرمپ کا بیس نکاتی غزہ پیس پلان آیا ہے جسے بشمول سعودی عرب اور ترکیہ مسلم ورلڈ کی قریباً تمام قیادتوں نے سوائے ایران کے قبول کیا ہے۔ ایرانیوں کی مخالفت میں بھی اب کوئی دم خم نہیں رہا ہے۔ درویش ہمیشہ سے عرض گزار رہا ہے کہ کسی بھی قوم کا پھیلایا ہوا گند خود اس قوم کے ہوشمند طبقات کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرنا چاہیے۔ چہ جائیکہ کوئی دوسرا کرے اور نہ ختم ہونے والے قومیتی تعصبات بھڑکیں۔

شرم الشیخ کے جس معاہدے پر امریکا کے ساتھ ترکیہ، مصر اور قطر نے دستخط کیے ہیں اور پاکستانی قیادت نے بھی اس موقع پر ٹرمپ کی امن پسندی اور انسان نوازی کا قصیدہ پڑھتے ہوئے زمین و آسمان کے قلابے بجا طور پر ملادیے ہیں، ایسے میں اخلاقی، اصولی، سیاسی مذہبی اور عالمی ہر حوالےسے حکومت پاکستان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عالمی امن کے لیے حماس کی اس دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے، جو ہزاروں فلسطینیوں کو اپنی خونخواری کی بھینٹ چڑھا چکی ہے، آگے بڑھے۔ اپنی فورسز کے ذریعے ارضِ مقدس میں امن و سلامتی کے قیام میں اپنا حصہ ڈالے۔ بالکل اسی طرح جیسے مسلم ورلڈ کی تمام قیادتیں چاہتی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت انڈونیشیا کی قیادت اپنی بیس ہزار فورسز بھیجنے کا وعدہ یو این میں کھڑے ہوکر اقوام عالم کے سامنے کرچکی ہے۔ ہمارے برادر اسلامی ملک آذربائیجان کے پاکستان اور اسرائیل کے ساتھ مثالی تعلقات پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ ہم بھی اپنے ان مسلم بھائیوں کے دوش بدوش غزہ میں قیام امن کے لیے آگے بڑھیں۔ حکومت پاکستان اور اپنے طاقتوران سے استدعا ہے کہ وہ پاکستانی رائے عامہ کی بہتر تشکیل کے لیے، اسے جنونیت سے نکال کر عالمی امن و سلامتی کی طرف لانے کے لیے، اپنے ذرائع ابلاغ کی مثبت رہنمائی کے اقدامات اٹھائیں۔ یہاں براجماں خونی گدھوں کی فکری تطہیر کے لیے حریت فکر اور آزادئ اظہار کی راہیں کشادہ فرمائیں۔ تاکہ آپ شرم الشیخ میں اٹھائی گئی، اپنی عالمی ذمہ داریاں بطریقِ احسن ادا کرسکیں۔