پتھروں کے شہر میں آئینہ
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 31 / اکتوبر / 2025
اگر کوئی مجھ سے پوچھے پاکستان میں سب سے مشکل کام کون سا ہے تو میں کہوں گا سچ بولنا۔میرا ایک شعر ہے:
ایک سچ بولا تھا پھر ہوتی رہی بارشِ سنگ
ہم سے مت پوچھو کہ کس درجہ ہیں کھائے پتھر
ایک ایسا معاشرہ جو اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے،اگر اس ایک خوبی کو بھی نہیں اپنا سکتا تو اس سے بڑی کوتاہی کیا ہو سکتی ہے۔زندگی کے کسی شعبے کو دیکھیں یوں لگتا ہے کہ ہمیں سچ ڈھونڈنا پڑے گا، وہ بھی توڑی کے بھوسے سے۔ہمارے تو سامنے ہونے والے واقعات سچ کی بجائے جھوٹ کی چادر میں چھپ جاتے ہیں۔ہمارے تو مطالعہ پاکستان کے نصاب پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں کہ اس میں پورا سچ بیان نہیں ہوا۔ اگر کوئی دکاندار سچ بولنا شروع کر دے تو اُس کی سیل آدھی رہ جاتی ہے۔ کیونکہ وہ جھوٹ بول کر اپنے مال کی وہ خوبیاں بیان نہیں کرتا جو اُس میں ہے ہی نہیں۔
کل ایک آن لائن آرڈر موصول ہوا، بیٹی نے پیکٹ کھول کر دیکھا تو سر پیٹ کر رہ گئی۔ اُس نے مجھے وہ وڈیو دکھائی جو اس سوٹ کے بارے میں تھی، جس کا آرڈر دیا گیا تھا اور ملنے والا سوٹ اُس سے قطعاً مختلف اور گھٹیا کپڑے کا تھا۔ میں نے اُسے کہا صبر کرو، یہ تو آن لائن کا فراڈ ہے۔یہاں تو بعض دکاندار سامنے دکھا کر ہیرا پھیری کر جاتے ہیں۔
میں نے اپنے ایک پولیس افسر شاگرد سے پوچھا، اس نوکری میں سب سے مشکل کام کیا ہے؟اُس نے کہا سچ کی تلاش۔ ہر مجرم جھوٹ بولتا ہے اور ہر مدعی بھی سچ بیان نہیں کرتا۔وہ مبالغہ آرائی سے کام لیتا اور الزامات کو بڑھا چڑھا کے لکھواتا ہے۔اس طرح سچ ڈھونڈنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔میں نے کہا مجرم کے جھوٹ بولنے کی سمجھ تو آتی ہے لیکن یہ مدعی کا جھوٹ بولنا کچھ عجیب لگتا ہے۔اس نے کہا یہی تو ایک وبا معاشرے میں پھیل گئی ہے کہ سچ بولنے سے مقصد حل نہیں ہو گا،جھوٹ بولیں گے تو بات بن جائے گی۔ پھر اُس نے ایک اور مجبوری بتائی۔اُس نے کہا ملزم پر تو ہم سچ اگلوانے کے لئے، تھرڈ ڈگری طریقہ بھی استعمال کر لیتے ہیں، مگر مدعی کے ساتھ کیا کریں۔وہ تو تھانیدار کی ذرا سی اونچی بات سُن کر شور مچا دیتا ہے کہ ملزموں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔اُس نے بتایا کہ بہت سے مقدمات اس لئے اُلجھ جاتے ہیں کہ مدعی نے سچ نہیں بولا ہوتا۔مثلاً ملزموں میں کئی افراد کے نام لکھوا دیتا ہے جو اس کیس میں ملوث ہی نہیں ہوتے۔اس سے تفتیشی کے مسائل تو بڑھتے ہی ہیں،مقدمہ بھی کمزور اور مشکوک ہو جاتا ہے۔
ہمارا یہ رویہ بھی ایک عادت بن چکا ہے کہ حقائق پر پردہ ڈال دو، یہ مٹی پاؤ کا رویہ درحقیقت ہمارے مسائل بڑھا رہا ہے۔حکومتوں کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، وہ عوام تک حقیقت پہنچنے نہیں دیتیں۔ معیشت کے بارے میں آج تک کسی حکومت نے حقیقی اعداد و شمار پیش نہیں کئے۔گزشتہ بیس برسوں کی تاریخ اُٹھا کے دیکھ لیں، ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی کہ معیشت مضبوط ہو گئی ہے۔ملک بحران سے نکل آیا ہے۔ اب قرضوں پر انحصار ختم ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ مگر عملاً کیا ہوا سب کو معلوم ہے۔قرضہ بڑھتا گیا، معیشت نیچے آتی گئی، روپے کی تنزلی ہوئی، غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ سچ کل بھی جنسِ نایاب تھا اور آج بھی ناپید ہے۔
پاکستان تو شاید واحد ملک ہے کہ جس میں بڑے واقعات پر کمشن تو بنائے جاتے ہیں مگر کبھی اُن کی رپورٹ کو سامنے نہیں لایا جاتا۔یوں سچ دب کر رہ جاتا ہے۔ حمود الرحمن کمشن کی رپورٹ کا سُن سُن کر ایک نسل دنیا سے چلی گئی لیکن اُسے سامنے نہیں لایا گیا۔ سچ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ سامنے آ جائے تو مسائل حل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اگر اُسے دبایا جائے تو مسائل کینسر کی طرح پھیلتے ہیں۔ ایک وکیل دوست نے دلچسپ بات بتائی۔ انہوں نے کہا اگر معاشرے میں سچ عام ہو جائے تو کچہریاں ویران ہو جائیں، کیونکہ زیادہ تر مقدمات تو جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔ مقدمات اگر صحیح ہوں تو مدعا علیہ جھوٹا ہوتا ہے۔میں نے کہا ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس بات کو پلے باندھ لیا ہے کہ جھوٹ بولیں گے تو آخرت میں حساب ہو گا۔ہمیں اس بات کی ذرا پروا نہیں کہ جھوٹ بولنے سے رسوائی یا بدنامی بھی ہو سکتی ہے۔
ہمیں اس بات کا بھی کوئی خوف نہیں کہ جھوٹ بول کر ہم اللہ کے غضب کو بھی آواز دیتے ہیں۔ایک سچ سے معاشرے کے آدھے دُکھ خودبخود ختم ہو جاتے ہیں۔ جو دوست یورپ سے پاکستان آتے ہیں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ وہاں اور کچھ ہو نہ ہو،سچ ضرور بولا جاتا ہے۔دکاندار ہو یا افسر وہ جھوٹ سے کام نہیں لیتا۔یہ روایت وہاں اِس قدر پختہ ہو چکی ہے کہ اب دوسرے پر اعتبار کرتے ہوئے اِس طرح کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، جس طرح پاکستان میں کرنا پڑتا ہے۔مجھے اکثر وہ امریکی ڈگلس بروکس یاد آ جاتا ہے جو اَسی کی دہائی میں ڈائریکٹر ایشیا فاؤنڈیشن بن کر بہا الدین زکریا یونیورسٹی میں آیا اور میرے ساتھ اُس کی ملاقات ہو گئی،جو تین سال تک ایک مضبوط تعلق کے طور پر جاری رہی۔وہ پاکستانی معاشرے کی بہت سی باتوں پر حیرت زدہ رہ جاتا تھا۔وہ جب میرے ساتھ کسی دکان پر جاتا، جوتا، کپڑے یا کچھ اور خریدتا تو اِس بات پر حیران رہ جاتا کہ دکاندار جو قیمت بتاتا بھاؤ تاؤ کے بعد اُس سے آدھی قیمت پر دے دیتا۔ اِس پر وہ ایک جملہ بار بار کہتا تھا: ”پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے“۔
المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے رشتے بھی سچ کی بجائے جھوٹ پر استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کوئی دو ماہ پہلے میرے ایک عزیز کی بیٹی کا بیاہ ہوا۔انہیں بتایا گیا تھا کہ لڑکا سوئٹزر لینڈ میں جاب کرتا ہے اور انجینئر ہے۔فیملی لاہور کی رہنے والی تھی،میرے عزیز دوست نے جتنا ممکن تھا پتہ کرایا اور رشتے کے لئے ہاں کر دی۔ شادی ہو گئی تو لڑکے نے اُس کی بیٹی کو بتایا وہ کبھی سوئٹزر لینڈ گیا ہی نہیں،بلکہ بے روزگار ہے۔اُس نے یہ اصرار بھی کیا کہ اپنے والدین سے کہہ کر مجھے کوئی کاروبار کرا دے۔یہ خبر لڑکی پر بجلی بن کر گری۔ انہوں نے تو پوری برادری میں کہہ دیا تھا کہ شادی بیرون ملک مقیم ایک انجینئر سے کر رہے ہیں ،یہ تو خالی ایف اے پاس لڑکا تھا۔ ظاہر ہے کہ سچ سامنے آتے ہی سب کچھ ٹوٹ پھوٹ گیاکیونکہ داماد تو سسرال والوں کے لئے ایک عذاب بننے جا رہا تھا۔دوست کی بیٹی گھر آ گئی اور خلع کا دعویٰ کر دیا۔ جھوٹ کی بنیاد پر بھلا رشتے کیسے قائم رہ سکتے ہیں، مگر اِس کے باوجود ہر کوئی اس کوشش میں رہتا ہے کہ جھوٹ بول کر اپنا کام نکلوا لے۔
کبھی کبھی تو خیال آتا ہے معاشرے میں سچ بولنے کی تحریک شروع کی جائے۔سچ کی برکت سے ہمارے سارے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔مگر کیا ایسی کوئی تحریک پاکستان میں کامیاب ہو سکتی ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)