غزہ امن فورس میں حصہ داری کا تنازعہ

قیاس کیا جاسکتا ہے کہ حکومت  ٹرمپ امن منصوبہ کے تحت اس عالمی فوج کا حصہ بننے پر آمادہ ہے جو غزہ میں استحکام قائم کرنے اور حماس کو غیر مسلح کرکے اس علاقے کو اسرائیل کے لئے  ’محفوظ‘ بنانے کا فرض ادا کرے گی۔ تاہم اس معاملہ کی سیاسی حساسیت کی وجہ سے نہ تو اس  کا اعلان کیا جارہا ہے اور نہ ہی اس  سے واضح انکار کیا جاتا ہے۔

اس بے یقینی کی بنیادی وجہ حکومت کا یہ خوف ہے کہ اس فیصلے پر عوام کا کیا رد عمل ہوگا۔ خاص طور سے     ماہ رواں  کے وسط  میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے اہل غزہ سے  اظہار یک جہتی کے لیے نکالے گئے دھرنے اور اس اعلان نے صورت حال مزید مشکل بنا دی تھی کہ غزہ میں امن کے لیے امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیاجائے گا۔ پاکستان میں خاص طور سے  بیشتر مذہبی تنظیمیں حماس کی  حامی ہیں جبکہ ٹرمپ منصوبہ کے تحت اس گروہ کو غیر مسلح و غیر مؤثر کیے بغیر امن معاہدہ پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے جس بیس نکاتی فارمولے کا اعلان کیا تھا، اسے پاکستان سمیت دیگر سات مسلمان ممالک کی تائید حاصل تھی۔ ان تمام ممالک نے بعد  شرم الشیخ میں اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی تھی ۔  اب حماس کی طرف سے ترکیہ اور قطر نہ صرف  جنگ بندی کے معاہدے میں ثالث  ہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے صدر ٹرمپ کے ہمراہ معاہدے  پر دستخط کرکے انہوں نے یہ ضمانت بھی دی  ہے  کہ ان تمام شرائط پر ہوبہو عمل  ہوگا۔ اس لیے حکومت پاکستان کے کسی نمائندے کی طرف سے یہ دعویٰ کہ اسے ان شرائط کا علم نہیں ہے یا وہ یہ قیاس نہیں کرسکتا کہ پاکستانی فوج غزہ میں تعینات  ہونے کے بعد حماس کو غیر مسلح کرے گی اور غزہ سے اسرائیل کے خلاف ہمہ قسم دہشت گردی کا خاتمہ  کرائے گی، ناقابل قبول اور گمراہ کن طرز عمل کے مترادف ہے۔

بدقسمتی سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایسے ہی   رویہ کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ان کی باتیں  زمینی حقائق اور حکومتی منصوبوں کے برعکس ہیں ۔ اور وہ خود اپنی ہی پارٹی کے ایک لیڈر کی باتوں کو جھٹلا کر بظاہر عوام کو یہ یقین دلانا چاہ رہے ہیں کہ اول تو پاکستان نے ابھی تک غزہ امن فورس میں شامل ہونے کا  فیصلہ نہیں کیا حالانکہ تمام شواہد بتارہے ہیں کہ اصولی طور سے یہ فیصلہ ہوچکا ہے ۔ بس یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس کا اعلان کیسے کیا جائے۔ دوسرے حکومتی ترجمان دانیال چوہدری کا یہ بیان کہ ’غزہ امن فورس میں پاکستانی فوج کا کردار حماس کو غیر مسلح کرنا بھی ہوگا‘ ٹرمپ امن معاہدہ کے عین مطابق ہے جس پر پاکستان نے بھی اتفاق کیا ہے اور اصولی طور سے حماس کی قیادت بھی اسے تسلیم کرچکی ہے۔

دانیال چوہدری وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات ہیں۔ انہوں نے  28 اکتوبر کو ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک جنہیں امن فورس کا حصہ بنایا جائے گا، اُن کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ یقینی بنائیں کہ وہاں کوئی انتہاپسندی یا تشدد کا واقعہ پیش نہ آئے۔ اور نہ ہی سرحد پار سے کوئی حملہ ہو۔ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے گا۔ غزہ امن فورس میں شامل کسی بھی پاکستانی فوجی کی حفاظت اولین ترجیح ہوگی۔ ہم اپنا فرض نبھائیں گے۔ اپنے مسلم بھائیوں کا تحفظ کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سرحد پار خلاف ورزی یا دہشت گردی نہ ہو۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس مینڈیٹ میں حماس کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ جی بالکل۔ اگر (حماس) کو غیر مسلح کیا جائے گا، تب ہی دوسری فورس اپنا کام جاری رکھ سکے گی۔ معاملات صرف غیر مسلح ہونے کے بعد ہی آگے بڑھیں گے‘۔

بظاہر اس بیان میں کوئی بات خلاف واقعہ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دانیال چوہدری نے کم از کم اس بنیادی ہوشمندی کا مظاہرہ کیا ہے کہ  وہ ایسی باتیں نہ کہیں جو بے بنیاد ہوں اور جن کا ٹرمپ امن معاہدے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ البتہ وزیر دفاع  خواجہ آصف نے اس کے باوجود آج  ایک ٹیلی ویژن  پروگرام  میں  دانیال چوہدری کے بیان کو مسترد کرکے، اس کی مذمت کرنا ضروری سمجھا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ ’ اللہ نہ کرے ایسا کچھ ہو، یہ کس نوعیت کا بیان دیا گیا ؟ ان میں سے کوئی بھی بات نہ تو ہمارا ہدف ہے اور نہ ہمیں زیب دیتی ہے‘۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس فورس کے لیے جو بھی اجتماعی فیصلہ کیا جائے گا، پاکستان اسی پر عمل کرے گا۔ مجھے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ میں صاف صاف کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی ٹی وی پروگرام میں ذاتی حیثیت میں اس طرح کے بیانات دے رہا ہے تو یہ نامناسب ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس فورس کا کردار واقعی دانیال چوہدری کے بیان کے مطابق ہے تو انہوں نے کہا کہ میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ ایسی کوئی بات زیربحث نہیں آئی۔

دیکھا جاسکتا ہے کہ یہاں یہ سوال نہیں ہے کہ خواجہ آصف کا کیا مؤقف ہے یا ان کے جذبات کیا ہیں۔ یہاں اس نکتہ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کہ  ٹرمپ امن معاہدہ کے تحت  غزہ  کے لیے جو فوجی دستے متعین ہوں گے، وہ مسلمان ملکوں سے لیے جائیں گے۔ انڈونیشیا اس حوالے سے 20 ہزار فوجی فراہم کرنے کا وعدہ کرچکا ہے۔ کم و بیش اتنے ہی فوجی شاید پاکستان کی طرف سے بھی جائیں گے۔   اس وقت اہم ترین سوال یہ ہونا چاہئے کہ  اس امن فورس  کا مینڈیٹ کیا ہوگا اور یہ کس ملک کے کمانڈر کی کمان میں تعینات ہوگی۔  یقیناً امریکہ  و دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ان پہلوؤں پر بھی بات چیت ہورہی ہوگی لیکن  حکومت اور اس کے وزرا عوام کو حقیقی صورت حال سے لاعلم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسی ہی ایک کوشش نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس وقت کی تھی جب صدر ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں  غزہ جنگ بندی منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے فوری بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف امریکی صدر کو مبارک باد دینے والوں میں سر فہرست تھے۔ لیکن جب میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ اس منصوبہ میں علیحدہ فسلطینی ریاست کا کوئی واضح  اعلان شامل نہیں ہے تو اسحاق ڈار نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ٹرمپ منصوبہ آٹھ مسلمان ممالک کی پیش کردہ تجاویز کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان اس سے مکمل طور سے متفق نہیں۔ یہ بیان بھی جھوٹ پر مبنی تھا اور صرف پاکستانی عوام کو  دھوکے میں رکھنے کے لیے دیا گیا تھا۔ صرف تین دن بعد ہی وزیر اعظم شہباز شریف شرم الشیخ کی  غزہ امن سربراہی کانفرنس میں شریک تھے اور انہوں نے ٹرمپ کو سلیوٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت دنیا میں اگر کوئی امن پسند شخص ہے تو اس کا  نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ اس وقت پاکستانی وزیر اعظم کو یہ  بتانا  یاد نہیں رہا کہ ٹرمپ کے غزہ پلان میں وہ تجاویز شامل نہیں کی گئیں  جوپاکستان نے دیگر مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر پیش کی تھیں۔

اب خواجہ آصف بھی اسحاق ڈار کی طرح سچائی سے منہ موڑنے کے لیے غیرمتعلقہ باتیں کررہے ہیں۔  اس  قسم کی بیان بازی کا واحد مقصد رائے عامہ کا خوف ہے تاکہ عوام کی طرف سے کسی سخت رد عمل سے بچا جاسکے ۔ حالانکہ حکومت کو پاکستانی عوام پر یہ واضح کرنا چاہئے کہ فلسطین کے معاملہ میں عرب ممالک حقیقی اسٹیک ہولڈر ہیں اور اگر انہیں ٹرمپ منصوبہ کے تحت قیام امن اور فلسطینی  ریاست کے قیام کی امید ہے تو پاکستان کو اس پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں اسرائیل کے خلاف شدید مخالفانہ فضا پیدا کی گئی ہے۔  اس کا تعلق ملک میں یک طرفہ طور سے پھیلائی گئی مذہبی انتہا پسندی سے بھی ہے۔ لیکن سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ  کوئی بھی حکومت عوام کو اصل صورت حال سے آگاہ کرنے ، اپنی حدود  اور قومی مفادات کے بارے میں بتانے اور انتہاپسندی  ترک کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کام  نہیں کرتی۔ خواجہ  آصف کا بیان بھی درحقیقت اسی ناکام اور  عاقبت نااندیشانہ  سیاسی  حکمت عملی کا پرتو ہے۔

ملک میں سیاسی تقسیم کی وجہ سے تحریک انصاف اور دیگر عناصر غزہ معاہدہ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بے بنیاد اور  اشتعال انگیز خبریں پھیلانے کی کوشش کرتے  رہے ہیں۔ ان میں سر فہرست یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا وعدہ کرلیا ہے۔ حالانکہ ایسا کوئی وعدہ تو ابھی سعودی عرب نے بھی نہیں کیا۔ اگر سعودی عرب،  اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پاکستان  بھی ویسا  ہی فیصلہ کرے گا۔ اس میں کوئی  شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن محض  سیاسی مقاصد حاصل کرنے   اور  حکومت  کو بدنام کرنے کے لیے اس قسم کی افواہ سازی سے  نہ تو کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو فائدہ ہوگا اور نہ ہی یہ طرز عمل پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد کے مطابق ہے۔ اسرائیل اس وقت بھارت کے ساتھ تعلقات کو وسیع کررہا ہے۔ حالانکہ پاکستان ، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرکے اس خطرناک صورت حال کو تبدیل کرسکتا تھا۔ لیکن پاکستان میں فیصلے حقائق ، قومی  مفاد اور اسٹریٹجک ضرورتوں کی بجائے نعرے بازی اور جذبات کی  بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ یا انہیں خفیہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

خواجہ آصف گزشتہ کچھ عرصے  کے دوران عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی  منفی اور افسوسناک تصویر  پیش کرنے  کا سبب بنے ہیں۔  ستمبر کے دوران امریکہ میں ایک یوٹیوبر صحافی کو انٹرویو کے ذریعے  وہ  پاکستان کی جمہوریت اور  سیاسی  انتظام کے بارے میں شبہات  کو تقویت دینے کا سبب بنے۔ ابھی دو روز پہلے افغانستان کے خلاف تند و تیز بیان جاری کرکے خطے میں جنگ پھیلانے  کا  پیغام دیا۔  اور اب   ایک واقعاتی اور متوازن بیان کو مسترد کرکے انہوں نے غزہ  امن فورس کی حیثیت اور کردار کے بارے میں  پاکستانی حکومت   کی نیک نیتی  پر سوالات کو جنم دیا ہے۔ 

وزیر اعظم کو دیکھنا چاہئے کہ خواجہ آصف ان کی حکومت کے لیے ایک ایسا بوجھ بنتے جارہے ہیں جسے ڈھوتے ڈھوتے اس حکومت کا جنازہ نکل سکتا ہے۔