تحریک انصاف کے سابق رہنما عمران خان کی رہائی کے لیے مہم چلائیں گے
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے جمعہ کو لاہور میں پارٹی کے سابق رہنماؤں کی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عمران خان اور پارٹی کے دیگر لیٖروں کو رہا کرانے کی مہم کے بارے میں تبادلہ خیال ہؤا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پرانی قیادت ’ریلیز عمران خان‘ تحریک چلانے کے لیے تیار ہے۔ تحریک میں فواد چوہدری، عمران اسماعیل ، علی زیدی ، محمود مولوی، سبطین خان اور دیگر رہنما شامل ہوں گے۔
ذرائع نے کہا کہ سابق قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ پی ٹی آئی کی سابقہ قیادت نے اسٹبلشمنٹ سے رابطوں اور مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ملک میں سیاسی درجہ حرارت نیچے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عمران خان سے ملاقات بھی کی جائے گی۔ پی ٹی آئی کی سابقہ قیادت شاہ محمود قریشی کی رہائی کے لیے بھی سرگرم ہے۔
ذرائع نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سابقہ قیادت نے شاہ محمود قریشی کو بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے اور سیاسی درجہ حرارت نیچے لانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ شاہ محمود قریشی کو تمام تر معاملات درست کرنے کے لیے کردار ادا کرنے پر گفتگو ہوئی۔
سابقہ قیادت کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت عمران خان کو باہر نہیں نکال سکتی۔ سابقہ قیادت نے سابق سینیٹر اعجاز چوہدری، سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سے بھی ملاقات کی۔ ملاقاتوں کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں نے حکومتی وزرا سے ملنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ فواد چوہدی کی سربراہی میں تین رکنی وفد مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقات کرے گا۔ ملاقات میں ملکی سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے پر بات چیت ہوگی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری اور دیگر رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاسی قیدیوں کو باہر لانے کی کوشش کی تائید کی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ حکومت ایک قدم آگے بڑھے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹے۔ سیاسی درجہ حرارت کم ہو گا تو ہی ملک آگے بڑھ سکے گا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سیاسی درجہ حرارت میں کمی کیلئے پی ٹی آئی کو ایک قدم پیچھے ہٹنا اور حکومت کو ایک قدم آگے بڑھانا ہوگا۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی تناؤ کی وجہ سے پاکستان کو حاصل ہونے والی حالیہ بین الاقوامی کامیابیوں کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا۔ سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک پاکستان میں معاشی ترقی اور سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں کم ازکم بات چیت کا راستہ کھلے۔ شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتوں میں یہی نقطہ نظر ان کے سامنے رکھا اور وہ بھی اس بات کے حامی ہیں کہ سیاسی ماحول بہتر ہونا چاہئے۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ہماری اگلے ہفتے مسلم لیگ (ن) کے سینئر وزرا اور مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات ہوگی۔ ہم ان کے سامنے بھی یہی مدعا رکھیں گے کہ پاکستان میں سیاسی ماحول کو بہتر رکھنے کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ اس کیلئے اقدامات ہوں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ سیاسی قیدیوں کو ریلیف دے کر ماحول میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں بغیر وجہ کے نہیں ہورہیں۔
انہوں نے کہا کہ اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر چیمہ، میاں محمود الرشید سمیت جتنے بھی سیاسی کارکن اور خواتین جیلوں میں قید ہیں ضمانت ملنا ان کا حق ہے۔ جب یہ سب معاملات ہوں گے تو اس سے سیاسی فضا بہتر ہوگی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کو ممکن بنانا ہمارا بنیادی کام ہے۔ فی الحال میں (فواد چوہدری)، عمران اسماعیل اور محمود مولوی مل رہے ہیں اور ہماری اگلی ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کی سینئر لیڈر شپ بھی نظر آئے گی اور آپ دیکھیں گے کہ سیاسی ماحول بہتری کی طرف جائے گا۔