کابل رجیم اور قندھاری و حقانی گروپس
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 01 / نومبر / 2025
دسمبر 79 میں جب کابل میں افغانوں کی جاری داخلی کشمکش عروج تک پہنچی اور اشتراکی افواج دریائے آمو عبور کرکے افغانستان میں داخل ہو گئیں تو کچھ افغان دھڑوں نے اشتراکی فوجوں کے کٹھ پتلی حکمران ببرک کارمل اور روسیوں کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔
اس طرح سات دھڑوں کے اشتراک سے اتحاد اسلامی مجاہدین افغانستان تشکیل پایا جس میں گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی، مولوی یونس خالص حزب اسلامی، برہان الدین ربانی کی جمعیت اسلامی، عبدالرسول سیاف کی اتحاد اسلامی، احمد جیلانی کی محاذ ملی، صبغت اللہ مجددی کی افغانستان نیشنل لبریشن فرنٹ اور محمد بنی محمدی کی حرکت انقلاب اسلامی شامل تھیں۔یہ سب جماعتیں سنی مکتبہ فکر اور پشتون نمائندہ تھیں۔
اس کے برعکس شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی 8جماعتیں اتحاد دہشت گانہ کی صورت میں جمع ہو کر اشتراکیوں کے خلاف جدوجہد کررہی تھیں اور ان کا مرکز تہران تھا۔ افغانستان بنیادی طور پر پشتون اکثریتی ملک ہے اس لئے اشتراکیوں کے خلاف جدوجہد میں کلیدی کردار بھی انہوں نے ہی ادا کیا، جبکہ شیعہ اتحادی افغان نے بھی حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ اس کے علاوہ احمد شاہ مسعود کی قیادت نے غیر پشتون اتحاد شوریٰ نظام کی شکل میں افغانستان کی آزادی میں حصہ لیا۔ پنج شیر کے معرکے میں احمد شاہ مسعود نے عالمی شہرت حاصل کی اور اشتراکی افواج کو شکست دے کر شیر کا لقب پایا۔
جنیوا معاہدے کے نتیجے میں اشتراکی افواج کی واپسی کے بعد کابل میں روسیوں کے نامزد کردہ ڈاکٹر نجیب اللہ کے خلاف مجاہدین نے کاوشیں شروع کیں۔ پاکستان کے افغان امور کے ماہر اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل حمید گل کا آپریشن جلال آباد ناکام ہو گیا تو نجیب اللہ نے افغانستان میں متحرک مختلف پشتون جنگجو گروہوں کی سرپرستی کرنا شروع کر دی تاکہ نجیب اللہ کی حکومت قائم رہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج کل طالبان، مختلف دہشت گرد گروہوں بشمول تحریک طالبان پاکستان، مجید بریگیڈ، داعش، خراسان گروپ و دیگر کی پشت پناہی کر رہے ہیں تاکہ افغانوں کے داخلی تضاد کھل کرکہیں خانہ جنگی کی شکل اختیار نہ کرلیں۔ لیکن عملاً ایسا نہ ہو سکا بلکہ غیر پشتون دھڑوں نے 1992میں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں شمالی اتحاد قائم کرلیااس میں پروفیسر برہان الدین ربانی، رشید دوستم، عبدالمومن اور علی بیزاری جیسے لیڈر شامل تھے۔ اسے تاجک، ازبک، ہزارہ جات اور ترکمانوں کی حمایت حاصل تھی۔
شمالی اتحاد نے مزار شریف پر قبضہ کرکے کابل حکومت کی رسد کی لائنیں کاٹ ڈالیں۔ اس طرح کابل کے حکمران نجیب اللہ اور بعد میں طالبان کے لئے شدید مشکلات پیدا کیں۔ نجیب اللہ کے خاتمے کے بعد افغانستان میں سول وار شروع ہو گئی اور طالبان منظر پر ابھرے۔ شمالی اتحاد نے ان کے خلاف بھی مزاحمت جاری رکھی، انہیں ایران، روس، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور امریکہ کی حمایت حاصل رہی۔ دسمبر 2001 میں شمالی اتحاد کو عسکری کامیابی ملی۔ پھر حامد کرزئی کی حکومت کے قیام کے بعد یہ اتحاد ختم ہو گیا اور اس کے کئی لیڈر کرزئی حکومت میں شامل ہو گئے۔ امریکی اتحادی فوجوں کے ہر اول کے طور پر شمالی اتحاد کے لوگ 2001 میں کابل میں داخل ہوئے اور طالبان حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔
2021 میں سقوط کابل کے بعد شمالی اتحاد کے سابق لیڈروں نے کچھ طالبان مخالف لیڈروں کے ساتھ مل کر نیشنل ریذسٹنس فرنٹ آف افغانستان قائم کیا اور طالبان کے خلاف جدوجہد کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔شیر پنج شیراحمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود اس فرنٹ میں شامل ہے اور آج کل تاجکستان میں قیام پذیر ہے۔ اس نے حالیہ پاک افغان مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ ایسے دہشت گرد گروپوں کی حمایت ترک کر دی جائے جو سرحد پار دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔ شمالی اتحاد غیر پشتونوں پر مشتمل تھا ۔احمد شاہ مسعود کی قیادت نے اسے عالمی شہرت بخشی۔
اشتراکیوں کے خلاف جدوجہد ہو یا طالبان کے خلاف مزاحمت احمد شاہ مسعود نے عالمی شہرت حاصل کی اور افغانستان کے غیرپشتون قبائل اور گروپوں کی نمائندگی کی۔ اب یہی غیر پشتون فرنٹ میں شامل ہو کر اپنا آپ منوا رہے ہیں۔ طالبان کے خلاف قائم یہ فرنٹ غیر پشتونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ سردست یہ لوگ بہت فعال نہ ہوں گے۔ طالبان کے اندر گروہ بندی پائی جاتی ہے۔ قندھاری گروپ اور حقانی گروپ۔ سوچ کے اعتبار سے ان گروپوں کا اختلاف سامنے آ چکا ہے۔ قندھاری گروپ ہارڈلائنز اور نمک حرام قسم کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان کے پاس وزارت دفاع ہے، ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب وزیر دفاع ہیں۔ دوحا مذاکرات میں ملا یعقوب کے نائب نے ہی افغان وفد کی قیادت کی تھی۔اسی گروپ نے اپنا بندہ انڈیا مذاکرات کے لئے بھیجا تھا ۔ انہوں نے ہی ہندوستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔
دوسری طرف حقانی گروپ ہے ان کے پاس وزارت داخلہ ہے۔معروف عالمی عسکری گروپ، حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی کے پاس وزارت داخلہ کا قلمدان ہے۔ استنبول مذاکرات کی قیادت حاجی نذیر نے کی جو سراج الدین حقانی کے نائب ہیں۔ حقانیز پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے حامی ہیں۔ ٹی ٹی پی جن علاقوں میں فعال ہے یا قیام پذیر ہے، ان پر حقانی گروپ کا تسلط ہے۔ حقانیز پاکستان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ حالات سدھارنے اور بہتری لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن کابل انتظامیہ کی بھارت کے ساتھ لگاؤ اور پاکستان کے خلاف پالیسی اس راہ میں سردست رکاوٹ ہے۔
حالیہ منظر کشی کا مقصد، مستقبل کی پیش بینی ہے ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ طالبان حکمران اتحاد میں جلد پھوٹ پڑنے والی ہے۔ افغانوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں طویل مدت تک ہم آہنگی نہیں رہ سکی،یہاں اس وقت امن ہوتا ہے جب ایک گروہ غالب آ جاتا ہے اور دوسرا اس کی اطاعت قبول کرلیتا ہے۔ طالبان کے پہلے ادوار حکمرانی میں بھی یہی اصول کارفرما تھا۔ طالبان نے طاقت کے بل بوتے پر چھوٹے چھوٹے مسلح گروہوں کو شکست دے کر اطاعت پر مجبورکیا اور اپنی حکمرانی قائم کی۔لیکن اس دور میں بھی شمالی اتحاد کے زیر اثر علاقوں پر طالبان کی رٹ قائم نہ ہو سکی۔ تاجک، ہزارہ، ازبک، ترکمان و دیگر غیر پشتون گروپوں کو طالبان زیراطاعت نہ لا سکے۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے حقانی گروپ، چھوٹا موٹا گروپ نہیں بلکہ پورا نیٹ ورک ہے۔ اسی نیٹ ورک نے امریکی اتحادیوں کو عسکری شکست سے دوچار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔اب بھی اسی نیٹ ورک کا افغانستان کے طول و عرض پر ہولڈ ہے۔
امکان موجود ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کے حوالے سے قندھاری اور حقانی گروپوں میں اختلافات کھل کر سامنے آ جائیں اور احمد مسعود تاجک گروپ اور اس کا فرنٹ ان کے ساتھ مل کر طالبان کا دھڑن تختہ کرنے کی جدوجہد کا آغاز کردے۔ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)