بھنبھل بھوسہ !

یہ خالص پنجابی کا لفظ ہے جس کا مطلب کنفیوژن اور حل نہ ہونے والا معمّہ یا ایسی صورتحال ہے جس کو سمجھنا مشکل بلکہ ناممکن ہو۔ کئی دور ایسے ہوتے ہیں جن میں نئےبھنبھل بھوسے، نئے نئے بحران سامنے آجاتے ہیں جن کا حل آسان نہیں ہوتا۔

بابا بلّھے شاہ (1680- 1757) کو بھی بھنبھل بھوسے کا سامنا تھا۔ شناختی بحران تھا یا ثقافتی، مذہبی مسئلہ یا مسلکی معاملہ، ذات کی لڑائی تھی یا برادریوں کی برتری؟ اسی کنفیوژن اور گورکھ دھندے کو ’کیہ جاناں میں کون؟‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ 3صدیاں گزرنے کے بعد جھلّے شاہ کو بھی سیاست معاشرت، بین الاقوامیت، اظہار رائے، آئین، جمہوریت اور نظام کے بارے میں وہی سوال، و ہی بھنبھل بھوسہ، وہی گورکھ دھندا درپیش ہے۔ ’کیہ جاناں؟‘ یہ ہائبرڈ نظام ہے یا جمہوریت، کیہ جاناں۔ میں سچا ہوں یا جھوٹا کیہ جاناں، جھلّے شاہ کا سیاسی قبلہ درست ہے یا غلط، کیہ جاناں۔ ملک کی پالیسیاں ٹھیک سمت میں جا رہی ہیں یا اُلٹ، کیہ جاناں۔ بھارت اور افغانستان دونوں کے ساتھ سرحدیں گرم رکھنا بہادری کا نمونہ ہے یا کہیں اسٹرٹیجی کی کجّی، کیہ جاناں۔

آئین پر عملدرآمد ہے یا اُسے کہیں طاق پر رکھا ہوا ہے، کیہ جاناں؟ عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے یا منقار زیرِ پر، کیہ جاناں۔ اظہار رائے کی آزادی ہے یا پھر آواز صدا بہ صحرا ہے، کیہ جاناں۔ ہم اندھیرے کی طرف رواں دواں ہیں یا روشنی سے آنکھیں چندھیانے والی ہیں، کیہ جاناں؟ صدر ٹرمپ سے ہماری دوستی عارضی اور وقتی ہے یا دائمی، کیہ جاناں؟

کیہ جاناں جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کا بین الاقوامی نظام زلزلے کی زد میں ہے، کیہ جاناں۔ جھلّے شاہ جمہوری نظام کی نعمتوں پر تعریف و توصیف کے ڈونگرے برساتا رہا۔ انسانی حقوق کیلئے نعرے لگاتا رہا، پارلیمان کی بالا دستی پر یقین کرتا رہا۔ آزادی اظہار کے فوائد پر لوگوں کو مسحور کرتا رہا۔ تکثیریت کا قائل اور کسی غلبے اور اجارہ داری کے خلاف رہا۔ کیہ جاناں کہ یہ سارے خواب بکھر رہے ہیں ۔ کیہ جاناں کہ یہ سب سراب تھے، کیہ جاناں کہ جو پڑھا، لکھا، سوچا سب جانے والا ہے۔

اتنا بڑا گورکھ دھندا؟ اس قدر زیادہ بھنبھل بھوسہ یا گریٹ کنفیوژن۔ واقعی شناختی بحران، سیاسی نظریہ جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، اظہار رائے کی اہمیت اور فری مارکیٹ اکانومی کی افادیت، سب کچھ دھندلا رہا ہے۔ جھلّے شاہ یہ کہنے سے کیوں ہچکچائے، کیہ جاناں میں کون؟ جیل میں بیٹھا قیدی معجزے سے رہا ہوگا یا اندر ہی بند رہے گا ؟ کیا یہ قیدی روحانی بی بی کی پیش گوئی کے مطابق کسی انقلاب کے انتظار میں ہے۔ کیا ایسا انقلاب برپا ہونے کی امید بَر آئے گی یا اس کا کوئی امکان نہیں؟ کیا فوج اور حکومت میں جتنی اچھی آج چل رہی ہے اسی طرح چلتی رہے گی یا کل کو ون پیج پھٹ جائے گا؟ شہباز شریف جس طرح سپیس نہ ہونے کے باوجود سر نیچا کر کے چل رہے ہیں، اس کا کوئی سیاسی فائدہ ہوگا یا جو کچھ ہے وُہ بھی گنوا بیٹھیں گے؟ نواز شریف سکون کی زندگی سے دوبارہ سیاسی جنون کی زندگی میں آئیں گے یا نہیں؟ شہباز شریف کی مقتدرہ سے قربت اور پسندیدگی میں اضافہ فی الحال مریم نواز شریف کواگلی ٹرم کیلئے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننے سے روک پائے گا یا نہیں۔ کیہ جاناں؟

کیا آصف زرداری اسی طرح پس منظر میں بیٹھے نون لیگ کے چچا بھتیجی کی گڈی چڑھتے دیکھتے رہیں گے یا پھر کوئی ماسٹر اسٹروک کھیل کر بلاول کو پھر سے مقتدرہ کا فیورٹ بنانے کی کوشش کریں گے؟ جن 100 ارب ڈالر سے ملک کی اقتصادی تقدیر بدلنے کے دعوے کیے گئے تھے، وہ کب آئیں گے یا اب ان کی امید اور خواہش، دونوں ختم ہو چکی ہیں؟ امریکہ سے پاکستانی فوج اور حکومت کی دوستی و قربت شوشا تک ہی رہے گی یا اس کا ادارہ جاتی اثربھی آئے گا ؟ امریکہ ہمیں تھپکیاں ہی دےگا یا ڈالروں کی کھیپ بھی روانہ کرے گا؟ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ بہت اہم ہےمگر کیا پاکستان کو اس کے معاشی فوائد بھی ملیں گے؟ خلیج میں پاکستان کا رسوخ اور مقام بڑھا ہے۔  کیا اس کے نتیجے میں ایران اور خلیجی ریاستیں، بھارت کو اپنے اپنے ملکوں سے نکال سکیں گی یا ہماری پھنے خانی صرف میٹنگوں تک ہی محدود رہے گی؟ کیہ جاناں

بلّھے شاہ سماج اور مذہب کے بڑے بڑے سوالوں کےبھنبھل بھوسے میں تھا۔ جھلّے شاہ سماج کے چھوٹے چھوٹے سوالوں میں ہی غلطاں ہے۔ تنخواہ دار سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں جبکہ تاجر اور صنعتکار ان کی نسبت بہت کم ٹیکس دیتے ہیں ایسا کیوں؟ زمینداروں اور کسانوں کے ساتھ مسلسل زیادتی ہو رہی ہے۔ گندم، چاول سستا خریدا جاتا ہے اور زمیندار کو کھاد اور ادویات مہنگی دی جاتی ہیں۔ کسان کا گنّا سستے داموں خرید کر اسے ادائیگی تک نہیں کی جاتی اور شوگر مل مالکان چینی برآمد کرکے منافع کماتے ہیں۔ ہر سال یہی ہوتا ہے، کیا ایسا ہی ہوتا رہے گا؟ تمام تر دعوؤں کے باوجود زراعت جدید خطوط پر استوار نہیں ہو سکی۔ وہی چار فصلیں ہیں جو صدیوں سے اُگائی جا رہی ہیں۔ ٹریکٹر، تھریشر اور ٹیوب ویل ضرور آگئے ہیں لیکن نہ پانی کے بے جا استعمال کا کوئی حل نکالا گیا اور نہ ہی نئی فصلوں پر تجربات سے زراعت کو جدید بنایا گیا ۔

حد تو یہ ہے کہ ایوان زراعت کو بنے دو دہائیوں سے زیادہ گزر گئے ہیں۔ کیا اس کا ایوانِ صنعت و تجارت، اپٹما یا شوگر مل ایسوسی ایشن جیسی بہترین ریسرچ تنظیموں سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا اس ملک کا کسان ایسے ہی مرتارہے گا ؟ کیا بلّھے شاہ کے دور کا غریب اور جھلّے شاہ کے دور کا غریب کبھی اپنی قسمت نہیں بدل پائے گا؟ کیا صدیوں کا یہ گھن چکر، یہ برسوں کا گورکھ دھندا، یہ نسلوں کا بحران، یہ ملک ملک کا معمہ کبھی حل ہوگا ؟ کیہ جاناں……

تازہ بھنبھل بھوسہ غزہ میں پاکستان کو امن فوج کا حصہ بنانے کا ہے۔ کیہ جاناں کہ مسلمانوں کی امن فوج فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف حفاظت کرے گی یا پھر حماس اور فلسطینیوں کو اسرائیل کے خلاف حملےکرنےسے روکے گی؟ بلّھے شاہ سوال کرتا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کافر ہوں یا مسلمان؟ میں پاک ہوں یا پلید؟ امن فوج فلسطینیوں کی حمایت کرے گی تو امریکہ اور اسرائیل اسے جانب دار قرار دیں گے، حماس کے راستے کی رکاوٹ بنی تو کافر ٹھہرے گی۔ کیہ جاناں کیا فیصلہ بہتر ہوگا ؟ جھلّے شاہ کیسےفیصلہ کرے۔ بلّھے شاہ پریشان تھا تو جھلّے شاہ کس قدر زیادہ پریشان ہوگا؟

بلّھے شاہ کو ’کفر‘ بولنے پر شہر بدر کر دیا۔ ’سید‘‘ کو آرائیں کا مرید بننے پر طعنے دیئے گئے اور حد تو یہ کہ بلّھے شاہ کا جنازہ بھی قصور کے مولویوں نے نہیں پڑھا یا۔ یہ اعزاز بھی خواجہ سراؤں کے حصّے آیا۔ جھلّے شاہ ڈر پوک ہے۔ پر پھر بھی موردِالزام ہے۔ طعنے گالیاں اور دشنام تو اس کے حصّے میں آتے ہیں مگر یہ مصلحت پسند جھلّے شاہ اخلاقی شہید ہونے سے بچ نکلے گا۔

یہ بڑا موقع پرست ہے، راستہ نکال لے گا۔ مگر اس کےبھنبھل بھوسے، کنفیوژن اور معمے حل ہونے والے نہیں۔ سب ختم ہو جائے گا پھر بھی بھنبھل بھوسے موجود رہیں گے

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??