سکنڈے نیویا کی ایک قدیم نظم کا تاریخی و ادبی پس منظر
- تحریر خالد محمود اوسلو
- منگل 04 / نومبر / 2025
دنیا کا ہر معاشرہ ایک خاص مزاج اور اقدار کا حامل ہوتا ہے ۔ جس سے آگاہی اس کی تہذیب وثقافت کے مطالعہ سے حاصل ہوتی ہے اور ہر ثقافت تک رسائی کا زینہ اس کا ادب ہوتا ہے۔
لہذا کسی بھی ثقافت کے اسرار و رموز کو سمجھنے کے لیے اس کے ادب میں غوطہ زنی لازم ہوتی ہے۔ ادب تہذیبوں کا امین و محافظ ہی نہیں بلکہ نمائندہ بھی ہوتا ہے جو زمانہ قدیم سے لے کر دورے جدید تک قلمکاروں کے جوہرتخلیق سے نمودار ہو کر نئی نسلوں کو ماضی میں جھانکنے اور حال کو سمجھنے کی دسترس میں لاتاہے۔ ثقافتی محققین کےلیے مختلف تہذیبوں تک رسائی بھی ادب ہی فراہم کرتا ہے۔ دنیا کی ہر تہذیب وثقافت اپنے انداز میں منفرد و پُراسرار ہوتی ہےجس کے پیچ و خم اس کے ادبی مطالعہ سے کھلتے ہیں۔
سکنڈے نیویا اور خطہ شمالی کی مشترکہ ثقافتی اساس کی آغوش میں پلنے والی نارویجن تہذیب و ثقافت کے چند گوشوں سے پردہ اُٹھانے کے لیے اس کی ایک شاہکار ادبی تحریر ہوواہا موُل Håvamål کی ورق گردانی کا مقصد اس کی ثقافتی اساس کا کھوج لگا کر اس سے شناسائی حاصل کرنے کے ساتھ دوسری ثقافتوں سے ممکنہ مماثلت کو بھی اجاگر کرنا ہے۔ کیونکہ اب یہ خطہ تارکین وطن کی آمد سے کئی نئی تہذیبوں کا مسکن بھی بنتا جارہا ہے۔ ہوواہاموُل Håvamål ایک قدیم خدائی نظم ہے جس کو نظم دانش بھی کہا جاتا ہے لفظ ہوواہا موُل Håvamål کا مطلب کلام اولئ یا کسی اعلئ ہستی کا کلام ہے جس کے ذریعے قدیم نارڈک مذہب کے دیوتا اُودین Odin مخلوق سے مخاطب ہو کر انہیں عقل و دانش، اخلاقیات، اعتدال و قناعت، جرات وبہادری، رفاقت و دوستی، انسانیت اور عقل سلیم کا درس دیتا ہے۔
اس نظم کی رو سے انسان کے مرنے کے بعد اُس کے پیچھے چھوڑ جانے والے ترکہ میں سب اہم اور مرکزی حثیت نیک نامی کو حاصل ہے۔ یہ نظم تقریباً گیارہویں صدی میں آئس لینڈ میں تحریر ہوئی اور یہ قدیم خطہ شمالی کے شعری مجموعہ ایدھہ Edda میں موجود ہے۔ ایدھہ لفظ کے معنی پردادای کے ہیں۔ لہذا اس ادبی مجموعہ کو خطہ شمالی کی شاعری و دانش کی جد امجدسمجھا جاتاہے۔ گو ہوواہاموُل گیارہویں صدی میں تحریر ہوئی لیکن اصل میں یہ کوئی پانچ صدی پہلے کی تخلیق بتائی جاتی ہے جو تحریر ہونے سے پہلے سینہ بہ سینہ نسلوں میں منتقل ہوتی رہی۔ اور معاشرے کی اخلاقی اقدار کو تراشتی رہی۔ یہ نظم باقاعدہ قافیہ کی طرز پہ لکھی گئی ہے اور مترنم بھی ہے۔ یہ ایک سو چونسٹھ 164 بند پر مشتمل ہے۔
یہ قدیم نظمیہ مجموعہ ایک مخصوص انداز میں روزمرہ کی زندگی اور مذہبی اختلاط کے راہنما اصولوں پر مبنی اخلاقی اقدار کو وضع کرتی ہے۔ اس کے کئی مصرعے شمالی ممالک کی زبانوں کے ضرب المثل بن چکے ہیں اور کثرت سے روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ نظم دیوتاؤں کی خدائی کے بارے میں کوئی خاص نشاندہی نہیں کرتی لیکن انسانیت کو حکمت حیات کا راستہ دکھاتی ہے۔ پرانی ایدھہ کتاب کے اندر ہوواہا موُل Håvamål کو کلام اولی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو کسی اعلی ہستی کی طرف سے درس تلقین کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس نظم کا پہلا حصہ خطرات، معاشرتی تصادم اور دشمنی و عداوت پر مبنی روزمرہ کی عملی زندگی سے متعلق ہے جس کے چند بند ان موضوعات کی عکاسی کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر Odin اودین بحثیت اعلی ہستی کے مخاطب ہوتے ہوئےکہتا ہے کہ:
بہادر دانشمندی کو گلے لگاتاہے اور بُرائی سے منہ موڑتا ہے۔
بزدل معرکہ آرائی سے بچ کر ابدی زندگی کی خواہش رکھتا ہے لیکن بڑھاپے کی بےسکونی سے چھٹکارا ممکن نہیں چاہے وہ کتنا ہی تلواروں سے بچتا رہے۔
زندگی کا فیصلہ مقدر کرتا ہے، خوشی وغمی سے سب ہمکنار ہوتے ہیں اور موت نے آخر ہمیں آ ہی لینا ہے۔
ہر چیز فانی ہے ماسوائے عزت و وقارکے۔
۔ موت سے نہ ڈرو، عزت کے لیے جیو اور دنیاوی لالچ سے آزاد رہو
مویشی مر جائیں گے خاندان مٹ جائیں گے لیکن اگر نہیں مرے گی تو صرف تمہاری نیک نامی۔
اگر ہوواہا موُل Håvamål کے ان چند نظمیہ مصرعوں پہ غور کیا جائے تو اس کے ساتھ ملتے جُلتے خیالات دوسری ثقافتوں اور تہذیبوں کے ادب میں بھی ملتے ہیں ۔ جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ قدیم ناروے کا ادب بھی اچھے اور بُرے میں تمیز کی تگ و دو سے بر سرپیکار ہے۔ جس کی بنیاد پر معاشرتی اقدار کو پروان چڑھانا مقصود ہوتا ہے۔ اس نظم کے دوسرے حصے میں اعتدال و قناعت، پیش بینی واحتیاط، نظم و ضبط اور دوستی و رفاقت کو اعلی اقدار گردانا گیا ہے جس کی طرف ایدھہ نظم میں درج اشعار اشارہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اودین کی یہ نصیحت کہ:
ایک جہل کی دوستی سے بچو وہ تمہیں خطرات سے دوچار کرے گا اور غیر محفوظ بنائے دے گا۔
۔ دوست وہ ہے جو مشکل وقت میں کام آئے
۔ دوست وہ ہے جو صُلح جو ہو اور آزمائش میں ساتھ کھڑا ہو
اگر تم کسی دوست پر کامل یقین کرو تو پھر تمہیں واپس اچھائی ملے گی۔ دوست کو راز داں رکھو اور ایک دوسرے میں تحائف کا تبادلہ کرو۔
اسی طرح اگلے حصے میں محبت اور دغا بازی کے بارے میں اودین مہمان نوازی اور سخاوت کی بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ:
صدق دل سے مہمان نوازی کرو، سخی اور بیباک ہمیشہ عزت پاتا ہے۔ وہ بلا خوف سخاوت کرتا ہے جبکہ کنجوس عزت سے محروم رہتا ہے۔
۔ اچھائی کا بدلہ ہمیشہ اچھائی سے دو اور برائی کے بدلے انصاف کرو
اس کے ساتھ ہی اودین کہتا ہے کہ دانشمند فضول باتوں سے اور فضول لوگوں سے دور بھاگتا ہے۔
اودین کا قول ہے کہ کم بولنا دانش ہے اور عقلمند کچھ کہنے سے پہلے اپنے الفاظ کو خوب تولتا ہے۔
۔ کھوکھلی باتوں سے اجتناب کرو اور جس سے کسی کا بھلا نہ ہو وہ بات مت کرو
اودین کہتا ہے کہ دانش کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں اور دانش ہی ہماری روح کی اصل راہنما ہے۔ اودین کہتا ہے کہ دانشمند کی بات سنو اور علم کو تلاش کرو اور اچھائی کو اپناؤ۔
یہ ہوواہاموُل Håvamå کا انتہائی مختصر سا خلاصہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ تہذیبوں اور ثقافتوں میں طویل جغرافیائی فاصلے ہونے کے باوجود بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دنیا کی ہر تہذیب اچھائی کی خواہاں رہی ہے اور مختلف انداز اور طریقوں سے اس کا پرچار کرتی رہی ہے ۔ ہوواہاموُل Håvamål کا مطالعہ کرتے یہ گماں گزرتا ہے کہ اس میں موجود ادبی مواد سے پنجابی ادب کی رمز بھی جھلکتی محسوس ہوتی ہے۔ اور اس کے کچھ حصے پڑھنے سے شائبہ گزرتا ہے کہ یہ ادیان ابراھیمی کی ہمجولن ہے۔ گو تاریخی اعتبار سے ان کے آپس میں کسی رابطہ کا ثبوت نہیں ملتا۔ کیونکہ ہوواہاموُل کی نظم ناروے اور خطہ شمال میں عیسائیت کی آمد سے کئی سو سال پہلے کی تخلیق ہے۔ تو اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انسان اپنی فطرت میں ہمیشہ اچھائی کا طلبگار اور برائی سے بیزار رہا ہے۔ اور بہادری اور وقار کو فوقیت دیتا ہے۔ کیونکہ معاشرے میں انصاف اور بھلائی کے لیے آواز اُٹھانے کے لیے بہادری اور جرات درکار ہوتی ہے۔
ہوواہاموُل میں خاص کر متاثر کُن چیز انسان کو بار بار یہ تلقین کرنا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا نام موت کے بعد زندہ رہے تو پھر اچھے کام کرو ورنہ تم ہر فانی چیز کی طرح بھلا دیے جاؤ گے۔ یہ تلقین ایک طرح سے معاشرے میں لوگوں کو قناعت کا سبق دیتی ہے کہ اس دنیا میں اچھے بن کے رہو، دوسروں کے کام آؤ اور اچھی نیک نامی چھوڑ کے جاؤ۔ ہوواہاموُل Håvamål دانشمندانہ نصیحتوں سے بھری ہے اور آخر میں اعلی ہستی یہ بتاتی ہے کہ اُس نے پڑھنے لکھنے کی اہلیت کیسے حاصل کی اور سب سے آخر میں وہ جادو کی اہمیت کو اُجاگر کرتی ہے۔
اُس زمانہ میں جادوائی گیتوں کو مشکل سے نجات کے لیے گانے کا اعتقاد عام تھا۔ اور جادو جیسی توہم پرست رسم کا رواج تھا۔ حتیٰ کہ محبوب کو زیر کرنے سے لے کر ہر مشکل کو جادو کے گیتوں سے حل کرنے پر لوگ یقین رکھتے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس نظم کے آخر میں اودین جادو کے گانوں کی کرشماتی قوت و اہمیت پر زور دیتا ہے ۔ لیکن ہوواہاموُل کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ قدیم نارویجن ادب عالمی ادب کے قریب تھا۔ اور یہ جو ایک مفروضہ ہے کہ وائیکنگ Viking کا زمانہ ایک وحشی دور تھا، اس کی نفی کرتا ہے ۔ کیونکہ جو چیزیں اور جس طرح کی لوٹ مار کو وائیکنگ شناخت کا حصہ بنایا جاتا ہے، وہ زمانہ قدیم میں ہر خطے کے باشندوں کا وطیرہ ہوتا تھا، اور مفتوح علاقوں میں خونریزی، لوٹ مار اور عصمت دری فاتح گروہ کا رویہ ہوتا تھا۔