زہران ممدانی نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب
34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ، زہران ممدانی نے منگل کے روز نیویارک سٹی کا میئر کا انتخاب جیت لیا۔ ان کی سنسنی خیز کامیابی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید مخالفت کے باوجود ممکن ہوئی ہے۔
ممدانی امریکا کے سب سے بڑے شہر کے پہلے مسلمان میئر بنیں گے۔ انہوں نے 67 سالہ سابق ڈیموکریٹک گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی جو پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ تاہم انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا۔ یہ مہم نظریاتی اور نسلی لحاظ سے ایک بڑی آزمائش ثابت ہوئی جو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے قومی سطح پر اثرات کی حامل ہوسکتی ہے۔
ممدانی یوگنڈا میں ایک بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہوئے اور 7 سال کی عمر میں امریکا منتقل ہو گئے۔ وہ 2018 میں امریکی شہری بنے۔ دوسری طرف ورجینیا میں ڈیموکریٹ ایبیگیل اسپینبرگر نے گورنر کا انتخاب آسانی سے جیت لیا۔ وہ ریاست کی پہلی خاتون گورنر بن گئیں۔ جب کہ ڈیموکریٹ غزالہ ہاشمی نے لیفٹیننٹ گورنر کا انتخاب جیت کر نہ صرف ریاست کی پہلی جنوبی ایشیائی بلکہ امریکا کی پہلی مسلم خاتون بننے کا اعزاز حاصل کیا، جو کسی ریاستی سطح کے عہدے پر منتخب ہوئی ہوں۔ نیو جرسی میں ڈیموکریٹ میکی شیریل نے بھی گورنر کا انتخاب جیت لیا۔
یہ انتخابات ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک آزمائش تھے جس سے 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے پارٹی حکمت عملی کا تعین ہوگا۔ مڈ ٹرم انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کانگرس کا کنٹرول حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔
گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد ڈیموکریٹس واشنگٹن میں اقتدار سے باہر ہو گئے تھے۔ اب وہ سیاسی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ناکامیوں پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے غیر معین پولز کا حوالہ دیا جنہوں نے اس ناکامی کی وجہ جاری سرکاری شٹ ڈاؤن اور ٹرمپ کا بیلٹ پر نہ ہونا قرار دیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ پولسٹرز کے مطابق ’ٹرمپ بیلٹ پر نہیں تھے اور شٹ ڈاؤن‘۔ ان 2 وجوہات کی وجہ سے ریپبلکنز آج رات انتخابات ہار گئے‘۔
غزالہ ہاشمی نے ریپبلکن مصنف اور قدامت پسند ریڈیو میزبان جان ریڈ کو شکست دی۔ وہ پوری مہم کے دوران سبقت میں رہیں۔ اگرچہ انتخابات سے قبل کے آخری دنوں میں فرق کچھ کم ہو گیا تھا۔ جون میں غزالہ ہاشمی نے سخت مقابلے میں سابق رچمنڈ میئر لیور اسٹونی اور ریاستی سینیٹر ایرن راؤس کو شکست دے کر ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل کی تھی۔
پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والی ہاشمی کو نمایاں ڈیموکریٹ رہنماؤں، مثلاً کیلیفورنیا کے رکنِ کانگریس رو خنہ، کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ حیدرآباد بھارت میں پیدا ہونے والی غزالہ ہاشمی کم عمری میں امریکا منتقل ہوئیں۔ انہوں نے ایموری یونیورسٹی سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کی اور ورجینیا کی کمیونٹی کالجز میں 2 دہائیوں سے زیادہ عرصہ تدریس کے بعد سیاست میں قدم رکھا تھا۔
ڈیموکریٹ اسپینبرگر نے ریپبلکن ایئرل سیئرز کو شکست دے کر ورجینیا کی گورنر شپ حاصل کی۔ اس طرح ریاست پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول بحال ہو گیا۔ سابق کانگریس وومن اور سی آئی اے افسر اسپینبرگر زیادہ تر مہم کے دوران سبقت میں رہیں۔ ان کی کامیابی مضبوط فنڈ ریزنگ اور مضافاتی علاقوں میں وسیع حمایت کے مرہون منت تھی۔ ان کی فتح نے ڈیموکریٹس کو نئی سیاسی توانائی فراہم کی ہے جو 2024 کے قومی انتخابات میں ناکامی کے بعد اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب نیو جرسی میں ڈیموکریٹ میکی شیریل نے گورنر کا انتخاب جیت لیا۔ شیریل امریکی کانگریس کی رکن اور سابق نیوی پائلٹ ہیں۔ انہوں نے ریپبلکن جیک سیٹاریلی کو شکست دی اور موجودہ ڈیموکریٹک گورنر فل مرفی کی جانشین بنی ہیں۔ 1960 کی دہائی کے بعد پہلا موقع ہے کہ نیو جرسی کے ووٹروں نے ایک ہی پارٹی کے 3 مسلسل گورنرز منتخب کیے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ زہران ممدانی نے میئر بن کر ’درست اقدامات‘ نہ کیے تو نیو یارک کی فنڈنگ روک دی جائے گی۔