پاکستان کو آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں: وزیر خزانہ

  • بدھ 05 / نومبر / 2025

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی کو پاکستان کے لیے ’وجودی مسائل‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کی بقا کے لیے دو بڑے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ ان کو حل کیے بغیر ملک اپنی حقیقی صلاحیت حاصل نہیں کرسکتا۔

کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ میں بالکل واضح ہوں۔ جب تک ہم دو وجودی مسائل (آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی) کو حل نہیں کرتے، ہم اس ملک کی صلاحیت کو حقیقت میں نہیں بدل سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ آبادی کا مسئلہ صرف تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق بچوں کی کمزور نشوونما اور ان کا اسکول نہ جانے سے بھی ہے۔ جب کہ یہ وہ تمام شعبے ہیں جن پر وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی مسائل وقتی نوعیت کے ہیں اور چند برسوں میں حل ہو جائیں گے لیکن ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی کے مسائل وجودی ہیں اور اب فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ گزشتہ ماہ پاکستان بھر کے قانون سازوں نے تیز رفتار آبادی میں اضافے کو ’قومی ہنگامی صورتِ حال‘ قرار دینے اور آبادی کی بہبود کے اقدامات کو تمام ترقیاتی اور پالیسی فریم ورک میں شامل کرنے پر زور دیا تھا۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی پیدائش میں وقفہ کی حمایت کی ہے اور سفارش کی ہے کہ علمائے کرام کو اس پیغام کی ترویج میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت گندم اور چینی کی ڈی ریگولیشن کے معاملے پر بالکل واضح موقف رکھتی ہے۔ میری، وزیراعظم اور کابینہ کی رائے یہ ہے کہ حکومت کو جہاں جہاں ممکن ہو، وہاں سے اپنا کردار ختم کر دینا چاہیے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ اگرچہ گندم میں اسٹریٹجک ریزرو کا عنصر موجود ہے کیونکہ یہ ایک بنیادی خوراک ہے۔ لیکن دیگر صورت میں اسے بھی ڈی ریگولیٹ کر دینا چاہیے جب کہ ان دونوں پالیسیوں پر کام جاری ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بار سیلاب کے باعث ایک خاص صورتِ حال پیدا ہوئی تھی، ورنہ پالیسی سازوں نے بالکل درست فیصلہ کیا تھا۔ ڈی ریگولیشن مکمل عمل ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ویلیو چین کے ایک حصے کو آزاد کر دیا جائے اور دوسرے پر کنٹرول برقرار رکھا جائے۔ حکومت کو پورے نظام سے باہر نکلنا ہوگا، اور ہم اسی سمت جا رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ ہمیں اس سال چاول کی برآمدات میں نقصان ضرور ہوا ہے کیونکہ پنجاب میں اس کی فصلوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم زرعی برآمدات اب بھی 3 سے 4 ارب ڈالر کے درمیان ہیں۔