درویشی بمقابلہ جنونیت

ہمارے عوام کو اس وقت جو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں، ان میں غربت، بے روزگاری ، مہنگائی، لاقانونیت اور بے انصافی کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ مذہبی جنونیت بھی ہے۔ جس کی بنیادیں جہالت پر استوار ہیں۔ اور جو براہ راست انتہاپسندی، ٹیرر کی طرف لے جاتی ہے۔

یہاں ناخواندگی کو بالعموم جہالت کے معنوں میں لیاجاتا ہے لیکن درویش کی نظروں میں ایسے پڑھے لکھوں کی بھی کمی نہیں ہے جو جنونیت پھیلانے میں ان پڑھوں سے بھی دس ہاتھ آگے ہیں۔ محض حروف پڑھ یا لکھ لینا تعلیم نہیں، جب تک وہ انسانی شعور کو جلا نہ بخشے۔ نالج یا آگہی کا حقیقی مدعا ہی یہ ہے کہ آپ کی شعوری سطح کہاں تک پہنچی ہے؟ بدھا نے کیا خوب کہا کہ آتما سے بھی بڑھ کر شعور ہے جو کبھی نہیں مرتا۔ اس کی پھیلائی روشنی آگے سے آگے بڑھتی ہے۔ تین یا ڈیڑھ ہزار سال قبل اجتماعی انسانی شعور جس سطح پر تھا اس کا تقابل آج کی انسانی شعوری ترقی سے کیجئے بہت سے حقائق کھل جائیں گے۔

آپ کو زندگی میں ایسے افراد سے ملنے کا اتفاق بھی ہوا ہو گا جو بظاہر ان پڑھ ہوں گے مگر ان کی شعوری سطح کئی “لکھاریوں” سے بہتر ہوگی۔ جو لوگ ریسرچ کا مائنڈ نہیں رکھتے، کسی بھی ایشو کی روٹس تک نہیں جاتے، ان کی سوچ میں گہرائی نہیں آتی۔ ان کا سطحی پن ان کی باتوں یا تحریروں سے واضح ہوجاتا ہے۔ شاید اسی لیے کہا گیا ہے کہ “نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملاخطرۂ ایمان”۔

ملا لوگ بالعموم ان پڑھ نہیں ہوتے البتہ شعور، استدلال، جدیدیت، لبرل اپروچ اور روشن خیالی سے انہیں اتنی چڑ یا الجھن ہوتی ہے کہ وہ حال کی بجائے ماضی میں جیتے ہیں۔ اپنی قدامت پسندی کے تحت وہ ماضی کے قصے کہانیوں کو تقدس کے ساتھ خوشنما بناکر گنگناتے ہیں۔ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو۔طرزکہن پہ اڑنے اور آئین نو سے ڈرنے کا یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے جو اس تضادستان پر سات دہائیوں سے مسلط ہے۔ یہ طالبان کوئی آسمان سے تو نہیں گرے تھے۔ اسی روایتی مائنڈ سیٹ کی پیداوار ہیں جسے آپ مطالعۂ پاکستان کا نام دے سکتے ہیں۔

بظاہر ”طالبان“کے معنی ہی علم کے طالب یا متلاشی کے ہیں لیکن ان علم کے طالبوں کی شعوری سطح آج بھی کہیں ساتویں صدی میں اٹکی ہوئی ہے۔ طالبانی ذہنیت کسی جبے عمامے کی محتاج نہیں ہوتی۔ اسے بظاہر پینٹ کوٹ ٹائی یا جینز میں بھی ملاحظہ کیاجاسکتا ہے۔ اس مائنڈ سیٹ کی مطابقت میں ایسے صاحبان کبھی بن لادن کا انٹرویو کرنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں، کبھی ملاعمر انہیں مردِمجاہد دکھتا ہے، کبھی القاعدہ کے قصیدے پڑھنے شروع ہوجاتے ہیں۔ ان دنوں انہیں داعش سے بھی بڑھ کر حماس کے جہادی اپنی شعوری سطح کی عین مطابقت میں لگ رہے ہیں۔

جن دنوں عبداللہ عزام کے ہمراہ بن لادن کا نیا نیا ظہور ہوا، درویش نے اس کا کچا چٹھا ایک آرٹیکل کی صورت تحریر کیا۔ محترم ایڈیٹر نے فوری بلایا اور فرمایا کہ آپ نے مجاہدِ اسلام کے متعلق یہ کیا لکھ مارا ہے؟ عرض کی سر! اسامہ بن لادن اور اسامہ بن حارث میں کچھ تو امتیاز رہنے دیجئے۔ بن لادن نے اپنی جدوجہد کا آغاز فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی آزادی اور اسرائیل کی بربادی کے جذباتی و جنونی نعروں سے کیا تھا۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ مابعد استعمال سوویت یونین کے خلاف ہوگیا۔ ہمارے جنونی لوگ عامۃ المسلمین کو بیوقوف بنانے کے لیے جتنے بھی سبز باغ دکھالیں ان کی تان ہمیشہ فلسطین اور کشمیر کے لیے بلند بانگ دعوؤں پر ٹوٹتی ہے۔ گویا ہر دو مسائل حل ہوگئے تو نہ جانے امتِ مسلمہ میں کون سی خلافت اسلامیہ قائم ہو جاۓ گی یا دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔

درویش ذمہ داری سے یہ لکھے دیتا ہے کہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ ڈیڈ ایشوز تھے جو آپ کے وسائل کو کھا گئے۔ آپ کی چوٹ دماغی تھی لیکن خود ساختہ حکیمان امہ آپریشن گوڈوں گٹوں کا کرتے رہے ۔ اسی چکر میں کبھی مودی پر چڑھ دوڑتے ہیں، کبھی بنجمن نیتن یاہو میں اپنا ہیرو یا ولن ہٹلر دکھتا ہے۔ یہ ہے وہ پس منظر جس میں ان دنوں انہیں شرم الشیخ جنگ بندی معاہدے میں بھی کیڑے دکھنے لگے ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ کےاسی بیس نکاتی غزہ امن معاہدے پر کامل اتفاق کرتے ہوئے ترک سلطان اردوان کے ساتھ مصر اور قطر نے بھی دستخط کیے۔ بلکہ پوری اسلامک عرب دنیا کی قیادت امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ سے اس قدر ہم آہنگ ہوئیں کہ پاکستانی پرائم منسٹر نے اس موقع پر سب کی ترجمانی کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ ٹرمپ کو عالمی امن و سلامتی کا حقیقی علمبردار قرار دیا جس نے ساؤتھ ایشیا اور مڈل ایسٹ میں لاکھوں زندگیاں بچائیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ سیم پیج پر ہوتے ہوئے نوبل پیس پرائز کے لیے ان کی دوبارہ نامزدگی کی۔

یورپی و اسلامی قیادت کی موجودگی میں ٹرمپ کو سیلوٹ کیا اور ان کی امن کاوشوں پر ایسا شاندار قصیدہ پڑھا جس پر خود ٹرمپ بھی بول اٹھے “اب کہنے کو کچھ نہیں رہ گیا چلو گھر چلتے ہیں”۔ ہمارے پرائم منسٹر کی اس سمجھداری اور کمٹمنٹ کے بعد بھی اگر کوئی “جذباتی بھائی” یہ کہتا ہے کہ ہم حماس کو دہشت گرد نہیں مانتے اور اسے غیر مسلح کرنے والی شقوں کو تسلیم نہیں کرتے تو کیا وہ پاکستانی قیادت کو منافق ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ اگر یہ جنونیت نہیں ہے تو پھر آپ جنونی مائنڈسیٹ کس کو کہتے ہیں؟

درویشی عیاری تب بنتی ہے جب وہ مفادات کی پجاری و بیوپاری ہو۔ درویشی تو عاجزی، حلیمی کے ساتھ انسانوں سے محبت کرنا سکھاتی ہے، کسی سے اس کے عقیدے کی بنیاد پرنفرت کرنا دوسروں کو جہنمی اور خود کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھنا درویشوں کا نہیں جنونی جذباتیت کا کام ہے۔ درویشی شعور کو خانقاہ کے پچھواڑےمیں رکھ کر کسی کی اندھی حمایت یا مخالفت نہیں کرتی۔ جو اپنے لوگوں کو اقوامِ دیگر کے خلاف منافرت پر ابھارے۔ اسی کا نام جنونیت ہے۔ یہود و ہنود سے منافرت ہمارے درویشوں صوفیوں اور سادھوؤں کا کبھی وتیرہ نہیں رہا۔ وہ تو ہندو بھائیوں کے ساتھ بھی دیوالی و ہولی مناتے رہے، وہ تو یہود کو باضابطہ طور پر اپنی ملت ابراہیمی کا حصہ سمجھتے ہوئے اپنے ساتھ ”اُمت واحدہ“یعنی ایک قوم قرار دیتے رہے۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت نظام الدین اولیا، بابا فرید، حضرت مادھو لعل حسین اور بابا بلھے شاہ سرکار ایسے ہی سادھو درویش تھے۔ باباجی نے کیا خوب فرما رکھا ہے:
گل سمجھ آگئی تے رولا کی، رام رحیم تے مولا کی

درویش نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب کی دعوت پر جامعہ نعیمیہ کی سالانہ تقریب میں حاضر ہوا تو کالم نگار دوست نے پوچھا “ایک سیکولر کا کیا کام ہے کہ وہ مولویوں کی مذہبی تقریب میں شرکت کرے؟“ عرض کی ”آپ صوفیا کی انسان نوازی پر مبنی روشن خیالی کو مانتے ہیں تو پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح دانا اور اولیا کا بنا سانجھا ہوتا ہے، اسی طرح صوفی اور سیکولر کی اپروچ شعوری بلندی پر ایک ہوجاتی ہے ۔ حضرت علامہ اقبال نے بھی فرمارکھا ہے:

الہیاتی ریاضیت اپنی بلندی پر پہنچ کر سیکولرزم میں ڈھل جاتی ہے‘‘۔

آپ فلسطین اور کشمیر کے جن مسائل میں الجھے یا عوام کے جذباتی طبقات کو الجھائے ہوئے ہیں، ان کی اصلیت قوم پر واضح کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، اگر آپ لوگ ”سرتن سے جدا“جیسی ذہنیت یا جنونیت کو خیرباد کہہ دیں۔ جنونیت کے سارے تصورات نظریہ جبر پر استوار ہیں۔ لبرل سیکولر اوپن سوسائٹی سے اس کا دم گھٹتا ہے۔ درویش کا سینہ جلا ہوا ہے، اس کے پاس جنونی پروپیگنڈا کے بالمقابل کہنے کو بہت کچھ ہے مگر آپ لوگوں میں سننے کی تاب ہے نہ برداشت کا حوصلہ۔

ہماری حکومت اور طاقتوروں میں ایک سو ایک خرابیاں ہوں گی۔ ناچیز ان کی داخلی و خارجی ہر دو پالیسیوں کا ہمیشہ ناقد رہا ہے۔ لیکن ان دنوں انہوں نے ایک طرف داخلی حوالے سے جنونیت کو لگام ڈالنے کی جیسی تیسی جسارت کرتے ہوئے، اگر کچھ اقدامات اٹھائے ہیں یا مولوی صاحبان کا پچیس ہزار وظیفہ مقررکیا ہے جو بتدریج پچاس ہزار تک چلے جانا چاہیے۔ بشرطیکہ ہمارے مولوی صاحبان ریاست کو وہی اہمیت دیں جو سعودی عرب ، ترکیہ اور دیگر مسلم اقوام کے مولوی صاحبان اپنی ریاستوں کو دیتے ہوئے ان کی مطابقت میں طے کردہ اصول و ضوابط کے پابند ہوتے ہیں۔

اسی طرح دوسری طرف ہماری خارجہ پالیسی جس پر درویش کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ وہ جامد کیوں ہے؟ وقت کے بدلتے تقاضوں کا ادراک کیوں نہیں کرتی؟ یہ لوگ اندورن ملک جو بھی کہہ رہے ہیں کم از کم عالمی سطح پر انہوں نے ٹرمپ کی خود پسندی کا خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ متشدد پاکستان جسے کوئی منہ نہیں لگارہا تھا، ہماری جیسی تیسی موجودہ قیادت نے امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ کو گھول کر وہ کچھ پلادیا ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے موقع بے موقع مودی کی بدخوئیاں کرتا اور ہمارے ہر دو موقع شناسوں کے گن گاتا دکھتا ہے۔ جب امریکی پریذیڈنٹ اس طرح بول رہا ہوگا تو دنیا کے دیگر ممالک پر پاکستان کی دھاک کیوں نہیں بیٹھے گی۔ سو وہ بھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔

ترکوں اور پھر عربوں کو ہی نہیں شاید اب اسرائیلیوں کو بھی پاکستان کی امن پسندی سے زیتوں کی نئی کونپلیں پھوٹتی دکھ رہی ہیں۔ لہٰذا ہمارے بنیاد پرستوں کو چاہئے کہ وہ خود کو خواہ مخواہ ”جاہل اور جذباتی“ کے خطابات سے نوازنا بند کردیں اور درویش جیسی سوچ کے حاملین پر طعنہ زنی سے پرہیز فرمائیں۔ اقبال اور جناح کو گزرے دہایاں بیت گئیں، وقت کا دھارا بہت آگے آچکا لہذا اب بدلے عصری تقاضوں کی مطابقت میں روشن خیالی، وسیع المشربی، جدیدیت اور انسان نوازی کو کماحقہ جگہ دینی ہوگی۔

اللہ بخشے ہمارے ایک دانشور ہواکرتے تھے جن کی ضیا الحق سے لڑائی ہی روشن خیالی کے بالمقابل جنونیت پھیلانے پر تھی:
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبرہو
پھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہو
یہ آپ کے اقبال نے ہی فرمارکھا ہے:
فقیہہ شہر کی تحقیر! کیا مجال مری
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد