27ویں آئینی ترمیم آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کیے جانے کا امکان

  • جمعرات 06 / نومبر / 2025

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر اتفاقِ رائے 2 سے 3 دن میں متوقع ہے، جس کے بعد یہ قانون سازی آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ڈان اخبار کے مطابق حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ 18ویں ترمیم کو نئی قانون سازی کے ذریعے منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ نجی چینل ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت دفاعی افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم پر غور کر رہی ہے۔  اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے کیونکہ حکومت آئینی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم پر بات چیت جاری ہے کیونکہ ’دفاعی ضروریات بدل گئی ہیں‘۔

آئین کا آرٹیکل 243 یہ واضح کرتا ہے کہ وفاقی حکومت ’مسلح افواج پر اختیار اور کمان‘ رکھتی ہے اور ’مسلح افواج کی سپریم کمان صدرِ مملکت کے ہاتھ میں ہوگی‘۔ اس سے قبل پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ 27ویں ترمیم سے متعلق تحفظات یا مشاورت کی تفصیلات شیئر نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اپنی رائے دینے کا پورا حق ہے اور حکومت دیگر جماعتوں سے بھی اسی جذبے کے تحت مشاورت کر رہی ہے تاکہ ان کی رائے شامل کی جا سکے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کے نکات پر جواب دیتے ہوئے وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ’منفی اور جھوٹے پروپیگنڈے‘ کو ختم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ’قیاس آرائیوں اور اندازوں‘ کی بنیاد پر 27ویں ترمیم کو متنازع بنانے کی کوششیں افسوسناک ہیں کیونکہ اب تک اس کا سرکاری مسودہ منظرِ عام پر نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی تعلیمی اداروں یا بورڈز پر کنٹرول حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ’ہم صرف یکساں نصاب کی بات کر رہے ہیں‘۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو وفاق، صوبوں یا ان کے باہمی تعلقات کو کمزور کرے۔ ’مقصد بہتر طرزِ حکمرانی، دفاع کو مضبوط بنانا اور وفاق و صوبوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے‘۔

اتحادیوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے متعلق معاملات مشاورت کے ذریعے طے ہوں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ سال منظور کی گئی 26ویں ترمیم کو بھی عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا تھا۔ حالانکہ 27ویں ترمیم کے تحت ایک علیحدہ آئینی عدالت کا قیام مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ایسی عدالت کے قیام پر 2006 میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین طے پانے والے ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ میں اتفاق کیا گیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، مکمل اتفاق نہیں۔ آئین کی روح برقرار رکھی جائے گی۔

اس سے قبل، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا تھا کہ آئینی ترامیم اتفاقِ رائے سے منظور کی جانی چاہئیں، جیسا کہ ہمسایہ ملک میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 27ویں ترمیم آئین کی روح کے منافی ہوگی اور حکومت کو خبردار کیا کہ وہ قوم میں تقسیم پیدا نہ کرے۔ یہ عدلیہ کی آزادی کو مزید خطرے میں ڈال دے گی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت اس ترمیم کو لا کر وفاق کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ کیونکہ وہ آبادی اور تعلیم جیسے امور دوبارہ وفاق کے ماتحت لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ ’یہ موضوعات 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے‘۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ 27ویں ترمیم کا مسودہ لیک کیوں ہوا؟

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نامزد کیا ہے۔ اور 72 ارکانِ اسمبلی کے دستخطوں کے ساتھ ان کا نام اسپیکر کے دفتر میں جمع کرایا گیا ہے۔ قواعد کے مطابق، اسپیکر کو قائدِ حزبِ اختلاف کا اعلان کرنا چاہیے۔ ورنہ میں خود محمود اچکزئی سے کہوں گا کہ وہ یہ نشست سنبھال لیں۔

دریں اثنا وزیرِاعظم شہباز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور 27ویں آئینی ترمیم پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم-پی کے 7 رکنی وفد کی قیادت پارٹی کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کر رہے تھے۔ ملاقات میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال، ارکانِ قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار، جاوید حنیف خان، سید امین الحق اور خواجہ اظہارالحسن شامل تھے۔

ملاقات کے دوران مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر غور و مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ بھی شریک تھے۔

ایک روز قبل ایم کیو ایم-پی نے مطالبہ کیا تھا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں کو خودمختاری دی جائے۔ ایم کیو ایم-پی نے کہا تھا کہ 2010 کی 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری دی جا چکی ہے، اب اگلا قدرتی مرحلہ بلدیاتی خودمختاری کا ہے۔ لہٰذا اس کی باری آنی چاہیے۔

27ویں آئینی ترمیم پر پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور نئی آئینی ترمیم کی شقوں اور مؤقف پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ملاقات ختم ہونے کے بعد پی پی پی کا وفد نور خان ایئربیس کی طرف روانہ ہوگیا جو خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کا آج شام 7 بجے کراچی میں اجلاس ہوگا۔ اجلاس میں عرفان قادر، راجا پرویز اشرف، نوید قمر اور شیری رحمٰن بھی شریک ہوں گے۔

پی پی پی کے وفد سے ملاقات کے دوران وزیرِاعظم کے ہمراہ حکومتی وفد میں اسحٰق ڈار، اعظم نذیر تارڑ اور احسن اقبال شریک تھے، رانا ثنااللہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی موجود رہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان اور وزیر مملکت برائے سمندر پار مقیم پاکستانی، عون چوہدری نے ملاقات کی۔ اس دوران مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو اور مشاورت ہوئی۔

وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر چوہدری سالک کی قیادت میں مسلم لیگ (ق) کے 4 رکنی وفد نے ملاقات کی، وفد میں سینیٹر کامل علی آغا، ارکان قومی اسمبلی چوہدری محمد الیاس اور فرخ خان شامل تھے۔ ملاقات میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو اور مشاورت ہوئی۔