آرمی چیف کے عہدے کی مدت اور سیاسی اختیار کا معاملہ

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک نے کہا   ہے  کہ نومبر 2024 میں ہونے والی قانون سازی کے  بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت پانچ سال ہے، لہذا ان کی توسیع کے لیے کسی نئے نوٹیفیکیشن کی ضرورت نہیں۔ ایک اردو ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر مملکت نے یہ بھی واضح کیا کہ مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں صدر کی بجائے  فیلڈ مارشل کو سپریم کمانڈر  بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

یہ دونوں وضاحتیں ملک میں مسلح افواج پر وفاق کے کنٹرول اور اختیار کے حوالے سے   ہونے والے مباحث  کی روشنی میں بروقت اور ضروری تھیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے سوال پر  مباحث اور خیالات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ان میں اکثر یہی دلیل دی جاتی رہی ہے کہ نومبر میں چونکہ آرمی چیف کی تقرری کو تین سال  پورے ہوجائیں گے اور قانون میں ترمیم چونکہ ان کی تقرری کے بعد کی گئی تھی، اس لیے  اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر بدستور آرمی چیف کے طور  پر کام کرتے  ہیں تو حکومت کو ان کی توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کرنا چاہئے۔

حکومت نے نومبر 2024 میں قانون سازی کے ذریعے  فوج، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کے عہدوں کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ متعلقہ قوانین  میں ترمیم کے وقت اپوزیشن کی طرف سے سخت احتجاج  کیا گیا تھا اور یہ تاثر قوی کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اس طرح سیاسی معاملات پر فوج کی گرفت مضبوط ہوجائے گی اور سیاسی  و جمہوری قوتوں کے لیے سپیس کم ہوجائے گی۔ تاہم حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل تھی، اس لیے اسے یہ تبدیلی کرانے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جہاں تک سیاست پر فوج کی دسترس اور کنٹرول کا معاملہ ہے، اسے طے کرنے کے لیے کسی قانون سازی سے زیادہ سیاسی معاملہ فہمی اور  تعاون کی ضرورت ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستانی سیاست میں اس وقت فوج کا عمل دخل غیر ضروری طور پر زیادہ ہے اور اسے چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ لیکن اس میں بھی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ عمل دخل وزیر اعظم شہباز شریف کی صوابدید اور ان کی حکومت کی رائے اور رضامندی سے  جاری و ساری ہے۔  اس لیے اسے ایک غلط اور افسوسناک روایت قرار دینے کے باوجود غیر قانونی یا غیر آئینی نہیں کہا جاسکتا۔ اگر کوئی حکومت آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو ہر قومی یا بین الاقوامی معاملہ میں شراکت دار بنانا ضروری سمجھتی ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے۔ اس سیاسی فیصلہ کو غلط سمجھنے والے آئیندہ انتخابات میں ایسی سیاسی حکومت کو سزا دینے  کے لیے رائے عامہ ہموار کرسکتے ہیں تاکہ لوگ ان پارٹیوں کے خلاف ووٹ دیں جو ایسے غلط فیصلے کرنے کا سبب بنے تھے۔

تاہم دوسری طرف اگر ملک میں کام کرنے والے نظام پر نظر دوڑائی جائے اور ماضی  کے تجربات کو نگاہ  میں رکھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ موجودہ صورت حال جسے عرف عام میں ہائیبرڈ نظام حکومت بھی کہا جاتا ہے،  کسی ایسے نظام سے بہتر ہے جس میں فوج براہ راست اقتدار پر قابض ہوجائے اور ملکی معاملات آئینی فیصلوں کی بجائے مارشل لا کے تحت جاری ہونے والے احکامات کے ذریعے کیے جائیں۔ بدقسمتی سے بعض حلقوں کی اس خوش فہمی کے باوجود کہ  تبدیل شدہ قومی و عالمی حالات میں اب فوج کے لیے  اقتدار پر قبضہ کرنا  ممکن نہیں ہے، اس نقطہ نظر  کو مانا نہیں جاسکتا۔ فوجی قیادت اگر سیاسی اقتدار پر قبضہ کرکے  ماضی کے تجربات کے مطابق آئین معطل کردے تو ملک میں کوئی ایسی سیاسی قوت موجود نہیں ہے جو اس کے خلاف مزاحمت کا حوصلہ رکھتی ہو۔

ماضی کے تجربات ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ جب کوئی آرمی چیف منتخب حکومت کو رخصت کرنے اور آئین کو معطل کرنے کا اقدام کرتا ہے تو صرف اعلیٰ عدلیہ ہی  ریت کی دیوار ثابت نہیں ہوتی بلکہ سیاسی قوتیں بھی  ایسے کسی اقدام کو  ملکی فلاح کا سبب قرار دیتی ہیں۔ کیوں کہ  اس کے ذریعے مخالف سیاسی پارٹی کی حکومت ختم کرکے اسے سیاسی طور سے کمزور کیا جاتا ہے۔ متبادل سیاسی پارٹیاں اسے اپنے لیے ایک غنیمت موقع سمجھتے ہوئے فوجی حکومت کی تائید کرتی ہیں تاکہ ان کے لیے اقتدار سنبھالنے کا میدان ہموار ہو۔ اس مزاج کی وجہ سے ماضی میں جنرل ضیا اور جنرل پرویزمشرف کے  غیر آئینی طور پر اقتدار سنبھالنے کے بعد  مذمتی بیانات کی بجائے سیاسی کارکنان مٹھائیوں کے ڈبے لیے گھومتے دکھائی دیے تھے۔

ملک میں اگرچہ ’حقیقی جمہوریت‘  لانے کے نعرے لگائے جاتے  ہیں اور  موجودہ فوجی قیادت کے خلاف ہمہ قسم مہم  جوئی کی بالواسطہ یابراہ راست کوشش بھی کی جاتی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ہی  دیکھا جاسکتا ہے کہ عوام کے ووٹ کا احترام کرانے کی موجودہ چیمپئن تحریک انصاف بھی فوج سے  سیاست میں مداخلت کی وجہ سے ناراض نہیں ہے بلکہ ان کی خفگی کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ مداخلت ’غلط‘ سیاسی  پارٹیوں و لیڈروں کے ذریعے کی جارہی ہے۔  عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی یہی چاہتی ہے کہ کسی طرح فوجی قیادت اپنا قبلہ درست کرے اور مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے ساتھ شراکت کرنے کی بجائے تحریک انصاف سے  ہتھ جوڑی کی جائے جو ان کے اپنے خیال میں اس وقت پاکستان کی واحد نمائیندہ جماعت ہے۔ اس لیے اگر بدقسمتی سے  آج بھی فوجی قیادت  کسی  مارشل لا کے ذریعے سیاسی اقتدار پر مکمل قبضہ کرنے کا ارادہ کرلے تو یہی مقبول ترین عوامی جماعت  اسے سب سے پہلے سیاسی تحفظ فراہم کرنے کے لیے میدان میں اترے گی۔ کیوں کہ کسی بھی سیاسی جماعت  کی طرح تحریک انصاف کی لڑائی بھی جمہوریت کی بجائے اقتدار میں حصہ داری کے بارے میں ہے۔ عمران خان کے سب سے بڑے دشمن آج بھی شریف و زرداری خاندان ہیں کیوں کہ ان کی موجودگی میں انہیں مسلسل سیاسی چیلنج کا  سامنا رہے گا۔

ان حالات میں یہ مباحث اور پروپیگنڈا بے بنیاد اور غیر ضروری ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت کررہی ہے۔ کیوں کہ اس مداخلت کو روکنے کے لیے ملک میں سیاسی  رائے موجود نہیں ہے۔ سب سیاسی لیڈر و پارٹیاں نعرے بازی کی حد تک ضرور اس بحث میں خود کو ہیرو اور دوسرے کو زیرو ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن عملی طور سے ہر پارٹی فوج کی ’بی ٹیم‘ بننے پر آمادہ ہے۔  ایسی صورت میں یہ کہنا حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہے کہ  فوج ’غیر جانبدار ادارہ ‘ ہے یا کوئی آئینی شق  کسی آرمی چیف کو براہ راست اقتدار پر قابض ہونے سے روک سکتی ہے۔ کسی ملک میں جمہوریت کی حفاظت کے لیے صرف  آئین میں لکھے الفاظ ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ تمام سیاسی قوتوں کا ان آئینی احکامات  پر اتفاق رائے بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب تک یہ اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا ، ہرملکی پارلیمنٹ  بے اختیار رہے گی اور آرمی چیف ہی کو  طاقت کا سرچشمہ سمجھا جاتا رہے گا۔

ان آئینی و سیاسی مباحث میں اکثر ملکی سپریم کورٹ پر بھی الزام آتا ہے کہ مولوی تمیزالدین کیس سے لے کر پرویز مشرف کی فوجی حکومت  تک اعلیٰ عدلیہ  نے ہمیشہ غیر آئینی اقدامات کی حمایت کی ۔ یوں ملک میں آمریت کو فروغ پانے کا موقع فراہم کیا۔ یہ تنقید درست ہونے کے باوجود ، مکمل طور سے  ماضی کی سیاسی سچائی کو بیان نہیں کرتی۔ سپریم کورٹ بھی  گورنر جنرل غلام محمد، اسکندر مرز، ایوب خان، یحیی خان ، ضیاالحق اور پرویز مشرف کے خلاف اسی صورت  میں  جرات مندانہ فیصلے  دینے کا حوصلہ کرتی اگر ملک کی سیاسی قیادت باہمی اختلافات بھلا کر  کسی آمرانہ اقدام کے خلاف یک آواز ہوتی۔ کسی دور میں  ایسی سیاسی خواہش  دیکھنے میں نہیں آئی۔  سیاسی مزاحمت کی غیر موجودگی میں عدلیہ سے سیاسی لڑائی لڑنے کی توقع عبث تھا۔

بدقسمتی سے حالات اب بھی جوں کے توں ہیں۔ اب بھی سیاسی قوتیں آپس میں مل کر سیاسی راستے نکالنے کی بجائے فوج سے  مدد کی طالب ہوتی ہیں۔  جب یہ صورت  حال تبدیل ہوجائے گی تو آرمی چیف کے عہدے کے ساتھ نتھی یہ  تاثر بھی زائل ہونا شروع ہوجائے گا کہ سب کچھ اسی کے اشارے پر ہوتا ہے۔ کیوں کہ فوج کو یہ اختیار سیاسی لیڈروں کی   موقع پرستی اور باہمی اختلافات نے دیا ہے۔  سیاسی لیڈر آج آئینی حکمرانی پر متفق ہوجائیں، فوج از خود بیرکوں تک محدود ہوجائے گی۔