مدانی کی جیت اور امریکی عظمت

ایک مسلمان ڈیموکریٹ سوشلسٹ امیگرینٹ چونتیس سالہ نوجوان زہران ممدانی کا امریکا کے سب سے اہم بلکہ عالمی کیپٹل بلندو بالا عمارات والے، ارب پتیوں کے شہر اور یہودیوں کے گڑھ سے جیت جانا واقعی بہت سے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہے۔

یہ رویہ اس امر کو مزید بڑھاوا دیتا ہے کہ عالمی سپرپاور کا طاقتور پریذیڈنٹ ہاتھ دھو کر اسے ہرانے کے لیے اس کے پیچھے پڑا ہو۔ ایسی دھمکیاں دے رہا ہو کہ اگر زہران ممدانی جیت گیا تو وہ نیویارک کے فنڈز روک دیں گے۔ دوسری طرف یہ نوجوان دنیا کے طاقتور ترین شخص کی کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لارہا ہو بلکہ اسے چڑاتے ہوئے یہاں تک کہہ رہا ہو کہ میری میئر شپ میں اگر اسرائیلی پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو اس عالمی کیپٹل میں داخل ہوئے تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ اس کے باوجود جو لوگ امریکی سوسائٹی کی اوپن نیس اور ڈیموکریٹک سسٹم میں موجود لبرل اپروچ کی وسعت کو سمجھتے ہیں، ان کے لیے زہران ممدانی کی جیت قابلِ فہم ہے۔ ٹرمپ امیگرنٹس کے خلاف جو بھی پالیساں اپنائے ہوئے ہیں، اس امر میں کیا اشتباہ ہے کہ امریکا بنیادی طور پر ہے ہی امیگرینٹس، مہاجرین یا آبادکاران کا ملک، ملٹی کلچرل، ملٹی ریلیجیس سوسائٹی، انسانی حقوق، مواقع اور آزادیوں کی سرزمین ۔ جہاں انسانی غلامی کے ساتھ وابستہ دیگر تعصبات اور الائشوں کو بھی دفن کردیا گیا تھا۔

یہاں اسی مسیحی کے بالمقابل کسی مسلمان، ہندو یا جیوز کی جیت اچنبھے کی بات نہیں۔ آج جن مذہبی جنونی تعصبات سے ہماری سوسائٹیاں لتھڑی پڑی ہیں، امریکی سوسائٹی مجموعی طور پر بہت پہلے ان سے چھٹکارا پاچکی ہے۔ لیکن دو اور دو چار کی طرح فیتہ  لے کر ماپنے والوں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ امریکا کہیں مریخ پر تو واقع نہیں ہے۔ بہرحال وہ بھی اسی زمین پر موجود انسانی سوسائٹی ہے۔ وہاں بسنے والے تمام افراد جارج واشنگٹن، جیفرسن، ابراہم لنکن، جمی کارٹر، کلنٹن یا باراک اوباما کی ذہنی سطح کے تو نہیں ہیں۔ بلاشبہ وہاں بھی مادی مفادات کے ساتھ پروپیگنڈا سے پھیلائے گئے کئی تعصبات ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔ کئی مواقع پر چرب زبان غلط لوگ بھی آگے آجاتے ہیں لیکن یہ امریکی جمہوری سسٹم کی عظمت و طاقت ہے جو انہیں موقع ملنے پر پیچھے بھی دھکیل دیتی ہے۔

ہمارے نونہال اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہمیشہ ان لفظوں سے کرتے ہیں کہ ”میں تمام شیطانی طاقتوں کے بالمقابل مالکِ کائنات کی پناہ مانگتا ہوں۔“ آج امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ جو بھی پالیسیاں اپنانے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہمیشہ سے قائم ہے کہ جسے دنیا میں کہیں پناہ نہیں ملتی، اسے امریکا میں ملتی رہی ہے۔ خود ہماری اپنی مسلم سوسائٹیوں میں موجود کئی شیطانی گروہوں سے ڈرے سہمے ہوئے لوگ امریکا کو اپنے لیے جائے امن و سلامتی خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ ہماری فقہی زبان میں امریکا دارلحرب ہے اور ہم سب ستاون دارالسلام قرار پاتے ہیں۔ اور ابدی حکم یہی ہے کہ دارلحرب سے ہجرت کرتے ہوئے دارالسلام میں لوٹ آؤ ۔مگر درویش نے ہمیشہ اس کے الٹ ہوتے دیکھا ہے۔

ہمارے لوگ فقط اسی بات پر جھوم رہے ہیں اور ہمارا سوشل میڈیا ایسی پوسٹوں سے بھرا پڑا ہے کہ واہ جی واہ کمال ہوگیا۔ ہمارا ایک مسلمان نوجوان نیویارک کا میئر منتخب ہوگیا ہے جو ڈنکے کی چوٹ کہتا ہے کہ مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ جو اسرائیلی حکومت اور اس کے پرائم منسٹر کے خلاف لگی لپٹی رکھے بغیر ٹکا کے بولتا ہے۔ فلسطینیوں پر ہونے والی بمباری کے خلاف آواز اٹھانے میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ دیکھاجائے تو اس میں بھی حیرت کی کوئی ایک بات بھی نہیں ہے۔ یہ تو ویسٹرن سوسائٹی اور ویسٹرن مائنڈ کی عین عکاسی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی مظالم ہوں جن میں بے گناہ لوگ مارے جائیں، ویسٹ میں ہمیشہ اس کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔ ان کے خلاف اتنی ریلیاں شاید ہمارے مسلم ممالک میں نہیں نکلتی ہیں جتنی امریکی و یورپین اوپن سوسائیٹیوں میں نکلتی ہیں۔ جبکہ ہم لوگ پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ مرنے والا مسلم تھا یا غیر مسلم؟

ہمیں جتنا غصہ غزہ پر آتا ہے کبھی غور کیا اتنا یوکرین میں مرنے والے ہزاروں بے گناہ مظلوم انسانوں کی ہلاکتوں پر کیوں نہیں آتا؟ ہماری اپنی سوسائٹی میں جب غیر مسلموں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہوتا ہے، ہمارے مسلم مائنڈ سیٹ کو اس پر کبھی وہ چبھن محسوس نہیں ہوئی، جو ہزاروں کلومیٹر دور مسلموں کی ہوتی ہے۔ چاہے وہ بیشتر جھوٹا پروپیگنڈا ہی کیوں نہ ہو۔ زہران ممدانی کی جیت میں بنیادی فیکٹر اس کی بے باک آواز اور انرجیٹک شخصیت تھی۔ اس نے نیویارک کے عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔ ان کے جینوئن ایشوز کو ٹارگٹ کیا۔ ارب پتیوں کے بالمقابل عوام کے مسائل کو حل کرنے کی نوید سنائی۔ چاہے کوئی سوشلسٹ کہتا ہے تو کہے لیکن میں محنت کشوں کی آواز بنوں گا۔ ان کے لیے فری بسوں کا اہتمام، مکانات اور پراپرٹی کے کرایوں پر کنٹرول کروں گا۔ تمام مالی وسائل غریب اور متوسط طبقے کی نذر ہوں گے ٹرمپ اور ایلن مسک جیسے ارب پتیوں کو ٹیکسز میں چھوٹ دلانے کی بجائے عام لوگوں کی خوشحالی پر مبنی پالیسیاں بنائی جائیں گی۔

واضح رہے کہ 9 ملین آبادی والے دنیا کے اس اہم ترین شہر کا بجٹ کوئی ایک سو بیس ارب ڈالر سے زائد ہے۔ تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور تیس ہزار کی پولیس نفری پر میئر کی دسترس ہوگی ۔ کیلیفورنیا کے بعد سب سے زیادہ ارب پتی نیویارک میں ہیں۔ اپنے مخالف امیدواران کے بالمقابل انہیں ایک متحرک نوجوان ہونے کی برتری بھی حاصل تھی۔ جیسے کہا جارہا ہے کہ وہ 1892کے بعد سب سے کم عمر میئر ہوں گے۔ ممدانی کیلیےٹرمپ کی کئی منفی پالیسیوں کی مخالفت بھی سود مند ثابت ہوئی۔ بالخصوص امیگرنٹس کے خلاف ہراس کی جو فضا بنائی گئی تھی، ایک نوعمر امیگرنٹ نے جو 18اکتوبر 1991 کو پیدا ہوا اور 2018 میں اس نے امریکی شہریت حاصل کی، اس نے امیگرنٹس کے لیے پرزور آواز اٹھائی۔ پھر اس کی مذہبی بیک گراؤنڈ۔

اس کا باپ محمود ممدانی ایک انڈین مسلمان جو افریقی ملک یوگنڈا میں جابسا۔ ان کی ہندو ماں میرانائیر جو انڈیا کی معروف فلم میکر ہیں۔ ان کی شامی نژاد عریبین آرٹسٹ بیوی راما دواجی۔ کیسا دلچسپ تہذیبی و مذہبی مکسچر ہے۔ انڈین گجرات کا بیٹا ہونے کی وجہ سے جہاں انڈین میڈیا میں وہ چھایا ہوا ہے، وہیں نیویارک کے انڈیئنز  نے بھی اس سے اپنائیت دکھائی۔ یوگنڈا کی وجہ سے افریقین امریکیوں نے حمایت کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت پر بھرپور تنقید کے باوجود نیویارک کا یہودی ووٹ بھی ایک تہائی ممدانی کو پڑا ۔ اس نے کھلے بندوں کہا کہ میں مسلمانوں اور یہودیوں کو اکٹھے بٹھاؤں گا۔ اس نے واضح کیا کہ مودی اور نیتن یاہو پر تنقید کا مطلب انڈیا اور اسرائیل کی مخالفت ہرگز نہیں۔ میں مسجد، مندر، چرچ اور سنی گاگ سب کا یکساں احترام کرتا ہوں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ سوشلسٹ سوچ کے ساتھ ساتھ ایل جی بی ٹی والوں نے بھی اس کی مہم چلائی کیونکہ ٹرمپ نے انہیں بھی ناراض کررکھا ہے۔ ہمارے علی سیٹھی کا ایک فنکار کی حیثیت سے بھی ممدانی کےساتھ تعلق رہا ہے۔ نیویارک میں ان جیسے نوجوان ممدانی کی سپورٹ میں پیش پیش تھے۔ شیعہ مسلم کا پس منظر بھی اس کی حمایت کو بڑھارہا تھا، جب اس نے کہا کہ سیدنا حسینؑ میری پسندیدہ ترین شخصیت ہیں۔ انگریزی کے علاوہ اسے اردو، ہندی اور عربی پر بھی دسترس ہے۔ اسی طرح دیگر ویسٹرن زبانوں نے بھی اسے فائدہ پہنچایا۔ ایشیائی ہی نہیں سیاہ فام افریقی اور ہسپانوی اکثریت نے بھی حمایت کی۔ امریکن ڈیموکریٹس بالخصوص پریذیڈنٹ اوباما نے بھی کھل کر سپورٹ کی اور حالت یہ ہوئی کہ ریپبلکن نے اپنے بندے کو چھوڑ کر انڈیپینڈنٹ ڈیموکریٹ کا سہارا لیا۔ لیکن ان دونوں کا مجموعی ووٹ بھی اس سے کمتر رہا۔

امریکی جمہوری سسٹم کی کیا عظمت ہے کہ جب بھرے جلسے میں ان کے مدمقابل ہارنے والے امیدوار اینڈریوکومو نے انہیں مبارکباد دی اور کچھ آوازیں نو میں اٹھیں تو وہ فوراً بولے ایسے مت کہیں۔ یہ امریکی تہذیب و روایت ہے۔ ہم جیتنے والے کو مبارکباد دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ جیت کے بعد ان کی تند و تیز تقریر کے باوجود امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے ان کے لیے خیرسگالی کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم نیویارکر عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ممدانی کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اور انہیں گرانٹس بھی دیں گے۔

عرض مدعا یہ ہے کہ ہمارے لوگ جو ہنوز اسلامی و غیر اسلامی کے تعصبات سے باہر نکل نہیں پارہے وہ اکیسویں صدی کے آگے بڑھتے ہوئے شعور کو سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ انہیں مایوسی و شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ممدانی جیسے مسلمانوں کو اگر آپ اپنے پیمانے پر پرکھیں گے تو آپ کو نئی امریکی نسل کے رہن سہن پر کئی سوالات پیش آئیں گے۔ اس کی خوبصورت بیوی جیسا جاذب نظر پہناوا پہنتی ہے، شاید ہماری روایتی مسلمانی اسے ہضم نہ کر پائے۔ اس نے اپنی وکٹری سپیچ میں جہاں پنڈت جواہر لعل نہرو کو بطور ریفرنس پیش کیا، وہیں پروگرام میں انڈین میوزک چھائی رہی۔ یہود کی اتنی بڑی تعداد نے اگر اس کو ووٹ کیا ہے تو کچھ سمجھ کر ہی کیا ہے۔ یہود کے اتنی ریشو میں ووٹ تو ٹرمپ کو بھی نہیں ملے تھے۔

اسی روز ورجینیا میں ڈیموکریٹ امیدوار غزالہ ہاشمی نے بھی ڈپٹی گورنر کا الیکشن جیتا ہے۔ لیکن اس سے امریکیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ اس کا تقابل ذرا اپنے سماج سے کر کے دیکھیے۔ کیا یہاں کسی ہندو، مسیحی یا احمدی کا مئیر منتخب ہونا ممکن ہے؟ ممدانی کی مسلمانی اپنی جگہ لیکن اس کی مسلمانی کے باوجود اس کا رہن سہن ملٹی کلچرل اور ملٹی ریلیجس ہے۔ اور یہی آج کی عالمی برادری میں یونیورسل کلچر ہے ۔ہمیں اسی کی آبیاری کرنی ہے۔