پاک افغان تعلقات اور تحریک انصاف کا کردار

استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان  مذاکرات کا تیسرا دور بھی تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے  تصدیق کی ہے کہ پاکستانی وفد افغانستان کے نمائیندوں کے ساتھ کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔   افغان وفد کسی تحریری معاہدے پر آمادہ نہیں ہے اور نہ ہی سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی روکنے کے حوالے سے دو ٹوک وعدہ کیا جارہا ہے۔

خبروں کے مطابق پاکستانی وفد کے سربراہ قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ایس آئی کے  ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اگرچہ وطن واپس آرہے ہیں لیکن دیگر اعلیٰ افسران بدستور استنبول میں موجود ہیں تاکہ افغانستان کے لیڈر  اگر کسی معاہدے پر آمادہ ہوتے ہیں تو  حتمی  دستاویز تیار ہوسکے۔ گو کہ  موجودہ حالات میں ابھی  ایسے کسی معاہدہ کا  فوری امکان موجود نہیں  ہے۔  وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ   پاکستان کی پوزیشن واضح ہے۔ ابھی جنگ بندی جاری ہے لیکن اگر افغانستان نے اس کی خلاف ورزی کی یا وہاں سے کوئی دہشت گرد گروہ پاکستان میں سرگرم ہؤا تو پاکستان اس کا سخت جواب دے گا۔

پاکستان کی طرف سے شروع سے ہی یہ واضح کیاجارہا ہے کہ وہ اب افغانستان سے  تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان عناصر کی پاکستان میں کارروائیوں کی وجہ  ایک طرف  ایک طرف فوجی افسروں و جوانوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف مقامی آبادی بھی مشکلات کا شکار رہتی ہے۔  دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جوابی  کارورائیوں کی وجہ سے  مقامی آبادی کو پریشانی ہوتی ہے  اور یہ قیاس آرائیاں بھی کی جاتی ہیں کہ ان کی وجہ سے شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔  خیبر پختون خوا چونکہ خاص طور سے جنگ زدہ خطہ بنا ہؤا ہے، اس لیے  اس معاملہ کو  تحریک انصاف کی طرف سے سیاسی بیانیہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیاجارہا ہے۔ 

تحریک انصاف کے بانی عمران خان  نے واضح کیا ہؤا ہے کہ افغانستان کے ساتھ جنگ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا، اس لیے  کابل کے ساتھ مذاکرات کیے  جائیں۔ انہوں نے ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے خود اپنی خدمات بھی پیش کی تھیں اور کہا تھا کہ  انہیں پیرول پر رہا کیا جائے ، وہ خود یہ معاملات حل کرادیں گے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ عمران خان یا تحریک انصاف کے  دیگر لیڈر کس حد تک افغانستان  میں طالبان حکومت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا اس سلسلہ میں اپنے اثر و رسوخ کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں۔ تاہم تحریک انصاف نے پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے  علاوہ  افغانستان کے ساتھ جنگ  کی بھی مخالفت کی ہے۔  تحریک انصاف تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت کے ذریعے صوبے میں امن کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ تاہم موجودہ حکومت اور عسکری قیادت ان خیالات سے متفق نہیں ہے۔ وہ افغان مہاجرین کی واپسی کو مسئلہ  حل کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس کے  علاوہ طے کیا گیا ہے کہ اب افغانستان کے راستے پاکستان میں کسی قسم کی دہشت گردی برداشت  نہیں کی جائے گی۔

اسی حکمت عملی کی وجہ سے  گزشتہ ماہ کے شروع میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں  نے شدت اختیارکی تھی۔  پاکستان نے کابل میں ٹی ایل پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جسے افغانستان نے اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے۔ ان حملوں کے جواب میں مزید فضائی حملے کیے گئے اور سرحد پر بھی گولہ باری کا تبادلہ ہؤا۔ تاہم قطر اور ترکیہ کی مداخلت سے دونوں ملک دوحہ  میں بات چیت  پر راضی ہوگئے اور 19 اکتوبر کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان عبوری جنگ بندی کا معاہدہ  ہوگیا۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ  دونوں  ملک اکتوبر کے آخر میں استنبول میں ملاقات کریں گے اور  دہشت گرد گروہوں کی مانیٹرنگ کے کسی طریقہ کار پر اتفاق کیاجائے گا۔  اس حوالے سے مذاکرات کا دوسرا دور بھی آج کسی معاہدے کے بغیر  ختم ہوگیا۔

فریقین اگرچہ   ابھی تک جنگ بندی  پر متفق ہیں اور اکا دکا خلاف ورزیوں کے باوجود بڑی حد تک اس پر عمل بھی ہورہا ہے۔ تاہم یہ اندیشہ موجود ہے کہ استنبول سے وفود کی مکمل واپسی اور مذاکرات میں ناکامی کے بعد کسی قسم کی سرحدی اشتعال انگیزی کسی  بڑے تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ پاکستان بار بار واضح کرچکا ہے کہ اگر اس کے علاقے میں افغانستان سے آنے والا کوئی گروہ ملوث ہؤا تو پاکستان افغان سرزمین   میں اس کا پیچھا کرنے اور قلع قمع کرنے کا حق محفوظ  رکھتا ہے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے شدت پسند عناصر سخت بیانات دینے اور اسلام آباد یا کابل فتح کرنے کے دعوے بھی کرتے رہے ہیں۔ تاہم اسلام آباد نے ابھی تک  تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔  اب بھی  افغانستان  نے اگرچہ کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے لیکن  اگر وہ پاکستانی وفد کی بیان کی ہوئی دوٹوک پوزیشن کے بارے  میں کابل اور قندھار کے حکام کو پیغام پہنچاتا ہے تو  افغان حکومت ہوشمندی سے کام لیتے  ہوئے ایسے عناصر کو لگام ڈال سکتی ہے جو پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات  خراب کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ البتہ اگر پاکستان کے انتباہ  کو گیدڑ بھبکیاں سمجھا گیا اور سرحد پار سے دہشت گرد کسی بڑی کارروائی میں ملوث ہوئے تو پاکستان کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے اور یہ جنگ غیر معمولی طور پر شدت اختیار  کرسکتی۔ حالانکہ افغانستان پر پاکستان کی عسکری برتری کے باوجود ایسا کوئی تنازعہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

افغانستان حکومت کی طرف سے لیت و لعل  کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ان میں سب سے  اہم افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کی نظریاتی ہم آہنگی ہے جس کی وجہ سے افغان حکومت  پاکستان دشمن طالبان کو کنٹرول  کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ  اقتدار کی کشمکش میں کابل اور قندھاری گروہوں کے درمیان بھی چپقلش کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان کے ساتھ تصادم کو دونوں گروہ اپنی سیاسی پوزیشن ،مستحکم کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اس دوران قندھاری گروہ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے افغان  وزیر  خارجہ  امیر خان مقیم نئی دہلی کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس کے بعد سے نئی دہلی ، افغانستان کو پاکستان کے ساتھ  مقابلہ پر اترنے کے لیے ہلہ شیری دیتا رہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے خیال میں بھارت اس حکمت عملی سے پاکستانی فوج کو دوسرے محاذ پر مصروف رکھنا چاہتا ہے تاکہ  اس سے مئی کی جھڑپوں میں اٹھائی جانے والی ہزیمت کا بدلہ لیا جاسکے۔

یہ سب عوامل کسی نہ کسی حد تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ لیکن ان میں سب سے  اہم معاملہ پاکستان میں سیاسی تفریق اور  تحریک انصاف کی طرف سے  پاک فوج کی حمایت کرنے یا قومی حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی  بجائے  علی الاعلان  افغانستان کے ساتھ تصادم  کے خلاف  متنبہ کرنے کی پالیسی ہے۔ یوں تو تحریک انصاف کے کچھ لیڈر  جنگ کی صورت حال میں پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان بھی کرتے  ہیں لیکن  اس سوال پر پی ٹی آئی کی پوزیشن کی وجہ سے کابل حکومت کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ  پاکستان میں ان کی طاقت ور  سیاسی حمایت موجود ہے ، اس لیے انہیں پاکستانی وفد سے  بات کرتے ہوئے کوئی متوازن  معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں  ہے۔

پاکستان میں تحریک انصاف کی اس حکمت عملی کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہے۔ یہ پارٹی خیبر پختون خوا کے علاوہ کہیں اقتدار میں نہیں ہے۔ اسے سکیورٹی یا خارجہ  معاملات میں فیصلہ سازی  یا اس پر اثر انداز ہونے کا موقع بھی میسر نہیں ہے۔  سب سے پہلے تو تحریک انصاف کو خود سوچنا چاہئے کہ کیا وہ  سیاسی فائدے اور عمران خان کی رہائی کے سوال پر اختلافات کی وجہ سے ایک ایسے ملک کی پشت پناہی پر تیار ہے  جو اس وقت کھل کر پاکستان کی سالمیت اور خود  مختاری کے لیے خطرہ بنا ہؤا ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان سے اختلافات کے باوجود یہ توقع کی  جاسکتی ہے کہ ان کی وفاداریاں پاکستان کی یک جہتی و سالمیت کے ساتھ ہیں۔  البتہ اس بارے میں غیر واضح مؤقف  اور بعض  اوقات اشتعال انگیز سیاسی بیان بازی  کی وجہ سے  شبہات پیدا ہونا  بھی فطری ہے۔ ان شبہات کا خاتمہ تحریک انصاف اور ریاست پاکستان کی سالمیت کے لیے بے حد ضروری ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ عمران خان نے خیبر پختون خوا میں ایک جذباتی اور ناتجربہ کار سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بنوا کر اپنے تئیں فوج اور وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ سہیل آفریدی بھی منہ کھولتے  ہوئے یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ  ان کے الفاظ کس حد تک دہشت گردوں کے مقابلے میں قربانیاں دینے والی فوج کے خلاف دلوں میں کدورت پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس حوالے سے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ان کی گفتگو خاص طور سے قابل گرفت ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ مسلح افواج کتے لے کر مساجد( خیبر پختون خوا کی) میں داخل ہوں گی اور انہیں وہاں باند ھ کر مسجد کے تقدس کو پامال کیا جائے گا۔ جب ہم ان سے کہیں گے کہ وہ مساجد کا تقدس پامال کررہے ہیں تو وہ ہمیں جواب دیں گے کہ ’تم میں اور ان کتوں میں کوئی فرق نہیں ہے‘۔  اس کے باوجود ہم ان کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن کیا انہیں میرے لوگوں کے درد کے بارے میں علم ہے؟ یہ ایک سخت اور فوج کے خلاف عوام کو اکسانے کے مترادف بیان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختون خوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس کا  نوٹس لیا ہے۔  خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان علما کونسل نے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کی مذمت کی ہے اور اسے  پاک فوج کے وقار پر حملہ قرار دیا ہے۔

سہیل آفریدی  نے کسی سیاق و سباق کے بغیر یہ بیان    دیا  ہے اور انہوں نے  ایسے کسی واقعہ کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیا جس میں سکیورٹی فورسز نے کسی مسجد میں کتے باندھے ہوں۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے صوبے کا وزیر اعلیٰ اگر ایسی اشتعال انگیز گفتگو کرے گا تو اس کا فائدہ  پاکستان کے دشمنوں کو ہی ہوگا۔ سہیل آفریدی کو اپنے طرز تکلم کا جائزہ لینا چاہئے اور  عمران خان کو بھی  اپنے چنے ہوئے اس ہونہار نوجوان کی گوشمالی کرنی چاہئے۔

 یہ واضح ہونا چاہئے کہ کوئی فرد یا پارٹی پاکستان کی سلامتی اور عوام کے تحفظ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ تحریک انصاف  ایسے تصادم  سے گریز کرے اور شبہات پیدا کرنے کی بجائے انہیں کم کرنے کے لیے کام کیا جائے۔