27ویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کردیا گیا
27ویں آئینی ترمیم کا بل ہفتے کے روز سینیٹ میں پیش کر دیا گیا اور اسے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا گیا۔ اس سے کچھ دیر قبل ہی وفاقی کابینہ نے اس مسودے کی منظوری دی تھی۔
سینیٹ اجلاس کا آغاز ہوا تو وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے سوال و جواب کے سیشن اور دیگر کارروائی معطل کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ اراکینِ سینیٹ کو ترمیم سے آگاہ کر سکیں۔ وزیرِ قانون نے بل ایوانِ بالا میں پیش کیا، جس پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اسے قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کو جائزے اور غور کے لیے بھیج دیا۔
سینیٹ میں پیش ہونے والے 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے کی تفصیلات کے مطابق آئین پاکستان کے 48 آرٹیکلز میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل243 میں سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ تحلیل کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے۔ ایک تجویز کے مطابق فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات رہے گا۔
ججز کے تبادلے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سپرد کیے جانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ جج نے جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر پر جانا ہے اور جس ہائیکورٹ میں جانا ہے، ان کے چیف جسٹس بھی تبادلے کے عمل کا حصہ ہوں گے۔ آئینی ترمیم میں بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ صوبائی کابینہ کے حجم میں اضافے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ صوبائی کابینہ کے مشیران کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ ایک وقت میں پورے سینیٹ کے انتخابات کرانے کے حوالے سے ترامیم بھی تجویز کی گئی ہیں۔
قبل ازیں باکو میں موجود وزیراعظم شہباز شریف نے ویڈیو لنک پر وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی تھی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی گئی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا تھا کہ میثاق جمہوریت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے مطابق آئینی عدالت تشکیل دی جائے گی۔ اب پارلیمنٹ آئین میں ترمیم پر بحث کے بعد ان کی منظوری کا حتمی فیصلہ کرے گی۔ آئینی ترمیم آج ہی سینیٹ میں پیش کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ججز کی تقرری پر حال ہی میں کافی بحث سامنے آئی تھی۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ ججز کا ٹرانسفر جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے۔ جس ہائی کورٹ سے جج کا ٹرانسفر ہونا ہے اور جس ہائیکورٹ میں تبادلہ ہونا ہے، دونوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان بھی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔ آئینی عدالت کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال تجویز کی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ حالیہ پاک-بھارت جنگ نے ہمیں بہت سے سبق سکھائے ہیں۔ جدید دور میں جنگوں کے طریقہ کار تبدیل ہوچکے ہیں۔ دفاعی اداروں کے اعلیٰ عہدوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ نئی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل کے عہدے کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھا گیا ہے۔ اس بارے میں بھی تجویز ہے۔ جہاں تک مسلح افواج کی کمان کا تعلق ہے، اس کے بارے میں بھی ترامیم پارلیمنٹ کو بھیجی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت سے آئینی ترامیم منظور ہوں گی تو آئین کا حصہ بنیں گی۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایوان میں پیش کیا گیا بل قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس پر تفصیلی غور کرے۔ پارلیمانی روایت اور آئینی ترامیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین اور اراکین کو بھی مدعو کرے تاکہ وہ اس عمل میں شریک ہو سکیں اور اپنی تجاویز دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں کمیٹیاں مشترکہ اجلاس منعقد کر سکتی ہیں اور تفصیلی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران تحریکِ انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ جب اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہے تو آئینی ترمیم پر بحث مناسب نہیں۔ حکومت اور اتحادی جماعتیں بل کو جلد بازی میں منظور کرانا چاہتی ہیں۔ میں یہ مشورہ دوں گا کہ اسے کمیٹی میں بھیجنے کے بجائے پورے سینیٹ کو ہی کمیٹی تصور کیا جائے تاکہ تمام اراکین بحث میں حصہ لے سکیں, اپوزیشن کو آج ہی بل کا مسودہ ملا ہے اور اب تک انہوں نے اسے پڑھا بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی ایسی چیز پر بحث نہیں کر سکتے جو ہم نے پڑھی ہی نہیں۔
وزیرِ قانون نے بتایا کہ بل میں 49 شقیں شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 3 بنیادی اور 2 ضمنی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے یعنی کل 5 نکات پر یہ ترمیم اثر انداز ہو گی۔ 2006 میں دستخط شدہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق ہوا تھا جو تمام صوبوں کے اعلیٰ ججوں پر مشتمل ہوگی اور صرف آئینی معاملات سنے گی۔ جب کہ عام عدالتیں باقی مقدمات کی سماعت جاری رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کے دوران کچھ دوستوں نے کہا تھا کہ اتنی بڑی تبدیلی کی بجائے تجرباتی طور پر ’آئینی بینچ‘ بنائے جائیں۔ بعد میں ایسے بینچ بنائے گئے مگر جج زیادہ تر وقت انہی مقدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف 5 سے 6 فیصد کیسزپر عدالت کا 40 فیصد وقت صرف ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگوں نے ان بینچوں کو ’عدالت کے اندر عدالت‘ بھی قرار دیا ہے اور دیگر اعتراضات بھی اٹھائے۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام پارلیمنٹ کے ذریعے کیا جائے جو اس بل میں شامل ہے۔ ایک اور اہم معاملہ ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی سے متعلق ہے۔ 1973 کے آئین میں صدر کو وزیراعظم کے مشورے پر مشاورت کے بعد جج کی منتقلی کا اختیار دیا گیا تھا۔ اور 2 سال کے لیے بغیر رضامندی کے تبادلہ ممکن تھا، بعد میں 18ویں ترمیم میں یہ شق ختم کر دی گئی اور جج کی رضامندی لازم قرار دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں یہ شرط برقرار رہی مگر ایگزیکٹو کی مداخلت پر اعتراضات آئے۔ اب تجویز ہے کہ وزیراعظم کے مشورے والا حصہ ختم کر کے معاملہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کو دیا جائے۔ اس میں یہ حفاظتی شق بھی رکھی گئی ہے کہ چیف جسٹس سے زیادہ سینئر جج کو نہیں بھیجا جائے گا تاکہ تنازع نہ ہو۔
وزیرِ قانون نے بتایا کہ ایوانِ بالا (سینیٹ) کے انتخابات میں تاخیر کے باعث خیبر پختونخوا میں انتخابات ایک سال سے زیادہ مؤخر ہوئے۔ اس ضمن میں ایک نئی شق شامل کی گئی ہے تاکہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب پر کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ کی 11 فیصد حد بڑھا کر 13 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کیونکہ پنجاب کے سوا باقی تمام صوبوں نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ پہلے 5 صوبائی مشیر تھے، اب ان کی تعداد 7 کر دی گئی ہے۔
آرٹیکل 243 کے بارے میں بات کرتے ہوئے جو کہتا ہے کہ وفاقی حکومت کو مسلح افواج پر اختیار حاصل ہوگا، انہوں نے کہا کہ اس میں نئی شقیں شامل کی جا رہی ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ’فیلڈ مارشل‘ کا خطاب دیا گیا ہے، یہ ایک اعزازی خطاب ہے۔ کوئی عہدہ یا رینک نہیں۔ آرمی چیف ایک عہدہ ہے جس کی مدت 5 سال ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل، ایئر فورس کے مارشل یا نیوی کے ایڈمرل آف دی فلیٹ جیسے خطابات دنیا کے مختلف ممالک میں قومی ہیروز کو دیے جاتے ہیں۔ یہ خطابات تاحیات رہیں گے اور ان کی منسوخی کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے پاس ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ 27 نومبر 2025 سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ موجودہ سی جے سی ایس سی ہمارے ہیرو ہیں، ان کی مدت مکمل ہونے کے بعد یہ عہدہ ختم کیا جائے گا۔ اس کے بعد کوئی نیا تقرر نہیں ہوگا کیونکہ آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا کردار دیا جائے گا۔
چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن سے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں، بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کر دیتا ہوں۔ دوسری جانب، 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا مشترکہ اجلاس آج ہی طلب کرلیا گیا۔
مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین جب بنا تھا اتفاقِ رائے سے بنا تھا، ایسی ترمیم کیوں لائیں جس پر سب کا اتفاقِ رائے نہیں ہے۔ جو بھی ترمیم ہو اس پر اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے آئینی ترامیم کروا رہے ہیں جیسے چوری کر رہے ہوں۔ ترامیم میں جتنی خوبصورت انگریزی ہو نقصان دہ ہے۔ عدلیہ کو معذور کر دیا گیا، ترامیم آئین کو متنازع کر دیں گی، یہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔
نائب وزیراعظم سینیٹر اسحٰق ڈار نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں بل پر مفصل بحث کی جا سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف کی تقرری چیئرمین سینیٹ کا اختیار ہے۔