ملتان ایونیو ترقی کا سنگ میل

ملتان ایک قدیم تاریخی شہر ہے جس کے لئے گرد و گرما گدا و گورستان کی خصوصیات بھی شامل کی جاتی ہیں۔ مگر اب لگتا ہے کہ اس شہر کی جغرافیائی اور ظاہری صورت حال بھی تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔

اب یہاں فلائی اوور ہیں، ملتان کا ایرپورٹ انٹرنیشنل ہے، فوڈ اسٹریٹ اور جدید ہاؤسنگ کالونیاں بھی شہر کا نقشہ تبدیل کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ملتان کے کمشنر عامر کریم خان کو دو وزرائے اعلی کے ساتھ کام کرنے کا جو موقع ملا ہے تو وہ اب ملتان کو بھی لاہور اور دیگر ترقیاتی شہروں کے ہم پلہ لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ ان کے کئے گئے کئی اقدامات سے ملتان کا قدیم حسن جدید حسن میں ڈھلتا جارہا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ ملتان کو لاہور اور اسلام آباد کی طرح ترقی یافتہ شہر بنائیں تاکہ وہ ہمیشہ اہل ملتان کے دلوں پر راج کریں۔

حال ہی میں وزیر اعلی پنجاب نے ملتان کے شہریوں کے لئے ملتان ایونیو کا ایک تحفہ دیا ہے۔ کمشنر ملتان عامر کریم خان کی خصوصی دعوت پر اس اہم منصوبے کی گراونڈ بریکینگ تقریب میں جا کر پتہ چلا کہ دو ارب 89 کروڑ کی خطیر رقم سے کم مدت میں مکمل ہونے والے اس پراجیکٹ سے ملتان ایک بزنس سٹی کہلائے گا۔ محکمہ مواصلات اور حکومت پنجاب کے تعاون سے سیداں والا بائی پاس سے سہو چوک تک 9 کلو میٹر تعمیر ہونے والی اس شاہراہِ کے منصوبے کی جب تفصیلات پتہ چلیں تو اس میں ایک جادوئی کیفت نظر آ ئی کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ملتان کے شہری بجا طور پر اپنے ملتانی ہونے پر فخر محسوس کر سکیں گے۔ کاروباری حضرات اور عام شہریوں کے لئے بھی اس اہم منصوبے میں کئی خصوصیات شامل ہیں:
سیّدان والا چوک سے سہو چوک تک — کل لمبائی 9 کلومیٹر ہوگی۔
منصوبے پر 2 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔
منصوبہ 4 ماہ کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔
سنٹرل میڈین کو ڈسٹ فری بنانے کے لیے گرین بیلٹ کی بحالی اور خوبصورتی کو یقینی بنایا جائے گا۔
سنٹرل میڈین پر روشنی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث 260 نئی اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی، جس سے شاہراہ کی خوبصورتی اور سیکیورٹی میں اضافہ ہوگا۔
موجودہ ڈوئل کیرج وے کو جدید تقاضوں کے مطابق تین لین پر مشتمل کشادہ شاہراہ میں تبدیل کیا جائے گا، جس سے ٹریفک کی روانی مزید بہتر ہو گی۔
برسات کے پانی کی نکاسی کے لیے جدید اسٹورم واٹر ڈرینیج سسٹم تعمیر کیا جائے گا، جو سیلابی پانی کے بہاؤ کو منظم کر کے سڑک کی پائیداری کو یقینی بنائے گا۔
عوامی سہولت اور ٹریفک کے بوجھ کو تقسیم کرنے کے لیے سڑک کے دونوں اطراف 16 فٹ کشادہ سروس روڈز کی تعمیر کی جائے گی تاکہ مقامی آمد و رفت مرکزی شاہراہ سے علیحدہ ہو سکے۔

گرین پارک ویز کی اہم خصوصیات کچھ اس طرح ہیں:
اسٹروم واٹر ڈرین اور سروس روڈ کے درمیان واقع دو رویہ مرکزی شاہراہ کے دونوں اطراف 14 فٹ چوڑی اور مجموعی طور پر 9 کلومیٹر طویل پٹی کو گرین پارک ویز میں تبدیل کیا جائے گا۔ چونکہ یہ دو رویہ سڑک ہے۔ اس لیے تقریباً 18 کلومیٹر لمبے اور 14 فٹ چوڑے راستے کو گرین پارک ویز میں تبدیل کیا جائے گا۔

سڑک کے دائیں جانب سیدان والا چوک سے سہو چوک تک وقفے وقفے سے 18 پارکنگ سیکشن تعمیر کیے جائیں گے، جن میں تقریباً 830 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش فراہم کی جائے گی۔ جبکہ بائیں جانب سہو چوک سے سیداں والا چوک تک 16 پارکنگ سیکشن بنائے جائیں گے جن میں مزید 760 گاڑیوں کی پارکنگ ممکن ہو سکے گی۔ اسی طرح سڑک کے دونوں اطراف پارکنگ بیز کے ساتھ ساتھ گرین بیلٹس بھی تعمیر کی جائیں گی۔ یہ گرین بیلٹس یکساں نوعیت کی نہیں ہوں گی بلکہ مقام اور ضرورت کے مطابق ان میں شہری سہولت اور ماحولیاتی بہتری دونوں کو مدنظر رکھا جائے گا، جن میں بینچز، واکنگ ٹریکس، اوپن جم، مناسب شجرکاری اور لینڈ اسکیپنگ جیسی سہولیات شامل کی جائیں گی۔ تاکہ یہ گرین کوریڈور نہ صرف ماحول دوست ہو بلکہ شہریوں کے لیے آرام، صحت اور تفریح کا مرکز بھی بن سکے۔

اس گرین پارکنگ ویز کی تعمیر سے لوگوں کو نہ صرف پارکنگ کیلئے مخصوص جگہ میسر آئے گی بلکہ ساتھ ہی تفریح کیلئے بھی اس دو رویہ سڑک کے دونوں اطراف جگہیں میسر آئیں گی۔ اور لوگوں کو سروس روڈ پہ گاڑی پارک کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ یہ تمام اجزا اس منصوبے کو صرف ایک تعمیراتی پراجیکٹ نہیں بلکہ ایک شہری احیا کا عملی نمونہ دکھائی دے رہے ہیں۔

ملتان ایونیو دراصل شہر کی ترقی اور ملتان کے لیے ایک نیا ہریالی والا منظر نامہ ثابت ہوگا۔ کمشنر ملتان عامر کریم خان نے ملتان کو لاہور، اسلام آ باد اور دیگر ترقیاتی شہروں کی طرز پر جدید طرز کا شہر بنانے کے لئے صحافیوں، کالم نگاروں، صنعت کاروں، تاجروں، مخیر حضرات اور تعلیمی اداروں کے سابقہ مخیر فارغ التحصیل طلبہ سے رابطے کر کے تعلیمی اداروں اور ملتان کی تعمیر وترقی کے لئے قابل ذکر منصوبے شروع کئے ہیں۔ ان کی ذاتی دلچسپی سے ملتان تا وہاڑی کی ڈسٹ فری سڑک پایہ تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔ شہر کے چوکوں کو کھلا کر کے ٹریفک کے دباو کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹریفک کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کا ہونا ابھی باقی ہے۔

آرٹس کونسل سے متصل چوک پر رومی کا مجسمہ نصب کیا ہے۔ دیگر اہم شاہراہوں پر بھی ثقافتی علامات اور قمقوں سے شہر کی خوبصورتی میں اضافے کا سامان کیا ہے۔۔پارکوں کو بہتر بنانے اور ان میں کھیل کی بہتر سہولیات مہیا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ سوریچ سر دست ملتان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وزیر اعلی پنجاب جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے وافر فنڈز کی فراہمی سے اس اہم مسئلے کو حل کرا سکتی ہیں۔ ضلعی حکومت نا جائز تجاوزات کے مستقل خاتمے اور صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید بہتر بنا سکتی ہےْ

ملتان ایونیو منصوبے کی افتتاحی تقریب میں ال ملتان نے بھرپور شرکت کی۔ گراونڈ بریکنگ کی تقریب میں سابق اراکین اسمبلی۔ اعلی افسران۔ کالم نگار صحافی۔ تاجر برادری اور سیاسی اور عوامی رہنما کمشنر ملتان کی خصوصی دعوت پر پورے جوش و خروش کے ساتھ موجود تھے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس شہر کا حسن بڑھانے کے لئے بھی سب دامے درمے سخنے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ اراکین اسمبلی اور عوامی نمائندے گلی محلے کی ٹوٹی سڑکوں اور حالت زار کو بدلنے کے لئے حکومت سے اسکمیں منظور کرائیں تاکہ عوام کے حالات بھی بدلیں اور ملتان ایونیو کا یہ شاندار منصوبہ اس شہر کے حسن کو مزید نکھارنے اور اسے ترقی کی شاہراہِ پر گامزن کرنے کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہو۔