دہلی میں لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب کار میں دھماکہ، متعدد ہلاک و زخمی
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ کے میٹرو سٹیشن کے باہر ایک زور دار دھماکے میں متعدد لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ دھماکہ شام تقریباً سات بجے ہوا ہے۔
دہلی پولیس کے ترجمان سنجے تیاگی کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 20 زحمی ہوئے ہیں اور دھماکے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ترجمان کے مطابق دھماکہ لال قلعہ کے گنجان آباد علاقے میں ہوا۔ انڈین میڈیا کے مطابق دارالحکومت کے ساتھ ساتھ ممبئی میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
دہلی کے پولیس کمشنر ستیش گولچہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ دھماکہ ایک سلو موونگ کار میں ہوا ہے۔ جب دھماکہ ہوا تو اس وقت کار میں مسافر موجود تھے۔ دھماکے سے دوسری کاروں میں بھی آگ لگ گئی۔ دھماکے میں کچھ لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ حالات کا جائزہ لیا رہا ہے اور دھماکے کی ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے۔
دھماکہ مبینہ طور پر میٹرو سٹیشن کے باہر ایک کار میں ہوا ہے۔ دھماکے سے نزدیک کھڑی کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی ہے اور فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے میں مصروف ہے۔ انڈیا کے وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دہلی کے ایل این جے پی ہسپتال کا دورہ کیا جہاں دھماکے میں زخمی ہونے والوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
انڈیا کی مرکزی پولیس فورس نے کہا ہے کہ دہلی بھر میں کئی اہم مقامات کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) نے ایکس پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ساتھ ساتھ دہلی میٹرو، لال قلعہ اور سرکاری عمارتیں ہائی الرٹ پر ہیں۔ شمالی انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں بھی حساس مذہبی مقامات، حساس اضلاع اور سرحدی علاقوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی دھماکے میں اپنے پیاروں کو کھونے والوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’آج شام دہلی میں ہوئے دھماکے میں اپنے عزیزوں کو کھونے والوں سے تعزیت۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ متاثرہ افراد کی حکام کی طرف سے مدد کی جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ اور دیگر عہدیداروں کے ہمراہ صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔‘
عینی شاہدوں کے مطابق دھماکے سے آس پاس کی عمارتیں لرز گئیں۔ دھماکے کے بعد لال قلعہ کے سامنے موجود چاندنی چوک کے بازار میں افراتفری مچ گئی اور دوکانیں بند کر دی گئیں۔
ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ دلی پولیس کی سپیشل سیل اور نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور جائے وقوعہ پر جانچ کر رہے ہیں۔
کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نےاس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایکس پر پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ دہلی کے لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب کار دھماکے کی خبر انتہائی تکلیف دہ اور تشویشناک ہے۔ اس المناک حادثے میں کئی معصوم جانوں کے ضیاع کی خبر افسوسناک ہے۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
عینی شاہد راجدھر پانڈے نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ’ہم نے آگ کے شعلے دیکھے۔۔۔ میں نے اسے اپنی چھت سے دیکھا۔ اس کے بعد میں یہ دیکھنے کے لیے نیچے آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک بہت زوردار آواز آئی۔ عمارت کی کھڑکیاں لرز اُٹھیں۔‘ ولی الرحمان نامی ایک مقامی دکاندار نے اے این آئی کو بتایا کہ ’جب دھماکہ ہوا تو میں دکان میں بیٹھا ہوا تھا۔ دھماکہ بہت زوردار تھا، ایسا میں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔‘
دلی فائر سروس نے بی بی سی ہندی کو بتایا ہے کہ لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب ایک کار میں دھماکہ ہوا ہے۔ دلی فائر سروس نے بی بی سی ہندی کو تصدیق کی کہ اسے شام چھ بج کر 55 منٹ پر کال موصول ہوئی۔
دھماکے کے بعد لگ بھگ چھ گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور قریبی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دہلی فائر سروس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع کے بعد سات آگ بجھانے والی گاڑیاں لال قلعہ میٹرو سٹیشن پر بھیجی گئی ہیں۔