اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید، 27 زخمی

  • منگل 11 / نومبر / 2025

اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں کچہری کے باہر پولیس کی گاڑی پر خُودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوگئے۔ ’پی ٹی وی نیوز‘ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنۃ الخوارج نے خودکش دھماکا کیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکے۔ موقع ملنے پر بمبار نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اُڑا دیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔

پمز ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کی رپورٹ کے مطابق 12 افراد کی لاشیں اور 20 سے 22 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جب کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 27 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔ پی ٹی وی نیوز کے مطابق مبینہ خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ نریندر مودی دہلی میں فالس فلیگ کروا رہا ہے اور ادھر اپنی پراکسیز افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے ذریعے پہلے وانا کیڈٹ کالج اور آج اسلام آباد میں دہشت گردی کروائی گئی۔ قبل ازیں دھماکے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں وکلا بھی زخمی ہوئے ہیں۔

کچہری کے باہر دھماکے کے بعد عمارت خالی کرالی گئی، وکلا، ججز اور سائلین کو کچہری سے نکال دیا گیا۔ جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی حصے کی طرف شہریوں اور وکلا کو نکالا گیا۔ ججز کو بھی روانہ کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ دھماکا کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں ہوا ہے۔ دھماکے کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ دارالحکومت میں دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے باعث لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد جی الیون کے علاقے میں خودکش بمبار کے حملے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے۔ انہوں نے ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا، اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کے لیے ہدایات جاری کیں۔ وزیر داخلہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ خود کش حملے میں اب تک 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا علاج کیا جارہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ خودکش بمبار یہاں آکر کھڑا رہا۔ پہلے خود کش حملہ آور اندر جا کر دھماکے کی کوشش کر رہا تھا، حملہ آور کو اندر جانے کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ اس کے بعد پولیس کی گاڑی آئی تو اس نے اس پر حملہ کیا۔ کچہری میں داخل ہونے والے ہر شخص کی چیکنگ ہوتی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ فول پُروف سیکیورٹی کی بدولت خودکش بمبار کچہری میں داخل نہیں ہوسکا۔ خودکش حملہ آوروں کے افغانستان میں کمیونی کیشن کی معلومات تھیں۔ ہمیں اپنے ملک کو دیکھنا ہے سب سے پہلے پاکستان ہے۔ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکا۔ موقع ملنے پر بمبار نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اُڑایا۔

انہوں نے کہا کہ کچہری حملے میں ملوث کرداروں کو سامنے لایا جائے گا۔ پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے۔  کل وانا میں بھی گاڑی سوار خود حملہ آور انٹری پوائنٹ پر پھٹا۔ وانا حملے میں افغانستان ملوث ہے، وانا میں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے۔ حملہ آور وہاں رابطے میں تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد جی الیون کچہری میں بھارتی پشت پناہی میں سرگرم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے دہشتگردانہ حملے کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہتے و معصوم پاکستانیوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ بھارتی دہشت گرد پراکسیز کی جانب سے پاکستان کے نہتے شہریوں پر دہشت گردانہ حملے قابل مذمت ہیں۔ افسوس ناک واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کر دی ہیں۔ ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ افغانستان سے کارروائی کرتے ہوئے بھارتی ایما پر سرگرم فتنۃ الخوارج نے وانا میں معصوم بچوں پر بھی حملہ کیا۔ بھارتی پشت پناہی اور افغان سرزمین سے جاری ان حملوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بھارت کو خطے میں پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی پھیلانے کے مکروہ فعل سے باز رہنا چاہیے۔ وقت آگیا ہے کہ دنیا کو بھارت کی ایسی مذموم سازشوں کی مزمت کرنی چاہیے، دونوں حملے خطے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد ضلعی عدالت کے کمپلیکس کے قریب خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر زرداری نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کے دشمن ہیں۔ وطن عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جانا ضروری ہے۔ صدر مملکت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

اسلام آباد میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے سے آگاہ ہیں اور صورت حال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس ناک دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ میری ہمدردیاں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ جین میریٹ نے ’ایکس‘ پر پوسٹ میں مشورہ دیا کہ برطانوی شہری سفری ہدایات پر عمل کریں۔