کیا آزاد کشمیر میں پاکستان مخالف عنصر پایا جاتا ہے؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 11 / نومبر / 2025
کیا آزاد کشمیر کے لوگ بھی پاکستان مخالف ہو گئے ہیں؟ یہ سوال آج کل اکثر پاکستانیوں کی زبان پر یا دماغ میں گھومتا ہے۔
گزشتہ روز میرا تایا زاد بھائی ساہیوال سے کھاریاں میرے بھتیجے کی شادی کی تقریب میں آیا اور رات رہنے کے لیے میرے ساتھ بھمبر آ گیا۔ پہلے شادی کی تقریب میں اس نے کچھ طنزیہ جملے بولے جیسے کہ ہم کشمیری اور وہ پاکستانی ہو ( حالانکہ وہ میرا تایا زاد ہے یعنی اس کے والد صاحب اور میرے والد صاحب سگے بھائی تھے)۔ پھر میرے گھر آ کر اس نے پہلا سوال یہ کیا کہ سچ بتاؤ کہ کتنے فیصد کشمیری پاکستان کے خلاف ہیں تو میں نے کہا کہ یہ سوال ہی غلط ہے۔ اگر سوال پوچھنا ہی تھا تو وہ اس طرح پوچھا جا سکتا تھا کہ کتنے فیصد کشمیری خود مختار کشمیر کے حق میں ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میرے ضلع بھمبر کی آبادی 5 لاکھ ہے جس میں سے میں 50 لوگوں کو نہیں جانتا جو خود مختار کشمیر کے حق میں ہوں۔
میرے کزن کا اگلا سوال یہ تھا کہ آزاد کشمیر کے اندر جو بار بار عوامی حقوق کی تحریک چل پڑتی ہے، یہ کس کے خلاف ہے۔ تو عرض کیا کہ حقوق کا مطالبہ ہر کسی کا حق ہوتا ہے۔ اس کو کسی کے مخالف نہیں کہہ سکتے۔ کہنے لگا اچھا ہم مہنگی بجلی خریدیں اور آپ کو 3 سے 6 روپے یونٹ دیں، یہ ہے آپ کا حق ہے؟ پھر مجھے کچھ وقت لگا کر اسے یہ بات سمجھانا پڑی کہ جب آپ تک کوئی بات پہنچتی ہے تو اس کی تحقیق کرنا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ سنی سنائی باتوں اور غیر حقیقی معلومات کو لے کر آگے چلنا انسانوں کے بیچ نفرتیں پیدا کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔
بجلی کی قیمتوں کا معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ آزاد کشمیر میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے وقت آزاد حکومت اور واپڈا کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ منگلا ڈیم کی رائیلٹی کے ساتھ آزاد کشمیر کو 59۔2 روپے فی یونٹ بجلی دی جائے گی اور پھر واپڈ کی طرف سے اسی قیمت پر کئی دہائیوں تک بجلی آزاد کشمیر کو مہیا کی جاتی رہی۔ لیکن آزاد کشمیر حکومت اپنے عوام کو پنجاب ہی کے برابر قیمت پر بجلی فراہم کرتی رہی کیونکہ عام لوگوں کو معاہدے کا علم نہیں تھا۔ دوسرا بجلی بہت مہنگی بھی نہیں تھی۔ پھر جب پاکستان نے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا کام واپڈ سے واپس لے کر بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں عرف عام میں آئی پی پیز کے حوالے کر دیا۔ اور ان کے ساتھ سخت شرائط پر معاہدے کر لیے تو پھر آزاد کشمیر سمیت پورے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہونے لگا۔ پھر آئی پی پیز نے آزاد کشمیر کو کم قیمت پر بجلی مہیا کرنے سے انکار کر دیا تو آزاد کشمیر حکومت نے یہ تسلیم کر لیا کہ ہم عام قیمت پر ہی بجلی کی ادائیگی کریں گے اس کے بعد لوگوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ اس کے ساتھ ہی آزاد کشمیر کو کشمیر فلور مل سے ملنے والے آٹے پر سے بھی سبسڈی ختم کر دی گئی۔ کیونکہ یہ سستے داموں خریدا گیا آٹا پاکستان سمگل ہونے لگ گیا تھا۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے لوگوں کو آزاد کشمیر کی حکومت سے اور بھی بہت ساری شکایات تھیں جن کو جواز بنا کر ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نام پر تنظیم بن گئی جس نے عوامی حقوق کی تحریک شروع کی۔ اور آزاد کشمیر کی حکومت نے ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے دھونس دھاندلی سے کام لیا اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ اس سارے قصے میں پاکستان کی مخالفت کہاں سے آ گئی؟ البتہ دونوں طرف کے کچھ ناعاقبت اندیشوں نے اس تحریک کو پاکستان مخالف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جس سے پاکستان مخالف تاثر پیدا ہوا۔ اگر پہلی تحریک کے دوران کچھ لوگوں نے پنجاب پولیس پر تشدد کیا یا حالیہ تحریک کے دوران چند مقامات پر اسلام آباد پولیس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو یہ کچھ لوگوں کی غلطی تھی۔ ایسے واقعات کو ہوا دے کر نفرت پیدا کرنے والے لوگ آزاد کشمیر کے ہمدرد ہیں نہ پاکستان کے۔ ہم جانتے ہیں کہ افغانستان، افریقہ اور کئی دوسرے ممالک میں اسی طرح کے چند ذاتی واقعات کو ہوا دے کر لوگوں میں ایسی نفرت کے بیج بوئے گئے جس سے ناقابل تلافی نقصان ہوتا رہا۔ جہاں تک کشمیریوں کی بات ہے، وہ پاکستان کے عوام سے بڑھ کر پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور پاکستان کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کرتے ہیں۔
کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں آباد ہے۔ پاکستان اور کشمیر کے درمیان کسی بھی جگہ کوئی ایسی سرحد ہی نہیں جسے دیکھ کر لگتا ہو کہ یہ دو الگ ممالک ہیں۔ کشمیریوں نے نہ صرف بجلی کے بڑے منصوبوں کے لیے قربانیاں دی ہیں بلکہ بھارت کے خلاف جہاد میں بھی اس لیے قربانیاں دی ہیں کہ ہم کشمیر کا الحاق پاکستان سے کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ ہمارا پاکستان سے لگاؤ، کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ہے۔ اس لیے ہمیں کوئی بھی پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا ہے۔ ہم نے آپس میں کوئی حساب کتاب نہیں کرنا کہ کشمیری پاکستان کو اور پاکستان کشمیریوں کو کیا دیتا ہے۔ بلکہ ہمارے درمیان ایک ایسا رشتہ اور جذباتی لگاؤ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے ہیں۔ دونوں طرف کے عوام آپس میں رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ کسی کشمیری کے ننھیال پاکستان میں ہیں تو کئی پاکستانیوں کے ددھیال اور سسرال کشمیر میں ہیں۔ اس لیے حالیہ چند ناخوشگوار واقعات کو بنیاد بنا کر نفرت کے بیج بونے سے گریز کیا جانا چاہئے۔ اور ایسے عناصر پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو کسی دشمن کے ایجنڈے پر کام کر کے دونوں طرف کے لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پولیس پنجاب کی ہو یا اسلام آباد کی دونوں میں کشمیریوں کی بھی خاصی تعداد ہوگی۔ اسی طرح پاک فوج کے ہراول دستے میں ہمیشہ کشمیری رہے ہیں۔ پاکستان کا کون سا ادارہ ہے جس کے اندر کشمیری نہیں ہیں؟ جہاں تک پاکستان میں کشمیری مہاجرین کی سیٹوں کا تعلق ہے تو یہ کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی بے جا بوجھ ہے جسے کم کیا جانا چاہیے۔ کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان کی آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی ضروری ہو سکتی ہے۔ مگر اس کے لیے 12 سیٹوں کی ہر گز ضرورت نہیں ہے۔