قومی اسمبلی نے بھی 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی

  • بدھ 12 / نومبر / 2025

قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم منظور ہوگئی۔ ترمیم کے حق میں 234 اور مخالفت میں چار ووٹ پڑے۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے۔

قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرلیا گیا۔ 234 اراکین نے ترمیم کے حق میں جبکہ چار نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایوان نے آج یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔ تمام ارکان کا دلی مشکور ہوں۔

انہوں نے کہا کہ واناکیڈٹ کالج حملے نے اے پی ایس حملے کی یاد تازہ کردی۔ حملہ آوروں میں افغان باشندے بھی شامل تھے۔ اساتذہ اور طلبہ کو بحفاظت نکالاگیا، سیکیورٹی فورسز کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو قوم کی جانب سےمبارکباد پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کچہری میں دہشت گردی کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ شہدا کے درجات کی بلندی اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں خارجہ ہاتھ ملوث ہے۔ جعفرایکسپریس واقعے میں بھی ہندوستان، کالعدم بی ایل اے ( بلوچستان لبریشن آرمی) اور ٹی ٹی پی ( تحریک طالبان پاکستان) شامل تھی۔

پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کسی رکاوٹ کوحائل نہیں ہونے دیں گے۔ افغان طالبان رجیم سے مسلسل کہا جارہا ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو لگام دے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادر جوان اور افسر قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہمارے بہادر جوان اور افسر مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری میں تعاون پر صدرآصف زرداری اور بلاول بھٹو کا شکرگزار ہوں۔ ڈاکٹرخالدمگسی، خالدمقبول صدیقی، ایمل ولی خان، فاروق ستار کا بھی مشکور ہوں۔ آئینی عدالت کے قیام کا خواب 19سال بعد پورا ہوا، میثاق جمہوریت میں بھی آئینی عدالت کا ذکر تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اختلاف کرنا اپوزیشن کا حق ہے، ہم احترام کرتے ہیں۔ دشنام طرازی اورگالم گلوچ سے ہٹ کر ہمیں مل کر ملکی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا۔ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد بلاول بھٹو کی قیادت نے پاکستان کامؤقف دنیا کے سامنے رکھا، پاکستان نےداخلی محاذ کے ساتھ ساتھ خارجہ محاذ پربھی کامیابی حاصل کی اور پاکستان کا وقارعالمی سطح پر بلند ہوا۔

شہباز شریف نے کہا کہ آرمی چیف سیدعاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دینا پوری قوم نے سراہا، پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں۔ وہ اپنے ہیروز کو عزت دینا جانتی ہے۔ بلاول بھٹو سے مکمل اتفاق ہے کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا۔ وہ تمام امور جن سے وفاق مضبوط ہو میں ان کا حامی ہوں۔

قبل ازیں قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے تحریک پیش کی۔ اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بارکونسل، ایسوسی ایشن کی مشاورت کے بعد چیف جسٹس کے عہدے پر کچھ ابہام تھا۔ یہ لکھا ہواتھا کہ جوموسٹ سنیئر ہوگا وہ کمیشن کو چیئرکرے گا۔ اس ابہام کو دور کرنے کیلئے کچھ ترامیم متعارف کراؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ ترامیم سے مزید واضح ہوگیا جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔ قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہم جو آئینی ترمیم لارہےہیں، ہمارے پاس اکثریت ہے۔ کسی کا باپ بھی 18 ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری کثرت رائے سے نہیں، اتفاق رائےسے ہوتی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے منظور کرائی تھی۔ اور 18 ویں ترمیم بھی تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظورکرائی۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو حقوق دیے گئے۔ میثاق جمہوریت میں کیے وعدے پورے کررہے ہیں اور میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدوں کی تکمیل یقینی بنارہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے بھارت کو عبرتناک شکست دی، فیلڈ مارشل کی کارکردگی کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے۔ فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دے رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی ملک میں ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے۔ دہشتگردی اور ملک دشمنوں کے خلاف سب کو یکجا ہونا ہوگا۔ قوم فتنہ الخواج کے خلاف متحد ہے۔

دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں۔ ہم نے پہلے بھی دہشت گردوں کا مل کر بھرپور مقابلہ کیا تھا۔ ہم نے شہادتیں دے کر دہشتگردوں کو پہلے بھی شکست دی اورآئندہ بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا صرف یہ کام نہیں کہ اپنے لیڈرکےلیے رونا دھونا جاری رکھے۔ اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ حکومت پر نظر رکھے۔ اپوزیشن کو قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ن لیگ، اور پی پی نے افتخار چوہدری کے سوموٹوز کو بھگتا۔ آج ہم ماضی کی غلطی کو درست کرنےجارہےہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی ازخود نوٹس نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری تجویزماننے پر ہم حکومت کے شکرگزار ہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والے بھی مانیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہوگی۔ بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔