ممدانی کی کامیابی امریکی نظام کی مضبوطی کی دلیل ہے
- تحریر خالد محمود اوسلو
- بدھ 12 / نومبر / 2025
4 نومبر کو امریکہ کے شہر نیویارک میں ہونے والے میئر کے انتخابات میں زہران ممدانی کی کامیابی کے چرچے دنیا کے ہر کونے ہیں پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ گمان گزرتا ہے کہ جیسے پوری دنیا نے ان انتخابات کے نتائج پر نظریں جما رکھی تھیں ۔
دنیا کی سپر طاقت امریکہ کے سب سے بڑے شہر میں پہلی دفعہ ایک مسلمان امریکی شہری کا میئر بن جانا، ایک سیاسی اور سماجی انقلاب سمجھا جا رہا ہے۔ زہران ممدانی کو اس کے علاوہ 1892 کے بعد نیو یارک کا سب کم عمر مئیر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے۔ یہ پہلا انڈین نژاد ایشین ہے جو اس عہدے تک پہنچا ہے۔ اس انتخاب پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہونے کی وجہ جہاں اس امیدوار کا مذہبی اور ثقافتی پس منظر تھا تو وہاں اس کی شہرت میں امریکی سیاسی اشرافیہ کا کھلم کھلا زہران ممدانی کی مخالفت میں میدان میں اُترنا تھا ۔
زہران ممدانی جب اپنی پارٹی کی اشرافیہ کو شکست دے کر ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار نامزد ہوا تو اس کی پارٹی میں نامزدگی کے مرحلہ پر شکست پانے والا نیویارک کا سابق گورنر انڈریو کومیو بطور آزاد امیدوار اُس کے سامنے آگیا۔ پھر وقت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ زہران ہمدانی کی کامیابی کو روکنے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کو اپنی مخالف سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک آزاد اُمیدوار کی حمایت میں میدان میں کودنا پڑ گیا۔
یہی نہیں بلکہ زہران ممدانی کو ناکام بنانے کے لیے صدر ٹرمپ نے اپنی ساری قوت صرف کرتے ہوئے نیو یارک کے ووٹروں کو ڈرانے کے لیے وفاقی گرانٹ روکنے کی دھمکی سے لے کر زہران ممدانی پر ذاتی نوعیت کےسخت سیاسی وار بھی کئ،ے جس میں اُسے کیمونسٹ گردانا جو کہ امریکہ میں سیاسی گالی تصور کی جاتی ہے۔ پھر زہران ممدانی کو جہادی تک قرار دے دیا گیا لیکن نیویارک کے رائے دہندگان نے ان تمام الزامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے زہران ممدانی کے حق میں ووٹ دے کر اُسے کامیاب کروادیا۔ جو رائے دہندگان کے سیاسی شعور کی بلوغت کی عکاسی ہے۔ اس کامیابی کا سیاسی پنڈتوں کو حیرت میں ڈالنا، اس نظام کی مضبوطی اور طاقت کا مظہر بھی ہے۔
زہران ممدانی کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ ایک انڈین نژاد جیت گیا ہے۔ اور نہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جیت گیا ہے۔ بلکہ اس کی فتح یہ ہے کہ نیو یارک کا ایک شہری امریکی سیاسی مقتدرہ کی خواہش کے برعکس جیت گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس شہر کو چلانے والے دستور نے اپنے لوہا منواکر یہ پیغام دیا ہے کہ میری آغوش میں پرورش پانے والا اور اس شہر میں امان لینے والے کو یہ حق ہے کہ وہ اس کے شہریوں کو اپنی قابلیت کا یقین دلا کر ان کی تائید و حمایت سے اس شہر کی باگ ڈور سنبھال لے۔ اس منصب تک دسترس کے لیے اس کا مذہبی عقیدہ اور آبائیت، اس کے راستے میں حائل نہیں ہوں گ۔ے اور نہ ہی اس کی مذہبی اور آبائی پہچان اس کی سیاسی صلاحیتوں کا طرہ امتیاز ہو گی۔ نہ ہی اُس کی کمزوری۔ بلکہ اُسے اگر کسی کسوٹی پر تولہ جائے گا تو وہ اس کی قائدانہ اہلیت و صلاحیت ہوگی۔ اسی بنیاد پر وہ لوگوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے ان کے اعتماد کو جیت کر ان کے شہر کا نظام و انصرام چلائے گا۔ لہذا زہران ممدانی کی کامیابی جہاں اس کی شخصی کامیابی ہے، وہاں یہ اس دستور کی کامیابی ہے جو اپنے شہر کی سربراہی کے لیے طریقہ انتخاب کے حوالے سے رنگ ونسل، مذہب اور لسانی وابستگی سے متعلق اندھا اور بہرہ ہے، لہذا اس نظام اور اس شہر والوں کو داد دیتے ہوئے یہ بات ذہین نشین رہے کہ انہوں نے زہران ممدانی کو نہ تو اس لئے چنا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے اور نہ اس لئے کہ وہ آبائی طور پہ انڈین ہے یا افریقہ میں پیدا ہوا ہے۔ بلکہ ان کو اس میں یہ صلاحیت نظر آئی ہے کہ وہ اس شہر کی حکمرانی کی دوڑ میں میدان میں موجود دوسرے امیدواروں سے زیادہ قابل ہے اور شہری انظامیہ کو دوسرے امیدواروں سے بہتر چلا سکتا ہے۔ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور شہری مسائل کا بہتر ادراک رکھتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی ذہین نشین رکھا جائے کہ زہران ممدانی کے حق میں ووٹ دینے والے اس کے مذہبی عقیدہ اور آبائی وابستگی سے بے خبر نہیں تھے۔ لیکن ان کے نزدیک یہ بات ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اُن کی اول ترجیح اُمیدوار کی سیاست ہے اور اپنے نظام پر اس قدر یقین ہے کہ وہ کسی بھی اُمیدوار کی مذہبی وابستگی سے قطع نظر اُسے اپنے اعتماد کا ووٹ دینے سے متفکر نہیں ہوتے۔ اس طرح کسی مذہبی وابستگی کو جو کہ کسی نہ کسی طرح اکثر افراد کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے، اُسے جمہوری حق سے مشروط نہیں کرتے۔ اور نہ ہی مذہبی اور لسانی پس منظر کے تناظر میں کسی کی قابلیت کے معیار کو پرکھتے ہیں۔
یہی وہ اصول پسندی اور خود اعتمادی ہے، جس سے سرشار نیویارک کے ووٹروں نے زہران ممدانی کے خلاف مذہبی اور لسانی کارڈ کے استعمال کو سختی سے رد کرتے ہوئے بھاری اکثریت سے اُسے کامیاب کروایا۔ جو اُن کا اپنے نظام پر مکمل اعتماد اور اس کی مضبوطی اور پائیداری پر غیرمتزلزل یقین کا ثبوت ہے ۔ کیونکہ انہیں مصمم یقین ہے کہ اُن کا منتخب کردہ سربراہ مسلمہ روایات کے مطابق اپنی مذہبی اور آبائی پہچان کو نظام پر فوقیت نہیں دے گا۔ اگر خدانخواستہ کبھی ایسا ہو بھی جائے تو پھر اس نظام میں اتنی سکت و قوت ہے کہ وہ اسے اندر سے روک سکے ۔ لہذا اس انتخاب نے نیویارک شہر کی جمہوریت کے حُسن اور قوت کو مزید نکھارا ہے۔ زہران ممدانی کی کامیابی اور اس جیسے جمہوری نظام میں کہیں اور بھی جب اقلیتی مذہب اور لسانی پس منظر رکھنے والوں کو موقع دستیاب ہوتا ہے تو اُن کی ذمہ داری بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ انہیں صرف اس عہدے کے تقاضوں کے مطابق ہی اپنی کارکردگی نہیں دکھانی ہوتی بلکہ وہ کسی ضابطہ اور تقاضہ کی عدم موجودگی کے باوجود اپنی مذہبی وابستگی اور لسانی یا آبائی پہچان کے سفیر کی ذمہ داری بھی لا شعوری طور پر ادا کرتے رہتے ہیں۔ لہذا ایسے منتخب عہدہ پر ان کی اچھی کارکردگی ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کے لیے خیر سگالی کا باعث بنتی ہے۔
ایسی صورتحال میں آحسن طریقے سے اپنے منصب سے عہد برآ ہونا ان کے مذہب کے لیے ایک مثبت تاثر کی بنیاد بن جاتا ہے، جس سے کثیر المذہبی ہم آہنگی تقویت پاتی ہے۔ لہذا آج جو مسلمان بطور تشکر یا بطور فخر زہران ممدانی کی کامیابی پر اس کے مذہبی پس منظر کو نمایاں کر رہے ہیں تو ان پر اب یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی نمایاں ہونے والے مذہبی وابستگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اُن شہر وں کے شہری کی حیثیت سے ایسے رویوں کو اپنائیں جن سے مسند اقتدار پر بیٹھے ان کے ہم مذہب سربراہ کے لیے آسانیاں پیدا ہوں اور نیک نامی میں اضافہ ہو۔ لہذا اب حالات اُن سب سے اُسی فراخدلی و رواداری اور متانت کا تقاضہ کرتے ہیں جس کے پیش نظر دوسرے مذاہب کے لوگوں نے ایک مسلمان قائد پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے شہر کے سب سے بڑے اور معتبر عہدہ کے لیےمنتخب کیا ہے۔
کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی معاشروں کے شہری کی حیثیت سے مذہبی رواداری ایک اہم اصول ہوتا ہے جس میں انسان باہمی رشتوں کی بنیاد پر اجتماعی فلاح و بہبود اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیتے ہیں تاکہ معاشرہ سب کے لیے امن اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکے۔ گو زہران ممدانی کی کامیابی نیویارک کا اندرونی سیاسی معاملہ ہے لیکن امریکہ کا سب سے بڑا اور دنیا کا ایک معروف شہر ہونے کے ناطے اس میں کثیرالمذہبی پس منظر کی قیادت کا ابھرنا پوری دنیا میں مثبت تاثر پھیلنے کا موجب بنے گا۔ جو امریکہ کے لیے بحثیت ایک ملک بھی اعزاز کی بات ہے۔ اور شاید اسی لیے دنیا کے ہر کونے سے نیویارک والے اور امریکی نظام جمہوریت داد تحسین کا مستحق ٹھہرایا جا رہا ہے۔
کچھ بھی کہا جائے لیکن اس وقت پوری دنیا میں جہاں مذہب اور لسانیت کی بنیاد پر معاشروں کی تقسیم کے لیے منفی قوتیں متحرک ہیں تو نیویارک کے عوام نے اس کے برعکس فیصلہ دے کر ان منفی قوتوں کو رد کیا ہے۔ زہران ممدانی کو اپنے ووٹ سے میئر منتخب کروا کر نیویارک والے سب پر بازی لے گئے ہیں۔