امن جرگہ میں اتفاق رائے کے لیے پی ٹی آئی سیاسی رویہ تبدیل کرے
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 12 / نومبر / 2025
خیبر پختون خوا حکومت کی دعوت پر صوبائی اسمبلی میں امن جرگے کا آغاز ہؤا ہے تاہم تحریک انصاف کی قیادت اگر باقی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا سیاسی حل تلاش کرنے پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتی ہے تو اسے ملک کو درپیش حالات کا ادراک کرتے ہوئے ، اپنی سیاسی سوچ کو پاکستان پر فوکس کرنا ہوگا۔
جرگہ سے پہلے پی ٹی آئی کے لیڈر اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن کے لیے افغانستان میں امن بھی ہونا چاہئے۔ ایک ملک میں امن دوسرے کے سکون سے جڑا ہؤا ہے۔ اس بیان کی کوئی عملی وضاحت تو سامنے نہیں آسکی لیکن تھیوری کی حد تک کہا جاسکتا ہے کہ کسی خطے میں امن کے لیے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان مناسب تعاون ہونا چاہئے اور دہشت گرد عناصر کے بارے میں یکساں سخت پالیسی اختیار کی جائے۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ افغانستان کے معاملے میں اس اصول کو لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ کابل حکومت کے ساتھ پاکستان نے کئی سال سے مکالمہ کیا اور ان پر واضح کرنے کی کوشش کی کہ دوحہ معاہدہ کے تحت افغان حکومت اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک پر دہشت گرد حملے کرنے سے استعمال نہ ہونے دے۔ لیکن زبانی دعوؤں کے باوجود کابل حکومت اس بنیادی اصول پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
اسد قیصر ایک ایسے وقت میں کابل کے ساتھ تنازعہ ختم کرکے دوستانہ سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کی بات کررہے ہیں جب ملک میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے متعدد واقعات ہوئے ہیں جن میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد کچہری کے باہر خود کش حملہ کرنے والے دہشت گرد کے بارے میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ وہ افغان شہری تھا۔ اس حملہ میں 12 شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب سری لنکا کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ہے ۔ البتہ اس حملہ کے بعد سری لنکا کے متعدد کھلاڑی کھیلنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ اسد قیصر کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے حملے ملک کی خود مختاری کے خلاف ہیں اور ہر بار ان کے ڈانڈے ہمسایہ ملک سے جاکر ملتے ہیں۔ اسی لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے ایسے عناصر شامل تھے جو افغانستان میں تربیت پاتے ہیں۔
اسلام آباد حملے کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان کی تحصیل درابن میں کل ایک بم حملے میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا گیاجس میں کم از کم 14 اہلکار زخمی ہوئے۔پیر کے روز جنوبی وزیرستان کے وانا میں کیڈٹ کالج پر حملہ کیا گیا۔ بعد میں تمام طلبہ اور اساتذہ کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا اور عمارت میں موجود تمام دہشت گرد مارے گئے۔ تاہم کلیئرنس آپریشن کے دوران تین افراد شہید ہوئے۔ اس صورت حال میں شروع ہونے والے امن جرگہ سے پہلے تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما افغانستان کے لیے نرم گوشہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ کابل سے مسلسل پاکستان کے خلاف زہر افشانی کی جارہی ہے۔ آج ہی وہاں سے افغان تاجروں کو پاکستان کے ساتھ تجارت بند کرکے متبادل تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس ماحول میں پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیوں کو کسی ہمسایہ ملک کا وکیل بننے کی بجائے ، سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ پاکستان میں دہشت گردی سے ہونے والی خوں ریزی کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔
اسد قیصر کہتے ہیں کہ ’ہمارے لیے سیاست سے زیادہ اہم امن ہے۔ امن جرگے میں پورے صوبے کے سیاسی رہنما ایک جگہ جمع ہوئے ہیں۔ ہم اس جرگے کے ذریعے ایک قومی پالیسی تشکیل دیں گے۔ ہماری جماعت انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے مطالبات مرکز کے سامنے پیش کرے گی‘۔ دہشت گردی کے خلاف اتحاد کی بات کرنے کے بعد اسد قیصر نے پی ٹی آئی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’پاک افغان تناؤ کو سفارتی ذرائع سے حل کیا ہونا چاہیے۔ جب افغانستان میں امن ہوگا، تب ہی پاکستان میں بھی امن ہوگا۔ خیبر پختونخوا حکومت اپنے مطالبات افغان حکمران انتظامیہ کے سامنے بھی رکھے گی‘۔ اسد قیصر اور تحریک انصاف کے دیگر لیڈروں کو ضرور سوچنا چاہئے کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ سرحدی جھڑپوں کے بعد ترکیہ و د قطر کی ثالثی میں افغان حکومت کے نمائیندوں سے مذاکرات کے کئی دور منعقد کیے ہیں۔ ان مذاکرات میں پاکستان نے صرف ایک ہی مطالبہ پیش کیا تھا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے لیڈر افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ بلکہ گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ ان حملوں میں افغان شہریوں کی تعداد زیادہ ہوچکی ہے۔ گویا ٹی ٹی پی کے لیڈر اب افغان شہریوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے آمادہ کررہے ہیں۔ یہ سارا کام کابل حکومت کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کے باوجود اگر سفارت کاری کی بات کرنا اور پاکستانی حکومت کو ہی امن کو موقع دینے کا مشورہ دینا ، ناقابل فہم حکمت عملی کے مترادف ہے۔
اکتوبر کے دوران اور اس ماہ کے شروع میں دوحہ اور استنبول میں ہونے والی بات چیت جنگ روکنے اور تنازعہ کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی سفارتی کوشش تھی۔ ان کوششوں میں ترکیہ اور قطر کے ثالث بھی شامل تھے اور وہ بھی پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے افغان نمائیندوں کو اس بارے میں کوئی تحریری معاہدہ کرنے کا مشورہ دیتے رہے۔ لیکن افغان حکومت نے معاہدہ کرنے یار باہمی تعلقات بہتر بنانے کے لیے کسی خیر سگالی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ’بدامنی‘ (یعنی دہشت گرد حملے) پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ افغان حکومت کے پاس کون سا پاکستان میں کوئی فورس موجود ہے جو وہ اس مسئلہ کو حل کرے‘۔ اس شرمناک بیان کی وجہ تسمیہ صرف نئی دہلی کی طرف سے طالبان حکومت کی حوصلہ افزائی ہے۔ کابل کے لیڈروں کولگتا ہے کہ وہ اب بھارتی امداد اور وسائل سے پاکستان کو مصروف جنگ رکھ سکتے ہیں۔ ایسی عسکری حکمت عملی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو فائدہ پہنچانے اور افغانستان سے پاکستا ن میں ہونے والی دہشت گردی سے صاف انکار کرنے کے مترادف ہے۔ اس پس منظر میں اسد قیصر کون سا منصوبہ لے کر افغان حکمرانوں سے رابطہ کریں گے۔ کیا ان کا بیان پاکستان کے خلاف جنگ پر آمادہ ایک ملک کی بالواسطہ حمایت کے مترادف نہیں ہے؟
تحریک انصاف نے دہشت گردی اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اپنی پالیسی واضح کی ہوئی ہے۔ وہ افغان مہاجرین کی واپسی کے بھی خلاف ہے اور بالواسطہ طور سے یہ اشارے بھی دیے جاتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کیے جائیں۔ گویا دہشتگردوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ مطالبات مان کر اور کچھ رعایات دے کر وقتی امن کی بھیک مانگ لی جائے۔ حالانکہ دنیا کے تمام ممالک اس اصول پر متفق ہیں کہ کسی ایسے گروہ کے ساتھ بات چیت نہیں ہوسکتی جو ہتھیار اٹھا کر دہشت گرد ہتھکنڈوں سے کسی ریاست کے خلاف برسر پیکار ہو۔ ٹی ٹی پی ایسا ہی گروہ ہے۔
بدقسمتی سے ماضی میں پاکستانی حکومتوں نے اس گروہ کو مین اسٹریم کا حصہ بنانے کے لیے مذاکرات کیے اور رعایات بھی دیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ یہ کہنا ناروا سیاسی مؤقف ہوگا کہ کس حکومت کے دور میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت ہوئی یا اسے مراعات دی گئیں۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ یہ پالیسی کامیاب نہیں ہوئی اور اب یہ گروہ پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے خون بہانے کا سبب بنا ہؤا ہے۔ حکومت پاکستان نے اگر عالمی طور سے متفقہ اصول کے مطابق اس گروہ کے ساتھ بات چیت کی بجائے اب جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو اسے بند کمروں میں کیے گئے فیصلے قرار دے کر مسترد نہ کیا جائے۔ بلکہ امن جرگہ میں ریاست کی اس پالیسی کے لیے وسیع تر سیاسی تائید حاصل کی جائے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو کسی گروہ، پارٹی یا طبقے کی جانب سے سیاسی سہولت نہ دی جاسکے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگے کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش امن کیلئے ہے۔ دہشتگردی کے ناسور کے خلاف آج کے جرگے میں پائیدار حل نکلے گا۔ امن تب قائم ہوگا جب دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا۔ سیاست ہر ایک کی اپنی اپنی ہے لیکن امن ہمارا مشترکہ ہے۔ جب بم پھٹتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ مرنے والا پی ٹی آئی کا ہے یا پیپلز پارٹی کا۔ یہاں بیٹھے ہر فرد نے قربانی دی ہے، دہشت گردی کےخلاف عوام، سیاستدان اور سکیورٹی فورسز سب نے قربانیاں دی ہیں‘۔ وزیر اعلیٰ کے یہ خیالات قابل قدر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں اور وفاقی حکومت کے نمائیندنے بھی اس جرگے میں شریک ہیں۔ البتہ سہیل آفریدی یا پی ٹی آئی نے خیبر پختون خوا میں امن کے نام پر دہشت گردوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دینا بند نہ کیا تو یہ امن جرگہ اپنا حتمی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔
پاکستان میں پائی جانے والی سیاسی تقسیم کی وجہ سے کابل حکومت غلط اندازے قائم کرتی ہے اور یہ قیاس کرنے کی غلطی کررہی ہے کہ پاکستان میں سیاسی تقسیم کی وجہ سے وہ ٹی ٹی پی کے بارے میں اپنی پالیسی جاری رکھ سکتی ہے۔ تحریک انصاف کو امن جرگے کے ذریعے کابل کے طالبان حکمرانوں کے اس تصور کو تبدیل کرنا چاہئے۔ یہی خیبر پختون خوا اور ملک میں امن کے لیے قابل قبول اور مستحسن حکمت عملی ہوگی۔