تا حیات حسیِن و جمیِل
- تحریر حماد غزنوی
- جمعرات 13 / نومبر / 2025
ہماری اپنی لائبریری تھی، ابو جی کی اپنی، انہیں ہماری "داستانِ امیر حمزہ" اور "عمران سیریز" میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ اور ہمیں ان کے "مکتوباتِ سرہندی" اور "حجتہ اللہ الباغہ" سے کو ئی سروکار نہ تھا۔
یہ قاعدہ اس وقت ٹوٹا جب ہم نویں دسویں جماعت میں پہنچے اور ہمیں ابو جی کی کتابوں بارے تجسس ہونے لگا۔ گھر میں سینکڑوں کتابیں تھیں اور قریباً سب تک رسائی ممکن تھی۔ لیکن ہماری اولین دل چسپی کتابوں کی اس الماری میں پیدا ہوئی جو مقفل رہا کرتی تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ اس الماری میں "متروک" کتب ہیں جو ابو جی نے جوانی میں پڑھیں تھیں۔ ہمارا تجسس اور بڑھا۔ جب وہ الماری کھلی تو اس میں "سلمیٰ سے دل لگا کر بستی کی لڑکیوں میں بدنام" ہونے والے شاعر اختر شیرانی کے کچھ مجمموعے تھے، رباعیاتِ عمرِ خیام تھیں، منٹو تھا اور اسی نوع کا کچھ اور ادب۔ اس الماری سے ہمیں وہ کتاب بھی ملی جس کی خاطر یہ تمہید باندھی گئی ہے۔ کتاب تھی آسکر وائلڈ کی دی پکچر آف ڈورین گرے۔
غالباً یہ انگریزی ادب کا پہلا پہلا زائقہ تھا جو ہم نے چکھا۔ اس کہانی میں بین السطور کیا چل رہا ہے، یہ تو بہت بعد میں اندازہ ہوا۔ اس وقت یہ ایک پراسرار سی کہانی لگی تھی۔ یہ ایک انتہائی جاذب و جمیل نوجوان ڈورین گرے کی داستان ہے۔ ایک پینٹر ڈورین کی دل کش پورٹریٹ بناتا ہے۔ انہی دنوں ڈورین ایک صاحبِ علم شخص سے ملتا ہے اور اس کے فلسفے (فوقیتِ حُسن و لذت بر اخلاقیات) سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی کیفیت میں ڈورین شدت سے خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ ہمیشہ جوان و رعنا رہے اور وقت کا پہیہ اس کی پورٹریٹ پر سے گزر جائے۔ ایک پُراسرار انداز میں اس کی یہ دعا پوری ہو جاتی ہے۔
سال ہا سال گزرتے جاتے ہیں، ڈورین ظلم، بدی، گناہ و لذت کی زندگی گزارتا چلا جاتا ہے، مگر یہ بے دریغ زندگی اس کے جسم پر کوئی نشانی نہیں چھوڑتی۔ اس کی جوانی جیسے وقت کی سِل میں جم گئی تھی۔ مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اُس کی پورٹریٹ وقت کے ساتھ بوڑھی، بد شکل اور مکروہ ہوتی جاتی ہے۔ ڈورین کی بداعمالیاں تصویر کے چہرے پر آ جاتی ہیں۔ پہلے تو ڈورین خوش رہا مگر آخرِ کار خوف اور ملال میں ڈوب گیا۔ ایک دن وہ اپنی مکروہ روح کا ثبوت مٹانے کے لیے اپنے پورٹریٹ پر خنجر سے حملہ کر دیتا ہے۔ کچھ دیر بعد جب ڈورین کے ملازمین کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ ڈورین کی زخم زخم لاش زمین پر پڑٰی ہے، لاش کا چہرہ بہت بوڑھا اور مکروہ نظر آ رہا ہے، جب کہ ڈورین کی پورٹریٹ واپس اپنی اصل حالت میں آ چکی ہے، جس میں جوان اور دل کش ڈورین مسکرا رہا ہے۔
وقت گزرا تو یہ کہانی ہم پر کھلی۔ فنا کا خوف ہے، حُسن، جوانی، طاقت جانے کا خوف ہے، موت کا خوف ہے۔ فلسفوں میں، عقیدوں میں، نظریات میں یہی خوف ہے، احرامِ فراعنہ مصر سے آج کل انسٹاگرام پوسٹوں تک یہی خوف ہے۔ ڈورین گرے کو بھی یہی خوف تھا۔ تجمل کلیمؔ کہتے ہیں "مرن توں ڈردے او بادشاہو۔۔۔ کمال کردے او بادشاہو۔" اور احمد مشتاقؔ فرماتے ہیں "دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن۔۔۔ عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے۔" تا حیات حسین نہیں رہا جا سکتا، تاحیات طاقت ور نہیں رہا جا سکتا، تاحیات سرکاری اور عوامی عہدوں پر براجمان نہیں رہا جا سکتا، وقت کا پہیہ پنکچر نہیں کیا جا سکتا، یہ پہیہ چلتا رہتا ہے۔ سادہ سی بات ہے لیکن اولادِ آدم کو سمجھ مشکل سے آتی ہے۔ ملکی سیاسی تاریخ کی ہر بڑی اتھل پتھل کے عقب میں "توسیع" اور بقا اور تاحیات طاقت ور رہنے کی خواہش لہراتی دکھائی دیتی ہے۔
ہم بہت عرصے سے محفلوں میں سنتے ہیں کہ یہ کیا منافقت ہے، آئین میں طاقت کا منبع کچھ لکھا ہے، حقیقت میں کچھ ہے۔ آئین میں ملک کے طاقت ور عہدوں کی فہرست کچھ ہے، حقیقت میں کچھ اور ہے۔ کم از کم ہمیں خود سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، یہ منافقت ترک کرنی چاہیے اور ملک میں طاقت کی حقیقی تقسیم کو آئین میں درج کرنا چاہیے۔ جیسے کبھی ترکی کے آئین میں درج تھا۔ اور اب جب کہ آئینی ترامیم ہماری منافقت کو رفع کر رہی ہیں، ہم اس پر بھی معترض ہیں۔
عملی طور پر 27ویں ترمیم پہلے سے لاگو ہے۔ بہ جائے کسی "ضدی" جج کو شوکت صدیقی کی طرح ٹیڑھے طریقے سے نکالا جائے، بہتر نہیں کہ "آئینی" طریقے سے نکالیں؟ پچیس سال سے بری فوج کا سربراہ ہی تینوں فورسز کا سربراہ ہوتا ہے، 27ویں ترمیم تو صرف کان کو سیدھے طریقے سے پکڑ رہی ہے۔ تاحیات استثنا تو ہر آئین شکن کو حاصل رہا ہے، ایک بے چارہ پرویز مشرف ہی ایک دیوانے نواز شریف کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں تو تاحیات استثنا کی شدید ضرورت صرف وزیرِاعظم کو ہی ہے۔ اگر یہ استثنا ہمارے آئین کا حصہ رہا ہوتا تو پاکستان کی تاریخ یک سر مختلف ہوتی (یاد رہے کہ ایک سابق وزیرِ اعظم اس وقت بھی جیل میں ہے) مگر 27ویں ترمیم میں وزیرِ اعظم کو یہ استثنا نہیں مل رہا۔ یعنی یہاں بھی سابقہ صورتِ حال ہی برقرار رہے گی۔ 27ویں ترمیم ردِ منافقت کا وظیفہ ہے۔
تا حیات استثنا عملی چیز ہے، بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے۔ چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس صاحبان کو بھی یہ استثنا ملنا چاہیے۔ یا کم از کم ان اصحاب کو جو پولیس مقابلوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس سے عملی نظام اور آئین میں فاصلہ مزید کم کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال، یہ داد تو دینا پڑے گی کہ ہائی برڈ سرکار چھپ کر کچھ نہیں کر رہی، دن دیہاڑے کر رہی ہے۔ سب کے سامنے۔ اور آسکر وائلڈ نے کہا تھا:
“A good friend will always stab you in the front.”
(بشکریہ: ہم سب لاہور)