من و سلوی سے خیر کے سفر تک

ترقی یافتہ ممالک میں فلاحی سرگرمیوں کے فروغ میں مخیر حضرات، صنعت کار اور سماجی شخصیات اور تنظیموں کی دلچسپی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی خدمات کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ہم ہر کام سپرد حکومت کر کے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔

خوش قسمتی سے ملتان کے کمشنر عامر کریم خان بھی ملتان ڈویژن میں انہی خدمات کی فراہمی کے لئے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کو فاہدہ ہہنچانےکے کئی منصوبوں پر کام کر رہےہیں۔ حال ہی میں مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کو معیاری اور مفت کھانے کی فراہمی کے لئے انہوں نے من و سلویٰ منصوبہ شروع کرایا ہے۔ گلگشت ملتان کے قدیم اور معروف گول باغ میں من و سلوی منصوبے کے افتتاح میں ان کی خصوصی دعوت پر شرکت کا موقع ملا تو یہ سن اور دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا کہ غریبوں کی دعائیں لینے کا یہ تیسرا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا ہے، جن سے ہزاروں مستحقین دو وقت کی معیاری کھانے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

ان نیک کاموں کے لئے عامر کریم صاحب صنعت کاروں تاجروں صحافیوں اور اہل قلم کا بھی پورا تعاون حاصل کئے ہوئے ہیں کہ ان کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام پا رہا ہے۔ ان کی جادوئی اور کرشماتی شخصیت کی وجہ سے کوئی بھی انہیں انکار نہیں کر سکتا۔ گول باغ میں من وسلوی کی افتتاحی تقریب میں انہوں نے برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ ان پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ وہ جس سے بھی کسی فلاحی منصوبے کے لئے فنڈز یا سہولتوں کا کہتے ہیں انہیں اس کا اسی وقت مثبت رسپانس ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملتان میں حکومت کے فنڈز کے بغیر بہت سے فلاحی منصوبوں کا آ غاز ہو چکا ہے، جہاں سے کمیونٹی سروس کی فراہمی جاری وساری ہے۔ اس سے قبل من و سلوی کا پہلا منصوبہ واپڈا ٹاؤن اور دوسرا انڈسٹریل اسٹیٹ ملتان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔

کمشنر ملتان کا کہنا ہے کہ مخیر حضرات اور ریسٹورنٹ مالکان کو ان فلاحی منصوبوں میں دل کھول کر اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ من و سلوی میں تازہ اور معیاری کھانے کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔ اسلام میں بھی دستر خان کو کشادہ کرنے اور غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ملتان کے ہوٹل مالکان کمشنر ملتان عامر کریم خان صاحب کے اس مستحسن اقدام کی پزیرائی کرتے ہوئے بچ جانے والے کھانے بھی ان پوائنٹس پر پہنچانے کا انتظام کریں۔

کمشنر ملتان جناب عامر کریم خاں نے گول باغ میں “من و سلویٰ” پوائنٹ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ مخیر حضرات کے تعاون سے ضرورت مند افراد کو مفت کھانا فراہم کرنے کا یہ سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گول باغ میں نصب فریزر میں کھانا محفوظ کرنے اور باعزت طریقے سے تقسیم کرنے کا جامع نظام موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ من و سلویٰ کا پہلا پوائنٹ واپڈا کالونی میں جبکہ دوسرا انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم کیا گیا تھا۔ دونوں مقامات پر اس فلاحی اقدام کو شاندار پذیرائی ملی اور روزانہ سینکڑوں مزدور اور دیہاڑی دار افراد یہاں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گول باغ پوائنٹ کے قیام میں مخیر حضرات نے جس طرح تعاون کیا ہے، وہ کمیونٹی پارٹنرشپ کی بہترین مثال ہے۔ اور اسی وجہ سے یہ منصوبہ تیزی سے کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے میں معروف صنعت کار حسین فضل کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مزید لوگ بھی آ ئندہ کے ان منصوبوں میں شریک ہوں گے۔

کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے ضرورت مند افراد کو ان کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہی اس ماڈل کی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “من و سلویٰ” منصوبہ نہ صرف بھوک مٹانے میں مدد دے رہا ہے بلکہ کھانا ضائع ہونے سے روکنے اور معاشرے میں جرائم کی روک تھام میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بزنس کمیونٹی کے تعاون سے من و سلویٰ کے مزید پوائنٹس جلد شہر کے مختلف علاقوں میں قائم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری اس منصوبے کے تحت تازہ یا بچا ہوا صاف ستھرا کھانا فریزر میں فراہم کر کے ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ ملتان میں فلاحی سرگرمیوں کے فروغ اور کمیونٹی سروس کے حوالے سے ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ پی ایچ اے اور رمادہ کا اس سلسلے میں تعاون بھی لائق تحسین ہے۔

اس موقع پر کمشنر ملتان عامر کریم خان، صنعت کار حسین فضل، کالم نگار پروفیسر نسیم شاہد، راقم اظہر سلیم مجوکہ، سی او ایجوکیشن صفدر واہگہ، صحافی جمشید رضوانی اور افتتخار الحسن سے مستحقین کو من وسلوی تقسیم کرایا گیا۔ کمشنر ملتان نے یہ نوید بھی سنائی ہے کہ اب جنرل بس اسٹینڈ ملتان پر جو خیر کا سفر شروع کیا جارہا ہے، اس میں غریب اور مستحق افراد میں سردیوں کے گرم کپڑے بھی مفت تقسیم کئے جائیں گے۔ گویا کمشنر ملتان عامر کریم خان کسی درد مند کے کام آکر کسی ڈوبتے کو اچھال دے کے مقولے پر عمل پیرا ہیں۔ سو اس کار خیر میں اہل ملتان کو بھی ان کا بھرپور ساتھ دے کر اپنے انسان دوست اور فرض شناس شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔