سیاسی قربانی یا آمریت مسلط کرنے کی سازش؟

27 ویں ترمیم کے تقاضے پورے کرنے کے لیے آج حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے آرمی، ایئرفورس، نیوی  ایکٹس اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل منظور کرالیے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم سے فیلڈ مارشل عاصم منیر  کی  چیف آف ڈیفنس فورسز کےنئے عہدے پر تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے دن سے ان کی   پانچ سالہ مدت ملازمت کا آغاز ہوگا۔ یوں  عاصم منیر  آئینی و قانونی ترامیم کے  سبب  8 سال تک اس عہدے پر فائز رہنے والے  چیف بن جائیں گے۔

اس سے پہلے بھی  فوج کے متعدد سربراہان   ایک ایک  دہائی کے لگ بھگ ان عہدوں  پر متمکن رہے ہیں لیکن یہ  مقصد انہوں نے   خود ہی  اپنے آپ کو مسلسل توسیع دیتے ہوئے حاصل کیا تھا۔ ایسے تینوں جرنیلوں میں  ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف شامل ہیں۔  تاہم اب انہیں غاصب اور قانون  و آئین کا غدار سمجھا جاتا ہے۔ عدالتوں نے شدید دباؤ میں جنرل ضیا اور جنرل پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کرنے کا وہ اختیار بھی عطا کیا تھا جو خود ملک کی سپریم کورٹ کو بھی حاصل نہیں ہے۔ تاہم فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ملنے والی توسیع میں نہ عدالت کا کردار ہے اور نہ ہی فوج نے کوئی  اشارہ کیا ہے۔ یہ ایک کمزور اور  سیاسی طور سے کم فہم وزیر اعظم کے خوف اور کمزوری کی وجہ سے ممکن ہوپایا ہے۔

 بدقسمتی سے   ماضی میں  آمروں کو آئینی دست درازی کا حق دینے  والے سارے جج سرخرو ٹھہرے ۔  ملکی آئین کو بازیچہ اطفال بنانے  پر انہیں کبھی کسی احتساب کا سامنا کرنا پڑا  اور نہ ہی کسی عدالتی ریفرنس میں عدلیہ   کو تماشہ بنانے پر ان ’معزز ججوں‘ کے نام  قوم کے مجرموں کی فہرست میں شامل کیے گئے۔ حتی کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو  کو ناجائز طور سے  سزائے موت دینے والے ججوں کے حوالے سے بھی  عدالتی تاریخ درست کرنے کی کوئی باقاعدہ  کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔  حالانکہ ایک دہائی سے زیادہ مدت کے بعد سپریم کورٹ  نے  صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھٹو کو  ’فئیر ٹرائل‘ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ گویا ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے اس ناانصافی کی تلافی کرنا اپنی قانونی یا اخلاقی ذمہ داری نہیں سمجھا ۔ حالانکہ حالیہ 27 ویں آئینی ترمیم منظور ہونے تک چیف جسٹس پاکستان کو آئینی شق 184 کے تحت  کسی معاملہ کا ازخود نوٹس لینے اوراس پر سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز کرنے کا اختیار حاصل رہاہے۔ یہ اختیار اس حد تک حتمی  تھا کہ اس شق کے تحت قائم کیے  گئے کسی مقدمے میں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے  یا عدالتی نظر ثانی کا حق تک موجود نہیں تھا۔

ملکی آئین کو  کھلونا سمجھ کر  اس سے کھیلنے والے  بعض جج  شاید اب بھی  پنشن و دیگر سرکاری مراعات سے مستفید ہورہے ہوں گے۔ یا  آخری سانس تک ان سہولتوں سے مستفیض رہے۔ یہی وجہ ہے کہ  ستائیسویں ترمیم  کو آئین سے کھلواڑ  اور اسے تایخ کا سیاہ باب قرار دینے والے  ’سابقہ ججوں‘ یا وکلا  کے قانونی  و  اخلاقی معیار  کے بارے میں شبہ پیدا ہونا فطری ہے۔ اس وقت  آئین کی روح کے برعکس ترمیم کرنے پر حکومت یا پارلیمنٹ کی مذمت کرنے والے عناصر  کا  مؤقف صریحاً ناقابل فہم  ہے ۔ جب عدالتوں نے غیر آئینی طریقوں سے فوجی آمروں کو ’بااختیار‘ کیا تھا، کسی نے ان کے بارے میں   نکتہ چینی کرنا درست نہیں سمجھا  ۔ لیکن  اب آئین میں درج طریقہ  کے مطابق پارلیمنٹ کی دو تہائی  اکثریت کے ساتھ  منظور کی گئی ترمیم کے بارے میں  ہر  قسم کا الزام سننے میں آرہا ہے۔

یہاں تک حقیقت حال کی نشاندہی کرنے کے بعد یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آخر کیا وجہ  ہےکہ موجودہ حکومت  کی طرف سے آئین میں ترمیم کے اقدام کو اس قدر سخت مخالفت کا سامنا ہے ؟ یا یہ کہ اس کا کیا سبب ہے کہ حکومت کو اس وقت آئین میں  ترمیم کرانے کی ضرورت   محسوس ہوئی۔ اس کے علاوہ ماضی کی روایت کے برعکس شہباز شریف کی حکومت نے 26 ویں ترمیم کی طرح 27 ویں ترمیم کو بھی متفقہ طور سے منظور کرانے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ کسی بھی طریقہ سے  دوتہائی اکثریت یقینی بنا کر اسے پارلیمنٹ کا استحقاق ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے  سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ حکومت گزشتہ سال فروری میں منعقد ہونے والے ایک متنازعہ انتخاب کے نتیجہ  میں قائم ہوئی تھی۔ ان انتخابات میں دھاندلی کے سنگین الزامات ہیں۔  اس کا سیاہ ترین پہلو بہر حال یہ تھا کہ   ملک کی اہم ترین سیاسی پارٹی کو ایک عدالتی فیصلے کے نتیجہ میں انتخابی نشان سے محروم کیا گیا اور اس کے  لیڈر وں کومشکوک مقدمات میں سزائیں دلا کر نہ صرف یہ کہ قید رکھا گیا ہے بلکہ  انہیں انتخاب میں حصہ لینے کے حق سے بھی محروم کیا گیا۔  پاکستان میں انتخابی دھاندلی کے الزامات چونکہ ہر دور میں عائد ہوئے ہیں اور شاید آنے والی کئی دہائیوں میں بھی ویسے شفاف انتخابات پاکستان کی حد تک محض خواب ہی رہیں جو مسلمہ مغربی جمہوری ممالک کا وتیرہ ہے۔ اس کے باوجود دھاندلی کے الزامات پر اس کی تحقیقات کرانا یا اپوزیشن کی اشک شوئی کے لیے سیاسی اقدامات کرنا  ضروری سمجھا جاتا رہا ہے۔ البتہ  شہباز شریف حکومت نے ایسے کسی  تکلف کی ضرورت  محسوس نہیں کی ۔ اس کی بجائے یہ اصرار  کیاجارہا ہے کہ انہوں نے معیشت کے لیے اپنی سیاست قربان کی ہے۔ یہ دعویٰ ناقابل فہم ہے۔ اگر شہباز  ونوازشریف نے معیشت کے لیے سیاست قربان کی تھی تو وہ 2022 سے مسلسل اقتدار پر کیسے براجمان ہیں؟  کیا حکومتی ذمہ داری قبول کرنے کو انعام کی بجائے  ’قربانی‘ کہا جارہا ہے؟

مسلم لیگ (ن) کی انہی مشکوک سیاسی چالوں  کی وجہ سے  موجودہ حکومت  کے حق نمائیندگی کے علاوہ ان کی نیتوں کے بارے میں بھی سوال پیدا ہوتا ہے۔  یہ بدنیتی خاص طور سے اس وقت نمایاں ہوئی جب حکومت نے مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کے عدالتی  حکم  پر عمل درآمد کرانے میں کوئی  سرگرمی نہیں  دکھائی۔ تاہم 26 ویں آئینی ترمیم میں سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کے بعد سال رواں کے دوران نظر ثانی کی اپیلوں میں سامنے آنے والے فیصلہ کے بعد خوشی خوشی پی ٹی آئی کے حصے کی مخصوص  نشستوں کی بند ربانٹ کرلی  گئی۔  اس سیاسی رویہ  کی وجہ سے موجودہ حکومت کی اتھارٹی پر نئے سوالات کھڑے  ہوئے۔ اس قیاس کو مسترد کرنے کی کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں ہے کہ مخصوص سیٹوں پر قبضہ کے ذریعے ایک غیر نمائیندہ حکومت نے  درحقیقت ملکی آئین کو اپنے سہولت کاروں کے لیے دوستانہ بنانے  کا تہیہ کیا ہؤا تھا۔ 27ویں آئینی ترمیم اسی  سیاسی سازش کا عملی  نمونہ ہے جو شاید  گزشتہ سال منعقد ہونے والے مشکوک انتخابات کے بعد سے  ہی تیا رکی جارہی تھی۔

یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ فوج یا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا   حالیہ آئینی ترمیم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے یقینی اور شبہات میں کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ سیاسی حکومت کا فیصلہ ہے جسے اس  نے اپنے سیاسی حلیفوں کے ساتھ مل کر پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔  البتہ  آج قومی اسمبلی و سینیٹ میں آرمی ایکٹ میں منظور کرائی گئی ترمیم کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ 27 ویں ترمیم کا اصل ہدف عاصم منیر کو تادیر مسلح افواج کا سربراہ  بنائے رکھنا تھا۔ بنیادی طور پر اس ترمیم کا مقصد این ایف سی میں صوبوں کو ملنے والے حصے پر قدغن عائد کرنا تھا ۔ البتہ پیپلز پارٹی کی شدید مخالفت کے بعد اس حصے کو ترمیم کے مسودے سے نکال دیا گیا۔ حالانکہ اگر وفاقی حکومت کے مالی معاملات اور صوبائی حکومتوں  کی طرف سے وسائل کی ناہموار تقسیم  کے سوال پر سیاسی اتفاق رائے  پیدا نہیں ہوسکا  تھاتو مسلح افواج کے ڈھانچے  اور عدالتی نظام میں مشکوک تبدیلیاں لانے کا بھی کوئی مقصد نہیں ہونا چاہئے تھا۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ شہباز  حکومت درحقیقت فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتی تھی اور ان کے عہدے کی مدت میں  طوالت  اس سلسلہ  میں بنیادی ہدف تھا۔ اب آرمی ایکٹ کے ذریعے انہیں اضافی پانچ سال عطا کرکے یہ مقصد حاصل کیا گیا ہے۔

جب بھی پاکستان کی حالیہ   تاریخ کا  غیر جانبدارانہ و منصفانہ جائزہ لیا جائے گا تو  یہ واضح ہوگا کہ ملک کے سیاسی لیڈر   عوامی شعور یا سیاسی کلچر عام کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے کیوں کہ یہ  کبھی کسی سیاسی پارٹی کا مقصد نہیں رہا۔ اس کے برعکس ہر زمانے میں  پاک فوج  کو ’ایک ہی پیج‘  یعنی  اپنے پیج پر لانے  کی کوششیں  کی جاتی رہی ہیں۔  ملکی سیاست دانوں میں اگر باضمیر اور  مستقبل پر نگاہ رکھنے والے لیڈر شامل ہوتے تو فوج کے سیاسی اختیار اور ایک کمانڈر کے دورانیہ میں توسیع کے ذریعے  ’مسائل‘ حل کرنے کا خواب دیکھنے کی بجائے، اصولوں اور روایات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی۔

عاصم  منیر کسی آئینی بے اعتدالی کا معمولی سا ارتکاب کیے بغیر اب 8 سال تک مسلح افواج کے کمانڈر اور سیاسی معاملات کے  ’رہبر و رہنما‘ رہیں گے۔   یہ تحفہ انہیں ایک ایسے وزیر اعظم کی حکومت  نے عطا کیا  ہے جو  ان کی انگلی  پکڑے بغیر کسی غیر ملکی دورے پر روانہ نہیں ہوتا۔ شہبازشریف کو جاننا چاہئے کہ  انہوں نے معیشت کے لیے سیاست  قربان نہیں کی بلکہ ملک میں  جمہوریت کی  ہر امید کو دفن کرنے کا کلنک اپنے ماتھے پر آویزاں کیا ہے۔