آئین پاکستان یا آئین شخصیات؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 18 / نومبر / 2025
پاکستان اس لحاظ سے بدبخت ملک ہے جو قیام سے 26 برس تک متفقہ آئین سے محروم رہا اسی لیے ملک دو لخت بھی ہوا، 1956 اور 1962 میں شخصی آئین ترتیب دئیے گئے جو وقتی آمروں کو تحفظ دینے یا ان کے اقتدار کو طوالت دینے کی غرض سے بنائے گئے۔
پھر 73 میں جب متفقہ آئین پاس ہو گیا تو اس کے بعد بھی بعض شخصیات خود کو آئین سے بالا سمجھتی رہیں اور یکے بعد دیگرے جو ترامیم ہوتی رہیں۔ وہ بھی شخصیات کو مضبوط کرنے یا فائدہ پہنچانے کی آئینہ دار تھیں۔ سب سے زیادہ متنازعہ آئین کی آٹھویں ترمیم تھی جسے 1985 میں اس وقت کے آمر حکمران ضیا الحق کو تحفظ اور طاقت دینے کے لیے پاس کروایا گیا تھا۔ اسی ترمیم کے اندر کچھ ایسی مذہبی شقیں بھی شامل کی گئیں جن کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آٹھویں ترمیم میں سب سے متنازعہ شق آمر اور خود ساختہ صدر کو قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار دینا تھا، جس کو بعد میں آنے والے تمام صدور سے استعمال کروایا گیا۔
البتہ صدر زرداری نے اس ترمیم میں مزید ترامیم کر کے وزرائے اعظم اور پارلیمنٹ پر لٹکتی تلوار کو توڑا تھا۔ ضیا کے بعد پرویز مشرف نے بغیر پارلیمنٹ کے خود ہی آئین میں ترامیم کر لیں کیونکہ انہیں سپریم کورٹ نے یہ اختیار دے دیا تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت 2008 تا 2013 کے دوران پہلی بار آئین میں اٹھارویں ترمیم کے نام سے ایک ایسی ترمیم کی گئی جس کا تعلق پاکستان اور صوبوں سے تھا اور اس سے صوبائی خود مختاری کی طرف ایک قدم بڑھایا گیا۔ اس کے علاوہ جتنی ترامیم ہوئیں وہ شخصیات کے لیے ہوتی رہیں۔
ابھی حال ہی میں ہونے والی 26ویں اور 27ویں ترمیم پر بھی بہت زیادہ تنقید کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ 26ویں ترمیم عدلیہ کو حکومتی قابو میں رکھنے اور اب 27ویں ترمیم کچھ شخصیات کو فائدہ پہنچانے اور عدلیہ کو مزید کمزور اور تقسیم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ ان ترامیم کی حمایت میں دلائل دینے والے اپنی عدلیہ کے سابقہ کردار اور ججوں کی دھونس کا حوالہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان ترامیم کے ذریعے سے پارلیمنٹ مضبوط ہوگی۔ جبکہ ان ترامیم کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ ان ترامیم سے جمہوریت جو پہلے ہی ہائبرڈ بیٹری سے چلائی جا رہی تھی مزید کمزور ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ستائیسویں ترمیم موجودہ فوجی قیادت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہے اور اس ترمیم کو پاس کروانے والوں نے اپنے مقصد کی کچھ باتیں بھی شامل کرکے بہتی گنگا میں سب نے ہاتھ دھو لیے ہیں۔
ہم قطع نظر اس بحث کے کہ کس کی کیا نیت ہے اور اس ترمیم سے کس کو فائدہ پہنچے گا اور نقصان کس کا ہوگا، یہ سمجھتے ہیں کہ پے در پے ترامیم نے 1973 کے متفقہ آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ آئین ایک زندہ جاوید دستاویزات کا نام ہے اور اس میں ترامیم کی ضرورت ہو سکتی ہے مگر یہ صرف اور صرف ملک اور عوام کے لیے ہونی چاہئیں، نہ کہ کسی شخصیت کی مدت عہدہ بڑھانے، کسی کو مزید اختیارات دینے یا کسی کے جرائم پر پردہ ڈالنے اور استثنا دینے کے لیے کی جائیں۔ کبھی کسی پارلیمنٹ نے یہ بھی سوچا یا بحث کی ہے کہ عوام کو کن کن پریشانیوں کا سامنا ہے؟ اس ملک میں کتنے بچے بغیر تعلیم اور ہنر کے ہیں؟ بیروزگاری کی شرح کیا ہے اور آبادی میں روزانہ کتنا اضافہ ہو رہا ہے؟
عدلیہ کے ججز کو قابو کرنے کے طریقے تو اپنائے جاتے ہیں مگر عدالتوں کے باہر دہائیوں خوار ہوتے عوام کا بھی کبھی کسی نے سوچا ہے کہ انہیں انصاف کتنے عرصے اور کس قیمت پر ملتا ہے؟ افتخار محمد چوہدری نے عدلیہ کو آزاد کرانے کی کامیاب تحریک چلائی اور عدلیہ کو آزاد کرایا مگر اس کے بعد حکومت سمیت سارا ملک عدلیہ کا یرغمال بن کر رہ گیا۔ کبھی کھڑے کھڑے وزیراعظم کو گھر بھیجا گیا تو کبھی حکومتی معاہدوں پر پابندیاں لگنے لگیں۔ وکلا نے بھی بدمعاشوں کا روپ دھار لیا اور اب پارلیمان نے ترامیم کر کے عدلیہ کے آگے بند باندھ دیا لیکن نظام عدل میں کسی بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی ایسی آئینی ترمیم کی جاتی جس سے عدالتوں کی تطہیر ہوتی، عدالتی نظام کو نئے سرے سے ترتیب دیا جاتا اور ججز کو پابند کیا جاتا کہ مقدمات کے فیصلے ایک سال کے اندر کیے جائیں اور عدالتی فیصلوں پر فوری عملدرآمد کا بندوبست ہوتا۔
جس ملک کی عدلیہ درست کام کر رہی ہو، اس ملک کے تمام ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔ ایسے ممالک میں عوام کو ہر قدم پر تحفظ محسوس ہوتا ہے۔ اور کوئی کسی کا حق نہیں مار سکتا۔ ہمیں عدلیہ بمقابلہ پارلیمان اور دوسرے اداروں کے درمیان طاقت حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی لڑائی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ اس ملک کے عوام کے مسائل ہیں جنہیں حل کیے بغیر ملک مضبوط ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جن شخصیات نے اپنے تحفظ کے لیے قانون سازی کرائی اور آئینی ترامیم کرائیں، وقت آنے پر یہ آئین ان کا تحفظ کر سکا۔ اور نہ کسی قانون کی بندوق نے انہیں تحفظ دیا۔ جس نے آئین بنا کر مارشل لا اور آمریت کا راستہ روکنے کا دعوی کیا تھا۔ وہ خود بھی اسی آئین کی موجودگی میں بے گناہ پھانسی پر جھول گیا تھا اور جس آمر نے آئین کا حلیہ بگاڑا تھا اس کا اپنا حلیہ بھی نہیں پہچانا جا سکا تھا۔
اسی طرح پرویز مشرف جیسے کمانڈو نے جس کسمپرسی کی حالت میں یہ ملک اور دنیا چھوڑی، وہ بھی عبرت کے لیے کافی ہے۔ تاریخ کا سبق ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ملک مضبوط کرنے سے عوام اور شخصیات کا تحفظ ممکن ہوتا ہے اور ملک شخصیات سے نہیں اداروں سے مضبوط ہوتا ہے۔ ملک کو مضبوط کرنے کے لیے عوام کو بااختیار بنایا جاتا ہے۔ آئین اور قانون کی پاسداری ہی قوموں کے تحفظ کی ضمانت ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص کسی ملک کے لیے ناگزیر نہیں ہوتا۔ اس لیے شخصیات کی بجائے اداروں کو مضبوط کرنا ضروری ہوتا ہے۔