غزہ میں پائیدارامن کا مشکل مرحلہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبہ  پر استوار غزہ  میں امن کے بارے میں قرارداد منظور کرلی ہے۔  اس قرار داد میں غزہ میں بین الاقومی فورس تعینات کرنے، غزہ کی تعمیر نو اور وہاں تمام مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور خطے میں امن و اامن کے لیے پولیس فورس تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

قرار داد میں فلسطینیوں کے حق  خود مختاری اور علیحدہ ریاست کے لیے  ٹرمپ پلان کے مقابلے میں زیادہ صراحت سے بات کی گئی ہے البتہ اس بارے میں اقدامات کو فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات سے مشروط کیا گیا ہے۔ متعدد فلسطینی ترجمان اور تجزیہ نگار اس قرار داد کو وسیع المدت امن اور  اس کے نتیجے میں  خود مختار فلسطینی ریاست کی تکمیل کی طرف   پہلا مگر محتاط قدم قرار دے رہے ہیں۔ تاہم  اس تنازعہ کے دو بنیادی فریقوں اسرائیل اور حماس نے  قرار داد کے بعد انتہائی  مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان بیانات میں اگرچہ اقوام متحدہ کی قرار داد کو یکسر مسترد نہیں کیا گیا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے   حسب سابق خود مختار فلسطینی ریاست کے امکان کو مسترد کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اب حماس اور اس کے حامیوں کو ہمیشہ کے کے لیے اس خطے سے نکالا جائے۔  تازہ بیان میں حماس کے بارے میں  اختیار  گئے مؤقف میں نیتن یاہو جو مطالبہ کررہے ہیں، اس کا ٹرمپ کے امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی قرار داد میں کوئی ذکر نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے  ستمبر کے  آخر میں جو بیس نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، اس پر اتفاق رائے کے بعد 9 اکتوبر کو مصر کے شہر شرم الشٰخ میں دستخط ہوئے تھے۔ اگرچہ اسرائیل اور حماس اس دستاویز پر دستخط کرنے والوں میں شامل نہیں تھے لیکن   اسرائیل کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ اور حماس کے ضامن کے طور پر ترکیہ، مصر اور قطر نے دستخط کیے تھے۔ دنیا کے متعدد ممالک کے سربراہان اس   موقع پر گواہ کے طور پر موجود تھے۔  اس معاہدے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے علاوہ یہ  مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ مستقبل میں اس گروہ  کا غزہ کے انتظامی امور میں عمل دخل نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا  گیا ہے کہ حماس کے جو ارکان غزہ چھوڑنا چاہیں گے،  انہیں آزادی سے اپنی مرضی کے ملک جانے کا حق دیاجائے گا۔  اور جو غزہ میں رہنا چاہیں انہیں ہتھیار بین الاقوامی فورس کے حوالے کرنے کے بعد غزہ میں رہنے کا حق حاصل ہوگا اور انہیں ماضی کے جرائم  پر معافی دے دی جائے گی۔ اس پس منظر میں اسرائیلی وزیر اعظم کے نئے مطالبے درحقیقت  ٹرمپ امن معاہدے پر عمل درآمد میں مداخلت کے مترادف ہیں۔  اس معاہدے کی روح کے مطابق  عمل درآمد کے لیے امریکہ اور صدر ٹرمپ کو اسرائیلی لیڈروں پرنگاہ رکھنا ہوگی ۔ اسرائیل نے  اگر معاہدے کے بنیادی نکات اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق امن کی راہ ہموار کرنے میں رکاوٹ ڈالی تو مشرق وسطیٰ میں امن کا یہ نادر موقع ضائع بھی ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف  حماس نے بھی اقوام متحدہ کی قرار داد منظور ہونے کے بعد  ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ قرار داد فلسطینیوں کے حقوق اور مطالبات پورے نہیں کرتی۔ اور غزہ پر ایک بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ہے، جسے فلسطینی عوام اور مزاحمتی دھڑے قبول نہیں کرتے۔ حماس  کا دعویٰ  ہے کہ ’بین الاقوامی فورس کو غزہ  میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا فرض بھی  سونپا جارہا ہے۔  اس طریقے سے اس فورس کی غیر جانبداری ختم  ہوجائے گی۔  اور  یہ  تنازع کا حصہ بن جائے گی جو بالآخر  فلسطینی  علاقوں پر قبضے کے حق میں جاتا ہے‘۔ حماس کا یہ دعویٰ بے بنیاد اور اس بنیادی معاہدے کے برعکس ہے جو وہ مصر اور قطر کے ذریعے ٹرمپ منصوبے کو مانتے ہوئے تسلیم کرچکی ہے۔ اب حماس مزاحمت کی بات کررہی ہے لیکن  وہ اس حقیقت کو ماننے سے گریز کررہی ہے کہ جس مزاحمت کی طرف وہ اشارہ کررہی ہے، اسی کے نتیجے میں  7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل  پر حملہ کیا گیا تھا اور 1200 اسرائیلیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اسی حملے کے بعد اسرائیل نے دو سال تک غزہ  پر سفاکانہ جنگ مسلط رکھی  جس کے نتیجے میں 69 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوئے اور غزہ کو زمین بوس کردیا گیا۔ اب غزہ کی  تعمیر نو  کے لیے کثیر سرمایے اور مستقل امن کی ضرورت  ہوگی۔

اب اگر حماس مزاحمت کا نام لے کر ایک  بار پھر امن کی عالمی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرے گی تو اس سے فلسطینیوں کو کوئی  فائدہ نہیں ہوگا۔  حماس کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کے متفقہ اصول کو ماننے سے انکار کی صورت میں اسرائیل ایک بار پھر  غزہ پر حملے شروع کرسکتا ہے ۔ غزہ یا مغربی کنارے  پر آباد فلسطینیوں کے پا س اسرائیلی طاقت کا جواب دینے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ اس مرحلے پر حماس یا کسی بھی دوسرے گروہ کی جانب سے مزاحمت کو مسلح حملوں سے تعبیر کرنے کا مقصد مزاحمت یا حق خود مختاری کی  حقیقت سے انکار کے مترادف ہوگا۔ اب فلسطینیوں کی مزاحمت عسکری ہتھکنڈوں کی بجائے ، امن کی خواہش کے اظہار اور سفارتی طور سے خود کو مضبوط کرنے کے طریقوں سے ہی کی جاسکتی ہے۔ حماس اس مزاحمت کا استعارہ بننا چاہتی ہے تو اسے نہ صرف اپنا نظریہ تبدیل کرنا  ہوگا بلکہ  ماضی کی تمام غلطیوں سے رجوع کرکے فلسطینی عوام سے معافی مانگنا ہوگی۔ اب  آزادی کی کوئی جنگ تشدد یا عسکری مزاحمت کی بجائے ہوشمندی اور سفارتی ہنر مندی سے  ہی جیتی جاتی ہے۔  فلسطینیوں کے مرحوم لیڈر یاسر عرفات نے طویل  گوریلا لڑائی کے بعد بالآخر سفارتی ذرائع کی  اہمیت کو مان کر  1993 میں  دو ریاستی حل  کے لیے اسرائیل کے ساتھ اوسلو معاہدے  پر دستخط کیے تھے۔

اس موقع پر حماس اگر الفتح کے خلاف بغاوت کا آغاز کرکے فلسطینیوں کے اتحادکو پارہ پارہ نہ کرتی اور اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کا ناقبل عمل نعرہ نہ لگایا جاتا تو شاید آج اس خطے کے سیاسی حالات مختلف ہوتے اور فلسطینی ریاست  کا خواب بھی پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہوتا۔ البتہ حماس نے غزہ پر قبضہ کرکے اسرائیل کے خلاف نام نہاد مزاحمت کا آغاز کیا اور اسی عاقبت نااندیشی کے  نتیجے میں گزشتہ دو سال کے دوران اسرائیل کو غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا موقع ملا۔   ایک فلسطینی  تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ حماس کے بیان  کا مقصد  اقوام متحدہ کی قرار داد کو مسترد   کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے اپنے  لیے کچھ سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ لیکن حماس کے علاوہ تمام متعلقہ عناصر کو جان لینا چاہئے کہ حماس اور اس کے  ہمراہ غزہ کے دیگر مسلح گروہوں کے پاس اب   تشدد سے گریز کرنےاور اسرائیل کو حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے اپنی نیک نیتی کا مظاہرہ کرکے ہی فلسطینی  درحقیقت دنیا میں اپنا اعتبار  بحال کرا سکیں گے اور  خود مختار ریاست کے قیام کے لیے کام  کا آغاز ہوسکے گا۔

بدقسمتی سے اس وقت امریکہ کے علاوہ کوئی ایسی طاقت موجود نہیں ہے جو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور چین نے ویٹو کا اختیار رکھنے  اور  اس قرارداد کو  مسترد کرنے کے باوجود ووٹنگ میں حصہ نہ لے کر اسے منظور ہونے کا موقع فراہم کیا۔ حالانکہ روسی ذرائع یہ اشارے دے رہے تھے کہ شاید روس اس قرار داد کو ویٹو کردے گا۔ ایسی صورت میں روس یا چین کو فلسطینی عوام کے حق خود اختیاری  اور قیام امن کے لیے کوئی متبادل اور قابل قبول منصوبہ  پیش کرنے کی ضرورت تھی۔ بوجوہ یہ دونوں ممالک ایسا کوئی منصوبہ پیش کرنے یا اس پر عمل کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اسی لیے انہوں نے  عرب دوست ممالک کی درخواست پر امریکی قرار داد کو ویٹو کرنے سے گریز کیا۔

پاکستان نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا کیوں کہ وہ عرب ممالک کی اس حکمت عملی کا حامی ہے کہ فلسطینی کاز کے لیے اس وقت مسلح جد و جہد کی بجائے امن اور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔  اب اس حقیقت سے انکار درحقیقت فلسطینیوں کو حق زندگی ، امن اور وقار سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس کے برعکس  اگر غزہ میں پائیدار امن قائم ہوجائے اور حماس جیسے گروہ غیر مسلح ہوجائیں توعرب ممالک کی مدد سے سفارتی کوششیں بارآور ہوسکتی ہیں۔ عالمی برادری بھی  اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ کرے گی تاکہ وہ اقوام متحدہ  کی  خواہش اور فلسطینی عوام کی خواہش کے مطابق   بقائے باہمی کےکسی پرامن حل پر اتفاق کرے۔

اقوام متحدہ کی قرار داد غزہ میں امن اور تعمیر نو کے کام کے آغاز کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس راستے میں ابھی بہت سی عملی  مشکلات درپیش ہیں۔ البتہ سب سے بڑی مشکل اسرائیل اورحماس کی طرف سے عدم تعاون کی کوششیں ہوں گی۔