ایم بی ایس کا دورہ امریکہ اور ٹرمپ کی بلائیں

سعودی عرب کے ولی عہد  محمد بن سلمان نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس  میں ان کا  پرتپاک استقبال کیا گیا اور فضائیہ کے طیاروں نے سلامی دی۔ اس موقع پر عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ہم سعودی عرب کو باضابطہ طور پر اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم یہ اعلان سعودی عرب کو بیرونی جارحیت کی صورت میں تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

 سعودی عرب کو  امریکہ کے جدید ترین طیارے ایف 35 کی فروخت کا  وعدہ  اور  سعودی عرب کی طرف سے امریکہ میں سرمایہ کاری کا حجم  600 ارب ڈالر سے بڑھاکر  ایک ٹریلین ڈالر کرنے کا  اعلان اہم ترین پہلو ہیں۔ تاہم پرنس  محمد بن سلمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ سعودی سرمایہ کاری کتنی مدت میں ہوگی ۔  اسی طرح  ایف35 طیاروں کی فروخت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو رضامندی  ظاہر کی ہے لیکن اسے کانگرس کی منظوری بھی درکار ہوگی۔ بعض امریکی حلقوں میں  اعلیٰ ٹیکنالوجی  والے اس فائٹر جیٹ کی سعودی عرب کو فروخت پر اعتراضات ہیں۔ اسی  طرح اسرائیلی حکومت اور اسرائیل کے حامی بھی اس فروخت سے خوش نہیں ہوں گے کیوں کہ اس طرح سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مقابلے میں ایک عسکری طاقت بن سکتا ہے۔ اس وقت اسرائیل کو  امریکی ٹیکنالوجی کی بدولت مشرق وسطیٰ میں  دیگر سب اقوام  پر برتری حاصل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد کا شاندار استقبال کیا اور انہیں اعلیٰ ریاستی پرٹوکول فراہم کیا گیا۔ صدر ٹرمپ  کا رویہ دوستانہ  اور فراخدلانہ تھا اور ان کے طرز تکلم اور  باڈی لینگوئج سے دیکھا جاسکتا تھا کہ وہ کسی سبھی طرح سعودی مہمان کو نہ صرف عزت و احترام دینا چاہتے ہیں بلکہ  انہیں خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ میڈیا سے گفتگو میں اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب ایک صحافی نے   2018 میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں  واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بارے میں سوال کیا۔  صدر ٹرمپ نے اس پر  وضاحت  دیتے ہوئے کہا کہ کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان 2018 کے دوران صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے لاعلم تھے۔  ولی عہد محمد بن سلمان نے  صحافی کے سوال کا جوب دیتے ہوئے تسلیم کیاکہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کا قتل ’بڑی غلطی‘ تھی۔ واضح رہے کہ امریکی انٹیلی جنس اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں واضح کرچکی ہے کہ خاشقجی کے قتل کا حکم خود ولی عہد نے دیا تھا۔ اسی تنازعہ کی وجہ سے شہزادہ محمد بن سلمان گزشتہ 7 برس کے دوران امریکہ نہیں آئے تھے۔

اس سے قبل رپورٹر کے نے جب اس بارے میں  سوال  کیا تو  ٹرمپ نے اس کی سرزنش  کرتے ہوئے کہا کہ خاشقجی ’بہت متنازع تھے۔ کئی لوگ انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔ چاہے آپ انہیں پسند کریں یا نہ کریں، چیزیں ہو جاتی ہیں‘۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’انہیں (محمد بن سلمان کو) اس بارے میں کچھ پتہ  نہیں  تھا۔ آپ  ایسا سوال پوچھ کر ہمارے مہمان کو شرمندہ  کررہے ہیں‘۔ تاہم محمد بن سلمان نے اس موقع پر بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نرمی سے جواب دیا کہ ’یہ بڑی غلطی تھی اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دوبارہ ایسا نہ ہو‘۔ خاشقجی کے سوال پر ٹرمپ کی برہمی سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس  حد تک سعودی ولی عہد کی دل جوئی میں دلچسپی رکھتے تھے۔ یوں بھی امریکہ اگر دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے تو سعودی عرب دنیا کا سب سے زیادہ  تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس کے علاوہ  امریکی صدر اپنے ملک میں معاشی بہتری کے لیے سعودی سرمایہ کاری سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

سعودی ولی عہد کے دورہ وائٹ ہاؤس کے موقع پر تین اہم معاملات زیر غور تھے۔ تمام تر ااستقبالیہ دھوم دھام اور صدر ٹرمپ کے بلائیں  لینے کے باوجود  ان میں سے  کسی معاملہ میں سو فیصد پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔   ان میں سے ایک سعودی عرب  پر حملے کو امریکہ پر حملہ قرار دینے کا  وعدہ  تھا۔ دوسرے سعودی سرمایہ کاری کا باقاعدہ  ٹائم فریم طے کرنا تھا۔ تیسرا امریکہ کی خواہش تھی کہ سعودی عرب ابراہم اکارڈ کا حصہ بن جائے یعنی  اسرائیل کو تسلیم کرلیا جائے۔  ان تینوں معاملات پر گفتگو کے باوجود کوئی واضح  نتیجہ دکھائی نہیں دیا۔

 سعودی عرب امریکی حفاظتی چھتری کی خواہش رکھتا  تھا تاکہ قطر کی طرح  مستقبل میں کسی وقت اسرائیل یا کوئی دوسرا علاقائی ملک سعودی  عرب پر بھی حملے نہ کرسکے۔ البتہ ٹرمپ حکومت اس حوالے سے  کوئی واضح ضمانت فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔  گو صدر ٹرمپ نے   سعودی عرب کو غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت  دی ہے۔  یہ پوزیشن اسرائیل سمیت  کل 19 ممالک کو حاصل ہے۔ اس لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ   اس  دعوے کو وہی اہمیت حاصل ہے جس کا تاثر صدر ٹرمپ  نے اپنی تقریر میں دینے کی کوشش کی ہے۔  کیوں کہ یہ  اعلان سعودی عرب کی حفاظت کے لیے  ضمانت فراہم نہیں کرتا ۔ اس طرح کی پارٹنر شپ اسلحہ کی خرید و فروخت کے لیے مفید ہوتی ہے۔    تاہم صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو ایف35 طیارے فروخت کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس معاہدے  پر کانگرس سے منظوری تک عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے  وائٹ ہاؤس کے دورے کے موقع پر امریکہ میں سعودی سرمایہ کاری میں اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ 600 ارب ڈالر کی بجائے 1000 ارب ڈالر تک پہنچائی جائے گی۔  واضح رہے سعودی  عرب نے مئی  کے دوران  صدر ٹرمپ  کے دورہ سعودی عرب  کے دوران 600 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا عندیہ دیا تھا۔  تاہم محسوس ہوتا ہے کہ جیسے صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کی حفاظت اور خود مختار فلسطینی ریاست کے سوال پر  کوئی واضح وعدہ کرنے سے گریز کیا ہے، اسی طرح ایم بی ایس نے بھی  سعودی  سرمایہ کاری میں 400 ارب ڈالر اضافہ کا اعلان ضرور کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ سرمایہ کب اور کن شعبوں  میں کن شرائط کے تحت لگایا جائے گا۔ یہی معلوم ہوتا ہے کہ  سعودی امریکی تعلقات کے تمام پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام پہلوؤں پر واضح حکمت عملی اختیار کیے بغیر امریکہ ، سعودی عرب سے غیر مشروط ’اطاعت‘  کی توقع نہیں کرسکتا۔

تیسرا اور سب سے اہم معاملہ ابراہم اکارڈ اور غزہ امن معاہدہ پر عمل درآمد کے بارے میں تھا۔ صدر ٹرمپ کو امید تھی   یا وہ یہ خواہش ضرور رکھتے تھے کہ غزہ میں انہوں نے جنگ بندی کی کوشش کی ہے اور اسرائیل  پر دباؤ ڈال کر  ایک معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرایا ہے۔ اس کے بعد سعودی  عرب اور اس کے زیر اثر دیگر مسلمان ممالک  کواسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پیش رفت کرنی چاہئے۔ تاہم سعودی ولی عہد نے اوول آفس میں بیٹھ کر میڈیا کو بتایا کہ ’ہم معاہدے (ابراہم اکارڈ) کا حصہ بننا چاہتے ہیں لیکن  یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دو ریاستی حل کے لیے کوئی واضح راستہ موجود ہو‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ٹرمپ کے ساتھ ان کی  اچھی گفتگو  ہوئی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں ’بہت اچھی بات چیت‘ کی۔ ایک ریاست، دو ریاستیں۔۔۔ بہت سی چیزوں پر بات ہوئی‘۔اس کے بعد ٹرمپ نے سعودی ولی عہد سے پوچھا کہ کیا اس کے بارے میں ان کے ’اچھے تاثرات ہیں؟‘ تو انہوں نے کہا  کہ ’ہاں ضرور‘۔

دونوں ملکوں کے لیڈروں کی ملاقات کے دوران امریکی صدر پر یہ واضح ہوگیا ہے کہ سعودی عرب غزہ امن معاہدے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد اور فلسطینیوں کے لیےعلیحدہ ریاست کے قیام کے حوالے سے کسی واضح اور دوٹوک معاہدے کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے میں جلدی نہیں کرے گا۔ یہ سعودی پالیسی غزہ کے لوگوں اور فلسطینی عوام  کے لیے ایک خوش آئیند خبر ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ امریکی صدر کو اس حوالے سے اسرائیل کو رضامند کرنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ دباؤ ڈالنا پڑے گا جو انہوں نے غزہ امن معاہدے کے لیے استعمال کیا تھا۔

اسرائیل کے سوا دنیا کے بیشتر ممالک دو ریاستی حل کو مشرق وسطیٰ میں امن اور اسرائیل کی حفاظت کے مقصد کے لیے کلیدی حیثیت دیتے ہیں۔  امریکی حکومت بھی دوریاستی اصول کو مانتی رہی ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اس اصول کے بارے میں  امریکی پالیسی کو ابہام کا شکار کیا ہے۔ البتہ ولی عہد محمد بن سلمان نے واضح کردیا ہے کہ مشرق وسطیٰ  میں دیرپا امن اور سعودی عرب کے ساتھ شفاف تعلقات  کے لیے فسلطینی ریاست  کا مستقبل طے ہونا چاہئے۔ ایسا دباؤ ہی درحقیقت اسرائیل کو اس اہم سوال پر اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کا سبب بنے گا۔