تاحیات جواب دہ

جنگل کا قانون بہت سیدھا ہے، جنگل میں طاقت ور پر کوئی قانون نافذ نہیں ہوتا۔ شیر جو چاہے کرے، برا کرے بھلا کرے، گناہ کرے جرم کرے، جسے چاہے چیر دے پھاڑ دے، اُس کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں کٹ سکتی۔ اسے کوئی عدالت طلب نہیں کر سکتی۔ آسان لفظوں میں جنگل میں طاقت ور کو استثنا حاصل ہوتا ہے۔

قبائلی نظام سے گزر کے جب انسان بادشاہت کے دور  میں داخل ہوا تو اس نے جنگل کے آئین میں معمولی ترمیم کر کے اسے نافذ کر دیا۔ قانون بنایا گیا جس کا اطلاق صرف رعایا پر ہوتا تھا۔ بادشاہ کو قانون سے بالا تر قرار دیا گیا۔ بادشاہت کا فلسفہ یہ تھا کہ حکمرانی بادشاہ کا الوہی حق ہے یا یہ کہ وہ خدا کا چنیدہ ہے۔ لہذا صرف خدا کو جواب دہ ہے۔ انسان کے بنائے قوانین اور عدالتیں بادشاہ سے فروتر تھیں۔ کیوں کہ بادشاہ تو خود قانون تھا، سرتاپا قانون۔ برطانوی بادشاہت بارے یہ مقولہ تو آپ نے سن ہی رکھا ہے کہ "دی کنگ کین ڈو نو رانگ۔" ہر قانون کا سر چشمہ بادشاہ سلامت کی ذات گرامی تھی۔ بادشاہ ہی پارلیمان تھا، بادشاہ ہی سپریم کورٹ، اور بادشاہ ہی انتظامیہ کا سربراہ۔ آسان لفظوں میں بادشاہ کو ہر اخلاقی اور انتظامی قانون سے مکمل استثنا حاصل تھا۔

اس کے بعد جمہوری نظام کا ظہور ہوتا ہے جس کی بنا جنگل کے نظام سے مکمل برات کے اصول پر اٹھائی گئی۔ جمہوری نظام کا کلیدی اصول "قانون کی حکم رانی" قرار دیا گیا، یعنی قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، قانون ہر طاقت ور اور کم زور پر یکساں لاگو ہو گا، ہر شہری قانون و عدالت کو جواب دہ ہو گا۔ اس نظام میں طاقت وروں کی جواب دہی پر خصوصی اصرار کیا جاتا ہے، کیوں کہ ان کے پاس عوام کا پیسہ ہوتا ہے، اسے خرچنے کا اختیار ہوتا ہے، عوامی ادارے ہوتے ہیں، اور بے پناہ اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ اسی لیے جمہوری نظام میں طاقت ور تا حیات جواب دہ ہوتے ہیں، کرپشن پر جواب دہ، طاقت کے غلط استعمال پر جواب دہ، قانون سے کھلواڑ پر جواب دہ، آئین شکنی پر جواب دہ۔ جمہوریت میں طاقت وروں کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں نہ کہ حکم رانی کا الوہی حق۔ آسان لفظوں میں جمہوریت میں استثنا کا کوئی تصور نہیں، بلکہ معاملہ اس کے یک سر برعکس ہے۔ یہ سارا نظام ہی جواب دہی کے بے لچک ستون پر ایستادہ ہے۔

ویسے تو ہمارے حکم ران اسلامی ٹچ کے ماہر ہیں لیکن "تاحیات" تو کیا سادہ استثنا کے ضمن میں بھی ہم نے ابھی تک اسلامی فقہ یا تاریخ کا کوئی حوالہ نہیں سنا۔ "اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنتِ محمدؐ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں،" صحیح بخاریؒ کی اس حدیث سے کون سا استثنا ثابت ہوتا ہے؟ خلیفہ حضرت عمرکی چادر کو استثنا حاصل تھا؟ خالد بن ولید کو استثنا حاصل تھا؟ کس کو استثنا حاصل تھا؟ کوئی تو مثال ہو گی؟ ہم تو اجہل ہیں، کوئی مفتی، کوئی حافظ ہی اس پر روشنی ڈال سکتا ہے۔ ہمیں تو فقط یہ معلوم ہے کہ دین میں استثنا طاقت وروں کے لیے نہیں "مجبوروں" کے لیے ہوتا ہے۔ روزہ میں چھوٹ، نماز میں نرمی، حرام جانور کھانے کی اجازت، ان سب کا استثنا مجبوری میں ہے، طاقت و اختیار میں نہیں۔ اور پھر "تا حیات" کا تو جواب نہیں۔ یہ فونیس سے بھی نایاب پرندہ ہے۔

شان و شوکت و جاہ و جلال و کروفر کے استعارے کہہ رہے ہیں ہمیں استثنا چاہیے، اور تا بہ ابد چاہیے۔ آپ اپنا کاروبار، پیسہ، زمینیں، پلاٹ ایک صاحب کو امانتاً دے رہے ہیں اور وہ فرما رہے ہیں "نوازش، مگر میں حساب نہیں دوں گا، تا حیات نہیں دوں گا، مر جاؤں گا مگر حساب نہیں دوں گا۔" اسے کہتے ہیں "صادق و امین۔" اس صورتِ حال میں اب مشورہ دیجیے کہ حساب کون دے گا؟ چھابڑی والا، چنگ چی والا، کوچوان، ماشکی، بھٹہ مزدور، ڈرائیور یا مالی؟ کون جواب دہ ہے؟ ہم تو سمجھتے تھے کہ جن لوگوں کو ہم نے منصب و اختیار دیا ہے، وہ اپنی ایک ایک سانس کے لیے جواب دہ ہیں اور قبر میں اترنے کے بعد بھی جواب دہ ہیں۔ ہم اپنی سادگی پر خندہ زن ہیں۔ ہم اپنی حالت پر ماتم کناں ہیں۔ "مسکراتے ہوئے بادیدہ نم آتے ہیں۔۔۔۔۔تیری محفل سے عجب حال میں ہم آتے ہیں‘‘۔

دوستووسکی کے ایک شہرہ آفاق ناول کا نام ہے جرم و سزا (آج تک ہم نے حُسن و عشق اور جُرم و سزا جیسے کئی الفاظ اکٹھے ہی سُنے تھے)، اس ناول کا مرکزی کردار ریسکالنی کوو قتل کرتا ہے اور اپنے جرم کے حق میں دلیل گھڑتا ہے کہ بڑے اور غیر معمولی لوگ قانون اور اخلاقی قاعدے توڑ سکتے ہیں۔ لیکن جرم کا احساس اس کی روح کو گھائل کر دیتا ہے، اس کے ضمیر کی خلش ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے اور وہ بالآخر اِقرارِِ جرم کر لیتا ہے۔ یہیں سے اس کے روحانی زخم مندمل ہونا شروع ہوتے ہیں۔ داخلی تصادم تھم جاتا ہے اور وہ نجات کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ یعنی سزا جرم کا مرہم ہو جاتی ہے۔ بہرحال، ضمیر کے ان جھگڑوں سے ہمیں کیا سروکار۔

کیا پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے والے کو اگلے سال فزکس کا نوبل پرائز دیا جا سکتا ہے؟ نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح بادشاہت دوبارہ ایجاد کرنے والوں کو، جنگل دوبارہ آباد کرنے والوں کو مبارک باد دی جا سکتی ہے؟ نہیں دی جا سکتی!