عالمی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ پر ’معیشت دوست‘ سرکار کی خاموشی

عالمی مالیاتی فنڈ نے  ایک تازہ رپورٹ میں پاکستان کی  معاشی   ترقی کے راستے میں حائل  رکاوٹوں کا ذکر کیاہے۔ ان میں  کرپشن،  ادارہ جاتی کمزوریوں، ناقص قوانین اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر  کو سر فہرست رکھا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ حکومت پاکستان کی مرضی و تعاون سے تیا رکی گئی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر یہ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر اس رپورٹ کی اشاعت کے باوجود ، سرکاری طور سے اس پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔

حالانکہ اگر آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کو درپیش مشکلات و مسائل کے بارے میں حکومت کی درخواست پر ایک جائزہ پیش کیا ہے تو ملک کے وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات کو مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے ان امور پر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہئے تھا  اور واضح کیا جاتا کہ حکومت نے ایک عالمی ادارے سے کیوں یہ رپورٹ تیار کرنے کی درخواست کی تھی؟ البتہ حکومتی عہدیداروں اور دیگر ذرائع کی خاموشی سے یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ رپورٹ میں تکنیکی طور سے اگرچہ  یہ واضح کیا گیا ہے کہ رپورٹ حکومت پاکستان کی درخواست پر،  اس کے تعاون سے تیار ہوئی ہے  لیکن درحقیقت آئی ایم ایف کے لیڈروں نے پاکستان پر زور دیا ہوگا کہ وہ ایسا جائزہ لینے پر اتفاق کریں تاکہ مستقبل میں پاکستان کو فراہم کی گئی عالمی امداد کا مؤثر استعمال   یقینی بنایا جاسکے۔ البتہ اس حوالے سے بھی صرف قیاس آرائیاں ہی کی جاسکتی ہیں۔ اس بارے میں کوئی حتمی رائے پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ جن لوگوں  پر اس بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،  انہوں نے خاموشی اختیار کرنا ہی ملک  و قوم کے مفاد میں بہتر جانا ہے۔

اگرچہ  آئی ایم ایف کی اس رپورٹ میں کچھ ایسا نیا نہیں ہے جس سے اہل پاکستان اور اس پر حکمران عناصر بخوبی  آگاہ نہ ہوں۔ کیوں کہ اس میں سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی اور ان کی طرف سے نجی شعبہ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی باتیں  قابل فہم  بھی ہیں۔ اور ہر کس و ناکس ان کے بارے میں کسی  نہ  کسی سطح پر ان سے  دوچار بھی ہوتا ہے۔  مثال کے طور پر کسی  سرکاری دفتر سے کسی جائز کام کی منظوری لینے کا  گنجلک اور مشکل طریقہ کار اور بالآخر رشوت کے زور پر اپنا کام نکلوانے کا راستہ اختیار کرنا۔   اسی  طرح اگر کسی سرکاری ادارے، افراد یا نظام سے کسی اختلاف رائے کے معاملہ میں عدالت سے رجوع کرنے کی نوبت آجائے تو اسے نسلوں کے حوالے کرنے کا عام فہم  طریقہ پاکستان میں معمول کی بات ہے۔  تاہم اس وقت ملک میں شہباز شریف کی  سربراہی میں ایک ایسی حکومت کام کررہی ہے جو  معیشت کو اپنی ترجیح بتاتی ہے اور کسی بھی طرح ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لاکر معاشی  ترقی کا خواب پورا کرنا چاہتی ہے۔  شہباز شریف  متعدد بار یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ  انہوں نے ملکی معیشت بچانے کے لیے اپنی سیاست قربان کردی۔ ایسے شخص کی نیک نیتی پر تو سوال نہیں اٹھانا چاہئے لیکن بدقسمتی سے آئی ایم ایف کی رپورٹ سے جو تاثر  ابھرتا ہے وہ اس محاورے کے مطابق ہے کہ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد۔

اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ ملکی سرکاری انتظام اور معاشی نگرانی کے اداروں کا طریقہ کار اسی طرح ناقص، غیر مؤثر،  پیچیدہ اور مشکل ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے موجود ہے اور جس کی نشاندہی  کے باوجود ، اس میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔  اب اگر ملکی سیاسی حکومت فوجی قیادت کی مکمل اعانت اور سرپرستی کے ساتھ ملکی معیشت کو  ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کا عزم کرچکی ہے تو اسے ضرور سوچنا چاہئے تھا کہ  پھر ان عوامل کو سمجھا  جاتا جو ان مشکلات کی وجہ بنے ہوئے ہیں ۔اور ایسے راستے تلاش کیے جائیں جن کے تحت پاکستانی انتظامی طریقہ کار سہل  ہوجائے اور اس میں بدعنوانی کا چلن نہ ہو۔ البتہ دیکھا جاسکتا ہے کہ روزمرہ کی بنیاد پر سیاسی  نعرے بازی کے باوجود اس بارے میں کوئی عملی اقدام  نہیں ہؤا۔ آئی ایم ایف نے صرف اس سچائی کو دستاویزی شکل میں پیش کردیا ہے۔  البتہ حکومت کی خاموشی سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی عالمی ادارہ ملک میں بدعنوانی، اشرافیہ کی بالا دستی، اقربا پروری اور ناقص نظام عدل کے بارے میں کیا کہتا ہے۔  وہ اپنی اسی رفتار سے کولہو کے اس بیل کی  طرح دائرے میں گھومتے رہنا چاہتی ہے جس کی آنکھوں پر کھوپے چڑھے ہوتے ہیں اور وہ یہی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ شاید اس نے بہت مسافت طے کرلی لیکن وہ اپنے پہلے والے مقام پر ہی کھڑا ہوتا ہے۔

حیرت ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اگر  حالیہ جنگ میں بھارتی  طیاروں  کی تباہی کا ذکر کریں یا یہ دعویٰ کریں کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوا کر لاکھوں معصوم لوگوں کی جان بچائی  ہے تو ملک کی پوری قیادت پوری شد و مد سے اسے دہرا کر  اپنی دھاک بٹھانا چاہتی ہے۔ اور حال ہی میں  امریکی کانگرس کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں اگر دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف چینی ہتھیاروں کو کامیابی سے استعمال کیا تو    ملک کا وزیر اعظم دعویٰ کرنے لگتا ہیے کہ   چین کے بارے میں ایک رپورٹ کے یہ ضمنی فقرے پاکستان کی حتمی جیت کا ثبوت   ہیں۔ لیکن جو رپورٹ حکومت کی درخواست پر آئی ایم ایف نے تیار کی ہے اور جس میں  صرف پاکستان کی معیشت کو درپیش مشکلات کا ہی ذکر کیا گیا ہے، اسے صریحاً نظرانداز کرکے ترقی کا سفر جاری رکھنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت اس رپورٹ کے ایک ایک فقرے کو قومی منشور کے طور پر بیان کرتی اور آج سے ہی یہ ہدف مقرر کیا جاتا کہ ان کمزوریوں  پر ہر قیمت پر قابو پایا جائے گا۔  کسی کمزوری کے بارے میں قومی مکالمہ شروع کرنے اور اس پر سرگرمی سے  عملی کام کا آغاز کیے بغیر کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔

اس کے برعکس حکومت اس رپورٹ سے یوں  نگاہیں  چرا رہی ہے جیسے یہ اس کے جرائم کی فہرست ہو۔ حالانکہ رپورٹ میں ان کمزوریوں کی نشاندہی ہے جو ہمیشہ سے اس ملک کے انتظامی و سماجی رویوں کا حصہ ہیں۔ اور اب انہیں  سرکاری سے لے کر انفرادی سطح تک یوں قبول کرلیا گیاہے کہ جیسے یہی مسلمہ طریقہ ہے اور دنیا بھر کا نظام  ایسے ہی کام کرتا ہے۔ اس لیے اس پر بات کرنے یا کسی تبدیلی کی کوشش  ضروری نہیں۔ باقی رہی آئی ایم ایف کے ماہرین، ان کے بارے میں آسانی سے فتوی  جاری ہوسکتا ہے کہ انہیں پاکستان کے حقیقی حالات اور سماج کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔   حکومت کو اس رپورٹ کے آئینے میں اپنی صورت دیکھ کر  خوفزدہ ہونے کی بجائے یہ جاننا چاہئے کہ جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ حقیقی ہیں اور انہیں حل کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں سے تو آغاز کرنا ہی ہوگا۔ کیا بہتر نہیں ہوگا کہ موجودہ حکومت جیسے ایک سیاسی گروہ کو قومی منظر نامہ سے ختم کرنے کو قومی مشن بنائے ہوئے ہے، اسی طرح یا اس کی بجائے معاشی ترقی کے راستے میں حائل رکاوٹیں  دور کرنے کا ارادہ کرلے اور اس راستے پر گامزن ہو جائے۔ یقین جانئے حکومت اگر ایسا عزم کرلے تو وہ جس عوامی قبولیت کے لیے ہاتھ پاؤں مارر رہی ہے ، وہ  تبدیل شدہ حالات میں اسے خود ہی حاصل ہوجائے گی۔ پھر مستقبل میں شاید مسلم لیگ (ن) کو مانگے تانگے کے ارکان کی تائید یا فارم 47 کے الزامات کے بغیر ہی حکومت بنانے  کے لیے اکثریت حاصل ہوجائے۔ یا پھر ملک کی سیاسی قیادت کامیابی کا راستہ اختیار کرنے کی بصیرت سے  ہی محروم ہے ؟

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں درج مسائل اور ان کے حل پر ایک نگاہ ڈال لینے سے ہی واضح ہوجاتا ہے کہ صورت حال سادہ ہے لیکن اسے تبدیل کرنے کا ارادہ موجود  نہیں ہے  کیوں کہ اس سے ملک پر قابض اشرافیہ کے مفادات پر چوٹ لگ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں   وجوہات کی نشاندہی کرتے ہوئے     ان  پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے:  1) نگرانی کا پیچیدہ اور مشکل نظام۔ 2) اداروں کی کمزور صلاحیت۔ 3)معاملات کو نظر انداز کرنے کا طرز عمل۔ 4)احتساب کا غیر مؤثر اور متضاد   طریقہ کار  اور۔ 5)  قانون کی ناقص حکمرانی۔  بادی النظر میں ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ تمام عوامل ہمارے  نظام حکمرانی کا حصہ ہیں اور ان کمزوریوں ہی کی وجہ سے ایک خاص مفاد یافتہ طبقہ مسلسل مراعات یافتہ رہتا ہے۔ حالانکہ ملک و قوم کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ چند افراد یا گروہوں کی بجائے  ملک کی ترقی کا راستہ اختیار کرنا  ضروری ہے۔

آئی ایم ایف  نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ  ان عوامل سے نجی شعبہ میں اضافے کی صلاحیت اور سرکاری شعبہ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔   رپورٹ  نے تجویز کیا کہ  بہتری کے لیے:  اداروں کے اعتبار میں اضافہ، شفافیت، قواعد و ضوابط میں تسلسل  و قابل اعتبار عمل درآمد اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون کا مؤثر طریقہ کار نافذ کرنا  اہم ہے۔

ان نکات میں سے کون سا پہلو ہے جس کے بارے میں عوام یا حکومت آئی ایم ایف کی رپورٹ سے پہلے ہی آگاہ نہیں تھے۔ لیکن اگر نشاندہی کے بعد بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بندرکھنے کا رویہ اختیار کرنا  ضروری سمجھا جارہاہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ اعلیٰ سطح پر اصلاح احوال کے لیے نیت و ارادہ موجود نہیں۔