کیا ضمنی اتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی سے جمہوریت مستحکم ہوگی؟
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 23 / نومبر / 2025
ملک میں قومی و پنجاب اسمبلی کی کل 13 نشستوں پر ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔ ان میں سے بیشتر پر مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ووٹوں کی گنتی بھی اسی طرف اشارہ کررہی ہے۔ یہ سب سیٹیں سانحہ 9 مئی کے مقدموں میں سزائیں پانے والے تحریک انصاف کے ارکان کے نااہل ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھیں۔
بدقسمتی سے تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات میں بیشتر نشستوں پر انتخابات کا بائیکاٹ کیا تاہم اس کے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں انتخاب میں حصہ لیا اور پارٹی نے کسی حد تک ان کی حمایت بھی کی۔ تاہم لاہور اور ہری پور میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر تحریک انصاف نے بائیکاٹ نہیں کیا تھا۔ لاہور والی نشست پنجاب کے سابق گورنر اور پی ٹی آئی کے لیڈر میاں اظہر کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ جبکہ ہری پور کی نشست تحریک انصاف کے لیڈر عمر ایوب کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ لاہور والی نشست پر مسلم لیگ کا مقابلہ میاں اظہر کے پوتے چوہدری ارسلان احمد سے تھا تاہم وہاں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حافظ محمد نعمان کو برتری حاصل تھی۔ اسی طرح ہری پور میں عمر ایوب کی اہلیہ شہرناز عمر ایوب تحریک انصاف کی امیدوار ہیں۔ یہاں 602 پولنگ اسٹیشنز میں سے 156 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ سامنے آنے تک شہرناز عمر ایوب 52157 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر تھیں۔ جبکہ پاکستان مسلم ليگ ن کے بابر نواز خان 52129 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔
اس سخت مقابلے میں مکمل نتائج سامنے آنے کے بعد کوئی بھی امید وار کامیاب ہوسکتا ہے۔ البتہ قومی اسمبلی کے پنجاب کے باقی حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کی برتری بتائی جارہی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ پارلیمانی ترقی و ٹرانسپرینسی کے صدر احمد بلال محبوب نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی پانچ نشستیں جیت لیتی ہے تو اسے قومی اسمبلی میں تنہا اکثریت حاصل ہوجائے گی اور وزیر اعظم شہباز شریف کو برسراقتدار رہنے کے لیے پیپلز پارٹی کی اعانت درکار نہیں ہوگی۔ اس طرح پنجاب میں قومی اسمبلی کی پانچوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی برتری ملکی سیاست میں ایک نئے سنگ میل کا شاخسانہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ اس ان ضمنی انتخابات کے بعد بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان اتفاق رائے کی سیاست کا امکان موجود رہے گا تاہم پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت حکومت کے حوالے سے الٹی میٹم دینے کا جو اختیار موجود ہے، وہ ختم ہوجائے گا۔
اس سے ایک طرف حکومتی امور طے کرنے میں سہولت پیدا ہوگی تو دوسری طرف ان خدشات و الزامات کو تقویت ملے گی کہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں قومی اسمبلی کی تمام نشستیں جیتنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں جنہیں انتخابی دھاندلی کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح ملکی سیاست میں الزام تراشی اور انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے بداعتمادی کے ماحول کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان انتخابات سے پہلے اور آج دن کے دوران مختلف پارٹیوں کی طرف سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ضمنی انتخابات کے حتمی نتائج آنے کے بعد ان الزامات کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ بہر حال کسی جمہوری عمل کے لیے خوش آئیند نہیں ہے۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف مسلسل ملکی سیاسی عمل کے بارے میں بے یقینی اور تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے ۔ بصورت دیگر دو حلقوں میں مقابلہ کرنا اور باقی حلقوں میں ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کرنا ، ناقابل فہم سیاسی حکمت عملی ہے۔ تحریک انصاف کو اصولی طور سے ان ضمنی انتخابات میں پوری قوت سے مقابلہ کرکے حکومت کو باور کرانا چاہئے تھا کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود اب بھی عوام کی حمایت سے سیاسی جمہوری عمل میں حکمران جماعت کو چیلنج کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ یہ سب نشستیں تحریک انصاف کے قابل ذکر لیڈروں کو نااہل قرار دے کر خالی کی گئی تھیں ۔ اس لیے اصولی طور سے ان حلقوں میں تحریک انصاف کو وسیع ہمدردی بھی حاصل ہونی چاہئے تھی۔ اس پس منظر میں یہ ناقابل فہم ہے کہ پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے؟
یہ مانا جاسکتا ہے کہ بوجوہ تحریک انصاف کو ضمنی انتخابات میں مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ مشکلات کا سامنا ہوتا لیکن دوسری طرف یہ عمران خان کی مقبولیت اور پارٹی کے حلقہ کی بنیاد پر ڈھانچے کا امتحان بھی ہوتا۔ یہ نشستیں چونکہ 9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کی طرف سے عسکری تنصیبات و شہدا کی یادگاروں پر حملوں کے الزام میں سزا پانے والے لیڈروں کو نااہل قرار دینے سے خالی ہوئی تھیں، اس لیے اب ان ہی حلقوں میں عوام کی حمایت ثابت کرکے تحریک انصاف اپنا یہ مقدمہ بھی عوامی عدالت سے منظور کراسکتی تھی کہ یہ وقوعہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا اور پارٹی نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی۔ حکومت، اسٹبلشمنٹ اور عدالتوں نے تحریک انصاف کا مؤقف تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے لیکن پی ٹی آئی بھی اس قومی سانحہ پر معافی مانگ کر آگے بڑھنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ اس پس منظر میں ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ سے تحریک انصاف کا یہ تاثر نمایاں ہوگا کہ وہ عوام کے سامنے سانحہ 9 مئی کا مقدمہ پیش کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکی۔ عوامی مقبولیت اور ملک میں حقیقی جمہوریت لانے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی کے لیے یہ ایک بڑی ناکامی ہے۔
دوسری طرف اگرچہ مسلم لیگ (ن) ان نشستوں پر جیت کر اپنی سیاسی و حکومتی پوزیشن مستحکم کرے گی لیکن اسے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ اس کے امیدواروں نے حکومت کی کون سی کارکردگی کی بنیاد پر ضمنی انتخابات میں ایسی نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے جن پر عام انتخابات میں اس کی مد مقابل تحریک انصاف کامیاب ہوگئی تھی۔ شہباز شریف حکومت کوئی ایسی کارکردگی پیش نہیں کرسکتی جو حلقوں میں سیاسی مقبولیت کا سبب بن سکے۔ عام طور پر انتخابات میں ووٹروں کو داخلی سیاست میں کامیابی کے نکات یاددلائے جاتےہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) مہنگائی، روزگار یا امن و امان ، کسی بھی شعبہ میں کامیابی کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ لے دے کے اس کے پاس مئی کے دوران بھارت کو شکست دینے کا دعویٰ ہے یاغزہ میں امن کے لیے عالمی کوششوں میں شامل ہوکر پاکستانی حکومت نے سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ البتہ حلقوں میں ووٹروں کو ایسی کامیابیاں متاثر نہیں کرتیں۔ انہیں رجھانے کے لیے ترقیاتی کام یا سماجی و انتظامی اصلاحات کا ریکارڈ پیش کرنا پڑتا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کامیاب نہیں ہے۔
اس پس منظر میں مسلم لیگ (ن) کو دھاندلی اور انتخاب جیتنے کے لئے ناجائز طور سے سرکاری اختیارات استعمال کرنے کے الزامات کا سامنا ہوگا اور اس کے پاس ان کا کوئی شافی جواب نہیں ہوگا۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئے ہیں جب 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد بنیادی حقوق کے تحفظ پر شدید مباحث سننے میں آرہے ہیں ۔ پاکستان کے ہیومن رائیٹس کمیشن نے بھی اس ترمیم کو عوامی حقوق و آزادیوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں میڈیا پر کنٹرول کی بحث بھی شدت اختیار کررہی ہے۔ ملک میں اگر جمہوری حکومت موجود ہے اور عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائیندے چننے کا اختیار استعمال کرسکتے ہیں تو صحافیوں کو آزادی سے رپورٹنگ کرنے اور تبصرہ کا حق کیوں نہیں دیا جاتا۔ دنیا بھر میں جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئے، آزادی رائے کو اس کی بنیادی صفت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا انوکھا ملک ہے جہاں آزادی رائے تو مفقود ہے لیکن انتخابات کے ذریعے جمہوری عمل جاری و ساری رہنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
یہ ضمنی انتخابات ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئے ہیں جب متعدد ماہرین اور تجزیہ نگار آئینی ترمیم، عدلیہ میں اتھل پتھل اور خوف ہراس کے ماحول کو جمہوریت اور سیاسی عمل کے لیے ضرر رساں قرار دے رہے ہیں۔ متعدد تبصرہ نگار تو مصر ہیں کہ ملک میں سیاسی معاملات پر اسٹبلشمنٹ کی گرفت اتنی سخت ہوچکی ہے اور سیاسی پارٹیاں اس حد تک کمزور ہوگئی ہیں کہ اب پاکستان میں سیاسی عمل عملی طور سے ختم ہوچکا ہے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوگا کہ کیا متعدد حلقوں میں ضمنی انتخابات کا کامیاب اور پر امن انعقاد ، ان اندازوں کو غلط ثابت کرے گا یا حکمران جماعت کی پراسرار کامیابی سے سیاسی جمہوری عمل کے کفن میں آخری کیل ٹھونکی جارہی ہے؟