’نپولین کا ملٹری اسکول‘
- تحریر حامد میر
- سوموار 24 / نومبر / 2025
ایفل ٹاور پوری دنیا میں فرانس کی پہچان ہے لیکن ایفل ٹاور کے بالکل سامنے ملٹری اسکول پیرس واقع ہے ۔ یہ اسکول ایفل ٹاور سے زیادہ پرانا ہے ۔ آج کل یہ ملٹری اسکول انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹڈیز ان نیشنل ڈیفنس کہلاتا ہے ۔
یہ دراصل فرانس کا جی ایچ کیو ہے جس نے نپولین بونا پارٹ جیسا عظیم جرنیل پیدا کیا ۔ نپولین نے 1785 میں اس ملٹری اسکول سے تربیت حاصل کی اور جب وہ فرانس کا حکمران بنا تو اُس نے اپنا ہیڈ کوارٹر اسی ملٹری اسکول میں قائم کر لیا ۔ اس ملٹری اسکول کی دوسری منزل پر اس کا دفتر تھا جہاں سے ایفل ٹاور نظر آتا ہے ۔ 21 نومبر 2025 کو نپولین کے دفتر میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں انٹرنیشنل سیشن فار دی انڈو پیسفک کے مندوبین کو ملٹری اسکول کی طرف سے خصوصی اسناد جاری کی گئیں ۔ ان اسناد کو فرنچ زبان میں ڈپلومہ کہا جاتا ہے اور ڈپلومہ حاصل کرنے والوں میں یہ بندہ ناچیز بھی شامل تھا۔
یہ کالم پڑھنے والے سوچیں گے کہ فرانس کے ایک ملٹری اسکول سے کسی صحافی کو ڈپلومہ کیسے جاری کیا جا سکتا ہے؟ سوال بالکل جائز ہے لیکن جواب دینے سےپہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس ملٹری اسکول میں صرف فوجی افسران کی نہیں بلکہ سویلین ایگزیکٹوز کی بھی تربیت ہوتی ہے۔ اس وسیع و عریض ملٹری اسکول میں پچاس سے زائد ادارے قائم ہیں جن میں کچھ تھنک ٹینکس بھی ہیں ۔ انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹڈیزان نیشنل ڈیفنس نے کچھ تھنک ٹینکس کے تعاون سے بحر ہند کے ممالک کو درپیش بڑے چیلنجز کے بارے میں ایک چار روزہ کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس میں 32 ممالک کے 55 مندوبین شامل تھے۔ مندوبین کی اکثریت کا تعلق بحری ، بری اور فضائی افواج سے تھا تاہم کچھ انٹیلی جینس ایجنسیز کے افسران، دفاعی ماہرین اور تین صحافی بھی کانفرنس میں مدعو تھے ۔
نپولین بونا پارٹ کے دفتر میں اسناد جاری کرنے کی تقریب ختم ہونے کے بعد الوداعی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ نپولین کے اس دفتر میں ابھی تک اُس کی میز اور کرسی اصلی حالت میں موجود ہے ۔ دفتر کی دیواروں پر اُس کی تصاویر اور وہ اسناد آویزاں ہیں جو اسی ملٹری اسکول سے جاری کی گئیں ۔ مندوبین نپولین کی میز اور کرسی کے ساتھ کھڑے ہو کر تصاویر بنوا رہے تھے ۔ فرنچ آرمی کے ایک باوردی افسر نے مجھے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوج نے اس اسکول پر قبضہ کرلیا تھا لیکن نپولین کے دفتر کو زیادہ نقصان نہیں پہنچایا تاہم دفتر کی دیوار پر گولی کا ایک نشان موجود تھا جسے مٹایا نہیں گیا ۔ گولی کا یہ نشان ملٹری اسکول کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔
اس اسکول کی لائبریری میں اہم موضوعات پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ لائبریری میں تاریخ اسلام اور سیرت النبیﷺ سمیت تمام مذاہب کے بارے میں کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے اور اس ذخیرے کو اکٹھا کرنے کا کام بھی نپولین نے شروع کیا تھا جو مذاہب کے تقابل میں بڑی دلچسپی رکھتا تھا۔ نپولین نے 1812 میں ماسکو پر قبضہ کر لیا تھا لیکن روسی فوج نے شہر سے بھاگتے ہوئے ماسکو کو جلا کر راکھ کر دیا تاکہ نپولین کو شہر کے وسائل سے فائدہ حاصل کرنے کا موقع نہ ملے ۔ شدید سردی اور برفباری نے نپولین کی فوج کو چند ہفتوں کے بعد ماسکو سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔
دو سال کے بعد روسی فوج نے آسٹریا اور جرمنی کی مدد سے پیرس پر قبضہ کر لیا تھا اور یوں نپولین کا زوال شروع ہوا۔ لیکن وہ آج بھی فرانس کا ہیرو ہے ۔ فرانس آج بھی روس کو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ یورپ کیلئے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔ اور اس سال 13 نومبر کو فرانس نے فضا سے سمندر میں ایک نیوکلیئر میزائل کا کامیاب تجربہ کرکے روس کو پیغام دیا ہے کہ اگر اُس نے یوکرائن کے بعد کسی اور پورپی ملک کے خلاف جارحیت کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ فرانس یورپ کا واحد ملک ہے جو بحر ہند کےممالک کا حصہ ہے ۔ بحر ہند کے کچھ جزائر آج بھی فرانس کا حصہ ہیں اور وہاں آٹھ ہزار فرنچ فوجی تعینات ہیں ۔ بحرہند کے ممالک جنوبی افریقہ سے شروع ہوتے ہیں۔ ان میں کینیا، صومالیہ، سوڈان، مصر ، عراق ، ایران ، پاکستان، بھارت ، سری لنکا، مالدیپ ، بنگلہ دیش ، تھائی لینڈ ، ملائشیا، انڈونیشیا ، سنگا پور، ویت نام، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں ۔ روس اور چین بھی بحرہند میں متحرک ہیں لیکن ان دونوں کو انڈو پیسفک کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا ۔
اس کا نفرنس میں میری ٹائم سکیورٹی ، موسمیاتی تبدیلیوں ، دہشت گردی اور ڈس انفارمیشن جیسے موضوعات زیر بحث رہے ۔ یہ کانفرنس کوئی پبلک فورم نہیں تھا اور کمرہ بند کانفرنس میں کچھ ممالک کے خفیہ اداروں کے ذمہ داران بھی بطور مندوب شرکت کر رہے تھے۔ اس لئے کانفرنس کی تمام کارروائی آف دی ریکارڈ تھی ۔ میں اس کانفرنس میں مختلف مندوبین کی طرف سے کہی گئی اہم باتوں کا ذکر نہیں کر سکتا ۔ میں تو صرف کانفرنس میں زیر بحث آنے والے موضوعات کی اہمیت کو واضح کر رہا ہوں اور نپولین کے اسکول کی تاریخ بیان کر رہا ہوں۔ اس پوری کانفرنس میں صرف ایک معاملہ ایسا تھا جسے میڈیا میں آن دی ریکارڈ لانے کی مجھے اجازت ملی ۔ جب ہم پیرس سے ٹرین کے ذریعہ شمال مغربی فرانس میں لینڈو ویزو نیول ائر بیس پر پہنچے تو یہاں ہمیں رافیل جنگی جہازوں کے ایک ماہرپائلٹ کیپٹن لونائے نے بریفنگ دی ۔ کیپٹن لونائے لینڈو ویزو کے بیس کمانڈر بھی ہیں ۔ وہ ہمیں اپنے بیس پر موجود افرادی قوت اور اس کی اہمیت بتا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سمندر کے کنارے واقع اس بیس پر 94 بحری جنگی جہاز ہیں جن پر 9800 فوجی ہیں۔ دس نیو کلیئر سب میرینز میں 3200 فوجی ہیں اور 190 فضائی جنگی جہازوں کیلئے 4100 افراد تعینات ہیں۔
پھر انہوں نے بتایا 190 جنگی جہازوں میں 40 رافیل شامل ہیں اور انہی میں سے ایک رافیل سے 13 نومبر کو نیوکلیئر میزائل فائر کیا گیا جس کے ساتھ وار ہیڈ نہیں تھا۔ لیکن فرنچ فورسز کا تجربہ کامیاب رہا ۔ پھر انہوں نے بتایا کہ فرنچ نیوی دنیا کی واحد نیوی ہے جو سمندر میں ائر کرافٹ کیرئر سے نیو کلیئر میزائل فائر کر سکتی ہے اور ائر کرافٹ کیرئر پر لینڈ کرنے والے رافیل جہاز عام رافیل جہازوں سے ذرا مختلف ہوتے ہیں ۔ ان کے بقول اب بھارت یہ والے رافیل بھی خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے ۔ یہ وہ موقع تھا جب میں نے کیپٹن لونائے سے پوچھا کہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں رافیل جہازوں کا راڈار سسٹم کیسے جام ہو گیا اور تاریخ میں پہلی دفعہ پاکستان کے ہاتھوں رافیل کیسے تباہ ہو گئے؟ کیپٹن لونائے نے جواب دیا کہ رافیل کے تباہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان ائر فورس کی تیاری بہت بہترتھی ۔ جب ایک ہی وقت میں دونوں اطراف سے 140 جنگی جہاز فضا میں بلند ہوئے تو کسی بھی جہاز کو نشانہ بنانا آسان تھا۔ اس مشکل صورتحال میں پاکستان ائر فورس نے زیادہ مستعدی اور قابلیت دکھائی۔ ان کا خیال تھا کہ رافیل کو گرائے جانے میں ٹیکنالوجی کا کوئی قصور نہیں تھا۔ رافیل کی ٹیکنالوجی آج بھی چین کے جے ٹین سی سمیت دنیا کے کسی بھی فائٹر جیٹ پر غالب آ سکتی ہے لیکن فائٹر جیٹ کو چلانے والا بھی تو مستعد اور قابل ہونا چاہئے۔
یہ ریمارکس وہاں موجود ایک بھارتی مندوب کو بڑے ناگوار گزرے ۔ بھارتی مندوب نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں دعوی کیا کہ بھارت کا کوئی رافیل تباہ نہیں ہوا۔ یہ سب چین کی ڈس انفارمشن تھی۔ کیپٹن لونائےنے اس بوکھلاہٹ کو نظر انداز کردیا اور پاکستان ائر فورس کی تعریف جاری رکھی ۔ جب اُن کا سیشن ختم ہوا تو میں نے اُن سے درخواست کی کہ کیا میں آپ کی گفتگو کو رپورٹ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے اجازت طلب کرنے پر پہلے شکریہ ادا کیا اور پھر مجھے اجازت دے دی ۔ میں نے پوچھا کیا میں آپ کی تصویر لے سکتا ہوں ؟ انہوں نے تصویر لینے کی بھی اجازت دے دی ۔
نپولین کے دیس کا یہ افسر واقعی بہت بہادر تھا جسے سچائی سامنے لانے پر کوئی خوف نہ تھا ۔ ذرا سوچیے! اس کانفرنس کی باقی آف دی ریکارڈ کارروائی کتنی اہم ہوگی ؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)