جمہوریت، سیاست اور پاکستان
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 24 / نومبر / 2025
ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی واضح کامیابی کے بعد پارٹی قیادت اسے عوامی مقبولیت کے ثبوت کے طور پر پیش کررہی ہے۔ بلکہ یہ نکتہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ان انتخابات نے تحریک انصاف کی ’مقبولیت‘ کے دعوؤں سے ہوا نکال دی ہے۔ اگرچہ اس کے متبادل بیانیہ کے طور پر پی ٹی آئی اور اس کے حامی دھاندلی اور کم تعداد میں ووٹنگ کا حوالہ دیتے ہیں۔
ضمنی انتخابات میں دو عوامل روائیتی طور سے مسلمہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان میں ووٹر کی دلچسپی کم ہوتی ہے اور وہ عام انتخابات کے مقابلے میں کم تعداد میں گھروں سے نکلتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اس انتخاب سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان کے ضمنی انتخابات میں دوسرا عنصر یہ بھی موجود رہا ہے کہ ان میں عام طور سے برسر اقتدار پارٹی کے امید وار کامیاب ہوتے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں بھی یہ دونوں باتیں درست ثابت ہوئی ہیں لیکن ملکی سیاسی حالات کے وسیع تناظر اور تحریک انصاف کی طرف سے عوام میں ایک نئی امنگ اور سیاسی شعور پیدا کرنے کے دعوؤں کی روشنی میں ان انتخابات سے مختلف نتائج کی توقع تھی۔
تحریک انصاف کی طرف سے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے اور کسی بھی حلقے میں سرگرمی سے انتخابی مہم کا حصہ نہ بننے کے سبب یہ سوال ضرور سامنے آیا ہے کہ کیا پی ٹی آئی ملکی سیاست سے مایوس ہوچکی ہے؟ کیوں کہ اگر کوئی پارٹی ملک کی سب سے طاقتور سیاسی تحریک ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور اس کا یہ کہنا بھی ہو کہ وہ کبھی عوام کے حق انتخاب و حکمرانی سے دست بردار نہیں ہوگی ، تو ایسی جماعت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود مقابلے پر کمربستہ رہے گی تاکہ عوام مایوس نہ ہوں اور ملک میں سیاسی عمل کی امید باقی رہے۔ البتہ تحریک انصاف کی قیادت حالیہ اہم ضمنی انتخابات کو اس تناظر میں دیکھنے میں ناکام رہی ۔ حالانکہ جن نشستوں پر انتخاب منعقد کرایا گیا تھا، ان پر تحریک انصاف ہی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے جنہیں سانحہ 9 مئی میں سزائیں پانے کی بنا پر اسمبلیوں کی سیٹوں سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اس لیے ان حلقوں میں تحریک انصاف کی کامیابی کا امکان روشن ہونا چاہئے تھا۔ خاص طور سے جب پارٹی یہ دعویٰ بھی کرتی ہو کہ اس کی مقبولیت نہ صرف یہ کہ برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہؤا ہے۔ ضمنی انتخاب ہی ایک ایسا موقع تھا جب پی ٹی اپنے اس دعوے کا دستاویزی ثبوت فراہم کرکے اپنی سیاسی طاقت کی دھاک بٹھا سکتی تھی۔ لیکن پارٹی نے اس کے برعکس حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
بعد از انتخابات دھاندلی کے دعوے اگر عام انتخابات کے بعد کارگر نہیں ہوسکے تو ضمنی انتخابات میں ایسے الزامات کا کوئی خاص نتیجہ بر آمد نہیں ہوسکتا۔ انتخابی دھاندلی کا الزام بھی ایک ایسا فرسودہ نعرہ بن چکا ہے جس سے تحریک انصاف کی سیاسی پوزیشن واضح نہیں ہوسکے گی اور نہ ہی یہ ثابت ہوگا کہ پی ٹی آئی سے انتخاب چوری کیے گئے ہیں کیوں کہ اس نے تو خود ہی ان انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا۔ یہ صورت حال ایک طرف تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی اور مستقبل میں اس سے امید وابستہ کرنے کے حوالے سے اہم ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کو جلد یا بدیر بطور سیاسی جماعت اس سوال کا جواب دینا پڑے گا کہ اگر تحریک انصاف انتخابی عمل میں مقابلہ کرکے سیاسی میدان مارنے سے گریز کرے گی تو اس کے پاس اقتدار تک پہنچنے کا متبادل کون سا راستہ ہے؟ اگرچہ عمران خان متعدد بار یہ کہتے ہوئے اس طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ پارٹی سے براہ راست بات چیت کرے۔ البتہ یہ راستہ اسٹبلشمنٹ کے واضح اور دو ٹوک جواب کے بعد بند ہوچکا ہے۔ موجودہ عسکری قیادت تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی معاملات طے کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
کسی جمہوری نظام میں تبدیلی لانے یا کسی سیاسی پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے انتخابات کے علاوہ اگر کوئی دوسرا طریقہ مؤثر ہوسکتا ہے تو وہ مقبولیت اور عوامی تائید کا عملی ثبوت فراہم کرنے کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ یعنی کوئی سیاسی لیڈر یا پارٹی ایسا عوامی احتجاج برپا کرے کہ ملک میں انقلاب کی صورت حال پیدا ہوجائے۔ کاروبار حکومت معطل ہوجائے اور کسی بھی حکومت کے لیے کام کرنا ممکن نہ رہے۔ ایسے میں کوئی ریاستی ادارہ عام طور سے فوج یا عدلیہ ،مداخلت کرکے غیر مقبول حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کرے۔ اور نئے انتخابات کے ذریعے ایک نئی حکومت لانے کا اہتمام کیا جائے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جوپارٹی ایسا انقلابی احتجاج منظم کرنے میں کامیاب ہوگی، اس کے بعد منعقد ہونے والے کسی انتخاب میں اسی کو کامیابی نصیب ہوگی۔ اسے منی انقلاب بھی کہا جاسکتا ہے۔ یعنی ملک کا آئینی پارلیمانی ڈھانچہ بھی کام کرتا رہے لیکن مقبول احتجاج کے بعد مؤثر و طاقت ور ادارے نئی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں۔
تحریک انصاف ایسا انقلابی احتجاج منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایک زمانے میں عمران خان عوامی احتجاج کے لیے سونامی کی اصطلاح استعمال کیا کرتے تھے لیکن 2022 میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد عمران خان خود یا ان کی حراست کے بعد ان کی پارٹی ایسا کوئی احتجاج منظم نہیں کرسکی۔ موجودہ حالات میں اول تو مستقبل قریب میں عمران خان کی رہائی کا امکان نہیں ہے ۔ البتہ اگر وہ کسی صورت جیل سے رہا ہوجائیں تو کامل یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھی عوام کا کوئی ایسا مظاہرہ منظم کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے جو اسلام آباد میں حکومت کی چولیں ہلا دے۔
نومبر 2024 میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خیبر پختون خوا حکومت کے تعاون سے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ احتجاج کامیاب نہیں ہؤا تھا اور وہ خود احتجاج کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کو پولیس و سکیورٹی فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ کر موقع سے فرار ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد سے وہ خود بھی گرفتار ہیں اور جیل میں سزا بھگت رہی ہیں۔ ان حالات میں تحریک انصاف یا ملک کی دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیے کسی تبدیلی کے لیے انتخابات میں حصہ لینے اور کسی بھی طرح عوام کے حوصلے بلند رکھنا ضروری ہے تاکہ سیاسی جمود ختم کرکے تبدیلی کی امید قائم رکھی جائے۔
اس وقت ملک میں نام نہاد ہائیبرڈ نظام کام کررہا ہے جس میں مخصوص سیاسی جماعتیں اور عسکری قیادت اقتدار میں حصہ داری کے اصول پر خوش دلی سے عمل پیرا ہیں۔ حال ہی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے بارے میں بھی یہی اعتراض سامنے آیا ہے کہ اس میں فوج کی سیاسی حیثیت مضبوط کی گئی ہے اور عدالتی نظام کو مزید پابند کیا گیا ہے۔ عام خیال ہے کہ اس طریقے سے ملک میں جمہوریت کی رہی سہی امید بھی ختم ہوجائے گی۔ جیسا کہ ضمنی انتخابات کے عمل سے واضح ہؤا ہے کہ موجودہ نظام کی مخالفت کرنے والے عناصر ضمنی انتخابات میں اسے چیلنج کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس سے بعض تجزیہ نگار اس بحث کو ضروری سمجھنے لگے ہیں کہ ملک میں سیاسی عمل مردہ ہوچکا ہے اور اب شاید کسی ایسے نظام کی طرف پیش رفت ہی ملک کے وسیع تر مفاد میں ہو جیسا کہ ایک جماعتی یا شاہی نظام والے ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے۔ اس حوالے سے چین اور سعودی عرب کی مثال دیتے ہوئے یہ دلیل دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ اگر وہاں پر عوام جمہوریت نہ ہونے کے باوجود نظام حکومت سے مطمئن ہیں اور یہ ممالک خوشحالی کا سفر طے کررہے ہیں تو پاکستان میں کیوں ایسا ممکن نہیں ہوسکتا؟ یہ ایک اس صورت میں ایک جائز سوال ہوسکتا تھا اگر پاکستان کی آبادی اور وسائل کا توازن بھی ان دو ممالک سعودی عرب یا چین جیسا ہوتا۔ سعودی عرب اپنے بے پناہ مالی وسائل کی بنیاد پر اپنے شہریوں کی بنیادی ضرورتیں بخوبی پوری کررہا ہے۔ جبکہ چین نے تین دہائی تک آبادی پر کنٹرول کرنے اور تجارتی و تکنیکی طور سے آگے بڑھنے کی کامیاب پالیسی اختیار کی ۔ اس کے ثمرات وہاں کے عوام تک بھی پہنچے۔
اس کے برعکس پاکستان کی آبادی روز افزوں ہے اور وزیر خزانہ کے بار بار انتباہ کے باوجود نہ تو اس حوالے سے کوئی قانون سازی ہوسکی ہے اور نہ ہی آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے دیگر اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس کے برعکس ملک میں ایسا مذہبی ماحول پیدا کیا گیا ہے جس میں لوگوں کو کم بچے پیدا کرنے کی تلقین کرنے والے کو اللہ کی حاکمیت کا باغی قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اس نظریہ کے مطابق اللہ مخلوق کے رزق کا ذمہ دار ہے ، اس لیے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسے میں پاکستان جیسا ملک جو ایک جمہوری عمل کے نتیجے میں قائم ہؤا تھا، اس میں کسی نہ کسی طریقے سے جمہوری سیاسی عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ یہ تو قابل فہم ہے کہ پابندیوں، پکڑ دھکڑ اور ساز باز کے ایک خاص طریقہ کار کے تحت سیاسی پارٹیاں غیر مؤثر ہوجاتی ہیں اور مایوسی کے ماحول میں ایک بڑی جماعت بھی سیاسی عمل سے گریز میں عافیت سمجھتی ہے۔ جیسا کہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے طریقے سے نوٹ کیا جاسکتاہے۔
البتہ ملک میں نام نہاد ہی سہی آئین کے تحت حکومت قائم ہے، عدالتیں کام کررہی ہیں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی نہیں ہے۔ بس یہ دیکھنا ہے کہ کوئی ایسا زیرک اور حوصلہ مند لیڈر سامنے آئے جو مایوسی کے اس ماحول کو امید میں تبدیل کرنے کے لئے عوام کو تحریک دے سکے۔